ڈارون کا نظریہ جمود
یہ جو ہم انسان نما مخلوق ہیں ہم ہیں کیا؟ چھوٹے ہوتے اگر کوئی الٹی سیدھی حرکت کر بیٹھتے تو بڑے ہمیشہ یہی کہتے ”بندے دا پتر بن“ یعنی انسان کے بچے بنو مطلب انسان بنو۔ یہ انسان ہے کیا؟ انسان بنتے کیسے ہیں؟ مشاہدہ بتاتا ہے، تاریخی قرائن بتاتے ہیں کہ ہم نے یعنی استاد ڈارون کے بندر نے ابھی تک انسان ہونے کے متعلق کوئی جواز ہیش نہیں کیا ہے سائنسی اور تکنیکی طور پر بے شک اس بندر نے بڑی ترقی کی ہے مگر انسانیت کی طرف ایک قدم بھی نہیں اٹھایا گیا۔
اس سائنسی ترقی کے بارے بھی جانتے جائیے وہ یہ کہ آپ اس کا بڑی باریک بینی سے مطالعہ کیجئے عمیق تجزیہ کیجئے آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ جو ترقی یعنی سائنسی ترقی کے نام پر راگ الاپے جاتے ہیں یہ جو خلا کی تسخیر اور ستاروں پر کمندیں ڈل چکی ہیں اس کا ہمیں کیا فائدہ ہمارے لیے تو یہ کرایہ ہی ہے کرایہ، رینٹ۔ آخرالامر یہ سب تماشا سیٹھ کو مضبوط سے مضبوط تر بناتا چلا جاتا ہے۔ اور سیٹھ ہی یہ تحقیق یہ تجربات، یہ تکنیک یہ سائنس اپنے معاملات کے لیے کروا رہا ہوتا ہے۔
اور وہ اسی طرح کے نتائج لیتا ہے جو اس کی ضروریات جو اس کی خواہشات کی تکمیل کرتے ہیں۔ جس وجہ سے نکالے گئے تھے وہ وجہ جوں کی توں برقرار ہے۔ گویا ہم کس قدر مستقل مزاج واقع ہوئے ہیں۔ اس معاملے کو سلجھانے کے لیے مطلب اس مخلوق کو انسان بنانے کے لیے قدرت نے اپنے نمائندے بھی بھیجے کہ انہیں سمجھائیں شاید آپ ہی کی یہ بات سمجھ جائیں۔ مگر یہ دم سیدھی نا ہو سکی بلکہ ہم نے بعض مزدور غریب نصائح کو بھی زیر تیغ کیا سولی چڑھا دیا مشقِ ستم بنایا۔
یہ بھی کس قدر خوبصورت کہانی ہے، ہماری کہانی ہمارے حالات کی کہانی کہ جب ہماری الٹی پلٹی حرکتوں سے ہمارے گھر والے تنگ آ جاتے تنگ کچھ یوں بھی آ جاتے کہ لوگ شکایات کے انبار لگا دیتے اڑوس پڑوس کے لوگ اس قدر والد گرامی کے کان بھرتے کہ چارو ناچار انہیں یہ فلمی جملے ادا کرنے ہی پڑتے کہ میرے گھر سے نکل جاؤ، میری آنکھوں سے دور ہو جاؤ، اس دہلیز پر دوبارہ قدم مت رکھنا، دفع ہو جاؤ۔ جب نکال دیے جاتے ہیں تو پھر کچھ سمجھانے والے سمجھاتے ہیں بیچ بچاؤ کرانے والے کرواتے ہیں اور یہ لوگ عمومی طور پر والد بزرگوار کے دوست ہی ہوتے ہیں جو زیادہ تر یہ اقدامات کرتے ہیں انہیں کے کہنے پر ہمارے اپنے دوست بھی ناصح کے فرائض سر انجام دیتے ہیں چونکہ ہمارے دوستوں کو مرشد والد صاحب ہی کہتے ہیں، اس کا کیا بنے گا، اسے سمجھاؤ کہ انسان بن جائے جب ہم نہیں ہوں گے تو اس کا کیا بنے گا۔ قدرت نے بھی کچھ اسی انداز سے ہمیں سمجھانے کی کاوش کی مگر کیا ہے کہ ہم بھی بگڑے ہوئے لاڈلے ہیں
” میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس۔ خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں“
انسان نا بننے کی قسم اٹھا رکھی ہے۔ پوری دنیا کے انسانوں کا تقریباً یہی حال ہے کہیں انیس بیس کا فرق ہو تو ہو مگر اس کے بھی محرکات کچھ اور ہیں یہ نہیں کہ وہ سلجھ گئے ہیں وہاں مداری کی سوٹی کا عمل دخل زیادہ ہے۔ یہ نہیں کہ بالکل انسان اور انسانیت ناپید ہو گئی ہے کوئی اکا دکا عقل سلیم رکھنے ولا بندہ مل ہی جاتا ہے جو انسان کہلانے کا مستحق ہے جو انسانیت کی مثال بن جاتا ہے جیسے ہمارے یہاں اس کی مثال عبدالستار ایدھی کی صورت، ڈاکٹر رتھ فاؤ کی صورت موجود ہے۔ انہوں نے اپنا عمل اپنا کردار لوگوں کے سامنے رکھ چھوڑا ہے۔ نا تقریریں، نا خطاب، نا تبلیغ کچھ بھی نہیں بس کام اور صرف کام، کام بھی اس مخلوق کی سیوا کا، خدمت کا اور کچھ بھی نہیں۔
کچھ روز قبل ایک دوست کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے جاپانیوں کی ترقی امن پسندی اور محبت پر بات کر رہا تھا کہ اس نے بڑی شانِ بے نیازی سے ایک جملہ اچھال دیا اور میں گنگ ہو کر رہ گیا کچھ سمجھ نا آئی کہ کیا کہوں بس سوچتا ہی رہ گیا بلکہ پھر سوچوں میں گم ہی ہو گیا جملہ کیا تھا وہ یہ کہ ”آہو بمب کھان تو بعد“ مطلب یہ کہ انہیں عقل بم کھانے کے بعد آئی ہے کہ انسان کے بچوں کی طرح رہا جائے اسی میں سب کی بھلائی ہے۔ اس سے پہلے وہ یعنی جاپانی بھی پنگے بازیوں میں شدید مشغول تھے ان کے ہاں بھی کوئی کیڑا ناہنجار بقائے باہمی کی جنگ لڑ رہا تھا۔
اچھا ہر اس بندے کو سمجھ آتی ہے جو گندم کی روٹی کھاتا ہے واقعہ یوں ہے کہ اگر کوئی جان بوجھ کر یملا بن جائے تو بن جائے۔ انسان بننے کی نفسیات بڑی سادہ سی ہے اسے ہم ایک فرد کی حرکات و سکنات سے لے کر ایک گھرانے اور ایک گھرانے سے لے کر قوموں تک یونٹ انیلسز سے سمجھ سکتے ہیں چاول کے چند دانے پتا دیتے ہیں کہ دیگ تیار ہے کہ نہیں۔
پرانی بات ہے ادھر گاؤں میرا بھتیجا عمر ”اب تو وہ ماشا اللہ انجینئر ہے“ گدھے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا اس کے دادا جان دوسری طرف کام میں مشغول تھے انہوں نے منع کیا کہ نا کرو مگر کہاں بات سمجھ آتی کچھ ہی دیر بعد جب گدھے نے جوابی کارروائی کی عمر صاحب دھڑام سے جا دیوار کو لگے بلکہ بجے بلکہ ٹھکے یوں حضور عالمِ مدہوشی میں چلے گئے اور اوپر سے دادا جی نے بھی ہلکی پھلکی زبانی بم باری کی ”ہور لے سواد“ اور مزے چکھو ”ہن سکون رہوے گا“ اب سکون رہے گا۔
بس کیڑے کے سکون کی دوا اسی عمل میں مضمر ہے اگر کوئی سمجھے تو۔ اب اسی طرح کا ایک کیڑا ہمارے پڑوسیوں کو بھی تنگ کر رہا ہے اور انسان بننے کی صلاحیت وہاں سرے سے ہی ناپید ہے اوپر سے وہ کچھ زیادہ ہی بندر ہیں ابھی تک۔ نیتن یاہو کی دیکھا دیکھی انہیں بھی کچھ کچھ اچکل ہو رہی ہے۔ اب کیا کیجئے؟ ہو تو بہت کچھ سکتا ہے مگر کیا کیجئے؟
پروفیسر ڈاکٹر بلال نواز کریمن نکلی کا واقعہ بہت شد و مد کے ساتھ سناتے ہیں کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں بہاول پور کے گرد نواح میں بھانڈ کریمن نکلی گلی میں ڈرامہ پرفارم کر رہا تھا کہ جس میں ایک نوجوان بار بار گلی کے چکر لگا رہا تھا کریمن اسے روک کر پوچھتا ہے کہ ہاں بھائی آپ کو کیا مسئلہ ہے کیوں بار بار گلی کے چکر لگا رہے ہو جب اس شخص نے کریمن غریب کو آنکھیں دکھائیں تو کریمن کہہ اٹھا نا سرکار نا ”تسی تے شریف آدمی ہو پر سانکو اپنی بہین تے شک ہے“ مطلب آپ تو بڑے اچھے آدمی ہیں مگر ہمیں اپنی بہن پر اعتبار نہیں اس لیے پوچھ رہا تھا۔
کل کلاں پھر کوئی کریمن نکلی یہ نا کہہ دے کہ بھائی اجمل قصاب پاکستانی تھا۔ بس کریمن نکلی کو تکڑا کرنے کی ضرورت ہے باقی موڈی اور یاہو کا کیڑا تو سکون میں لایا جا سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ ہم سب انسان بننے کی کوشش کریں بن جائیں تو زیادہ بہتر ہے ورنہ سیٹھ کا بارود تو بکے گا سیٹھ بارود بیچنے کے لیے کچھ بھی کرے گا۔ ہاں یہ بات ملحوظِ خاطر رہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔
چونکہ ابھی تک استاد ڈارون کا بندر پورہ بندہ نہیں بن سکا اس کے ہاتھ میں ماچس آ گئی ہے خدا خیر کرے۔


