مشتاق احمد یوسفی اور فلسفہِ موت


کیا زمیں کے اوپر کی زندگی زمیں کے نیچے کی زندگی سے بہتر ہے؟ اگر صحت ایک سنجیدہ موضوع ہے، تو کیا موت ایک طنزیہ موضوع ہو سکتا ہے؟ کیا صحت مند زندگی گزارنا اچھی زندگی گزارنے کے مترادف ہے؟ ہماری آخری نبض اور سانس کس کے لئے ہوتی ہے؟ مشتاق احمد یوسفی اپنے افسانہ ”پڑیے گر بیمار“ میں طنز کے لب و لہجہ کو اختیار کرتے ہوئے اپنے فلسفہِ موت کو پیش کرتے ہیں۔ یوسفی کے نقطہ نظر کے بموجب جب تک ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ”عافیت“ اور ”عاقبت“ کے درمیاں کوئی تضاد نہیں، ”عالم نزع“ کی وحشت سے ہلکان ہونے کے بجائے، ہم ناپائیداری کی خوبصورتی کی تعریف کریں گے۔

مصنف کے نزدیک، ہم بعد از پیدائش ہمیشہ ”درمیانی کیفیت“ میں رہتے ہیں، جس میں ہم ”افراتفری“ کے عالم میں سیدھی راہ تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ لیکن بیماری کیا ہے؟ بیماری اتنا ہی ایک جسمانی رجحان ہے، جتنا اس بات کی گواہی ہے کہ ہماری زندگی زائد المیعاد ہے۔ جب کہ مختلف عقائد یہ بتاتے ہیں کہ بیماری جسم اور ماحول کے درمیاں عدم توازن کا مظہر ہے، بیمار ہونا صرف قدرتی چیز ہے، کیونکہ بیماری ہمارے وجود کا ثبوت ہے۔ یوسفی کے نزدیک، ہماری نبض کی تال میں خلل ڈالنا جسمانی زوال نہیں بلکہ معاشرے کے لئے ہماری زندگی کا متروک ہونا ہے۔

لیکن کیا موت ہم سے ڈرتی ہے؟ یا ہمارا وجود زیادہ خوفناک ہے؟ اندھیروں میں آپ کی نظر کو دھندلا دیتا ہے، کیا ہمارے پاس اپنی تقدیر کو قبول کرنے کے لیے علم کی ضرورت ہے؟ ”فشار گور“ ایسا خوفناک نہیں جیسے لوگوں کی جہالت ہے جن کی بکواس باتیں تعمیراتی جگہ پر ہونے والے شور کی طرح ہوتی ہیں۔ ہم آنکھیں بند کر سکتے ہیں، منہ بند کر سکتے ہیں، لیکن کان بند کیوں نہیں کر سکتے؟ کیا دوسروں کی بکواس، لعنت اور ”طعنوں“ کو قبول کرنا ہمارا مقدر ہے؟

آخری میں، یوسفی پوچھتے ہیں کہ صحت، جسے انفرادی معاملہ سمجھا جاتا ہے، عوامی بحث کا موضوع کیوں بن گیا ہے۔ کیا لوگ اظہارِ ہمدردی کے ذرائع سے محروم ہو چکے ہیں؟ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ یہ نعمت وادی ہنزہ کے پانی کی طرح ٹھنڈی ہے۔ ”سب خیریت ہے“ ”سب کو حیرت ہے“ سے مختلف نہیں۔ اگر زندگی صحت کو برقرار رکھنے سے قاسر ہے، تو زندگی کس کے لئے ہے؟ اگر کوئی نہیں جان سکتا کہ ہماری یہ درمیانی کیفیت کب ختم ہو جائے گی تو ہم اپنی باقی زندگی کیسے گزاریں؟ یوسفی اپنا جواب نہیں دیتے۔ میں اپنا جواب یہاں دیتا ہوں۔

ایک بابا جی تھے جو بنوں کے بازار میں کھڑے تھے اور چکن کے خوبصورت کھلونے بیچتے تھے۔ کام کے ایک دن کے بعد ، ایک کھلونا باقی بجا تھا۔ بنوں میں سورج غروب ہو رہا تھا۔ ایک بچہ اس کے پاس آیا، جس کے ہاتھ میں قرآنِ پاک تھا، پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ بابا جی نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کھلونا اسے یہ کہہ کر دے دیا کہ اسے بھی رکھ لو اور اسے اللہ پاک کا تحفہ سمجھو۔ وہ بچہ مسکرایا اور بابا جی کو لپٹا لیا۔ کیا ہمیں کسی کا علاج کرنے کی ضرورت ہے؟

کیا ہمیں ”بنفشی شعاعوں“ سے جدید علاج کی ضرورت ہے؟ کیا وجہ ہے کہ ہمیں موت سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت ہے؟ بنوں میں سورج غروب ہو رہا تھا اور بابا جی نے ڈوبتے سورج کو دیکھ کر بچے سے زندگی کے ”رچاؤ“ کے معنی پوچھے۔ ”پیارے بچے، کیا زندگی جینے کے قابل ہے؟“ اسی لمحے دونوں کے چہروں پر اذیت کے پسینے نہیں بلکہ تشکر کے آنسو تھے۔

40 سال کے بعد ، وہ بچہ، جو ابھی کراچی کے توپ ہسپتال میں ہیڈ ڈاکٹر ہے اور بابا جی سے دیا ہوا کھلونا اپنی پیشہ ورانہ سرٹیفکیٹ کے ساتھ شیشے کی الماری میں رکھا ہے، آج بنوں جا کر بابا جی کی گھر کا دورہ کرتا ہے، جو اس بچے نے، ڈاکٹر بنے کے بعد ، بابا جی کے لئے ان کی 90 سال کی سالگرہ پر تحفہ کے طور پر خریدا تھا۔ جب دونوں اپنے گھر سے باہر نکلے اور طلوع آفتاب کی طرف دیکھ رہے تھے تو بابا جی نے اس سے پوچھا، ”پیارے بچے، کیا تمہیں میرے سوال کا جواب مل گیا ہے؟“ ڈاکٹر نے قرآنِ پاک اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے جواب دیا ”بے شک، زندگی جینے کے قابل ہے، کیونکہ اللہ اکبر۔“

Facebook Comments HS