بنگلہ دیش ہندوستانی آبی جارحیت کی زد میں
ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان پانی کی تقسیم کا قدیم تنازع دونوں پڑوسی ممالک کی آبی سرحدوں پر محیط ایک پیچیدہ جغرافیائی مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے۔ ایک مدت سے دونوں ممالک کے درمیان بہنے والے دریاؤں، دریائے گنگا، برہم پترا اور تیستا جیسے عظیم الشان دریاؤں نے نہ صرف وسیع زمین کو سیراب کیا ہے بلکہ تہذیبی زندگی کو بھی پروان چڑھایا ہے۔ مگر آج یہی دریا ہندوستانی سیاست کے بھنور میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ ہندوستان کی جانب سے فراکا بیراج، تیستا ڈیم اور ٹپائمُوخ جیسے منصوبوں نے بنگلہ دیش کی جانب جانے والے پانی کے طبعی بہاؤ میں رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں، جس سے نہ صرف بنگلہ دیش کی زرعی زمینیں پانی کی کمی کا شکار ہو رہی ہیں بلکہ سمندری پانی کی بلند ہوتی لہریں ساحل سے متصل میدانی علاقوں کو نگل رہی ہیں۔
دریائے گنگا پر تعمیر فراکا بیراج نے پانی کے توازن کو اس طرح بگاڑ دیا ہے کہ بنگلہ دیش میں دریا کا دھارا کمزور پڑ گیا ہے۔ تیستا کے پانی پر ہندوستان کے زیر تعمیر ڈیم نے شمالی بنگال کے کسانوں کے چہروں پر فکر کی شکنیں پیدا کر دی ہیں۔ اس کے علاوہ فنی دریا پر بننے والا ٹپائمُوخ ڈیم جہاں ہندوستان کو بجلی فراہم کرے گا، وہیں اس سے بنگلہ دیش کو پانی کی فراہمی متاثر ہوگی۔ بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں میں سمندری پانی کے داخل ہونے سے زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی معیشت کا دار و مدار دریائی نظام پر ہے، بنگلہ دیش کی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والے فیکٹرز جیسے کپاس، اور چاول کی فصل اور مچھلی کی افزائش وغیرہ سب دریا ہی کی بدولت ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلیوں نے اس تنازعے کو اور بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سندر بن کے جنگلات جو ان دریاؤں کے میٹھے پانی سے نمو پاتے تھے، اب سمندری نمکین پانی کی زد میں آ کر سوکھ رہے ہیں۔ زمینی کٹاؤ نے لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا ہے۔ دریاؤں کے بہاؤ میں تبدیلی نے نہ صرف ماہی گیروں کا روزگار چھینا ہے بلکہ کثیر آبادی والے ملک کو خوراک کی کمی کا شکار بھی بنا دیا ہے۔ یہ صورتحال اب محض ایک آبی تنازع نہیں رہی، بلکہ ایک انسانی المیے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
ہندوستان کا کہنا ہے کہ یہ تمام منصوبے اس کی قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔ بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب، زراعت کی ضروریات اور پانی کے تحفظ جیسے مسائل کا حل ان ڈیموں کی تعمیر میں پوشیدہ ہے۔ مگر کیا یہ ترقی اپنے پڑوسی ملک کو نقصان پہنچا کر حاصل کی جائے گی؟ بین الاقوامی قوانین کے مطابق دریائی پانی پر کسی بھی ایک ملک کا اجارہ نہیں ہو سکتا۔ گنگا کے پانی کے معاہدے جیسے اقدامات تو ہوئے ہیں مگر ان پر عمل درآمد کا معاملہ سندھ طاس معاہدے کی مانند اب بھی الجھا ہوا ہے۔
اس تنازع کا واحد حل باہمی افہام و تفہیم میں پوشیدہ ہے۔ ہندوستان کو چاہیے کہ وہ پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے سائنسی بنیادوں پر کام کرے اور اپنی سرزمین سے گزرنے والے دریاؤں کو روکنے اور ان کا رخ موڑنے کی مذموم حرکات سے باز رہے۔ باہمی مشاورت سے مشترکہ دریائی انتظامیہ قائم کی جائے جو نہ صرف پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرے بلکہ ماحولیاتی اثرات کا بھی جائزہ لے۔ ورنہ آنے والے وقتوں میں یہ آبی تنازع ایک ناسور بن سکتا ہے جو نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کرے گا بلکہ پورے خطے کی استحکام کے لیے خطرہ بن جائے گا۔ قدرت نے یہ دریا کسی ایک ملک کے لیے نہیں بنائے، ان کے قدرتی بہاؤ کا احترام کرنا تمام انسانیت کا فرض ہے۔
ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان پانی کے تنازعے کی گتھی کو سلجھانے کے لیے دونوں ممالک نے گزشتہ نصف صدی میں کئی اہم آبی معاہدے کیے ہیں، مگر ان کا عملی نفاذ اب بھی ایک پیچیدہ مسئلہ بنا ہوا ہے۔ 1994 کا گنگا پانی معاہدہ سب سے اہم سنگ میل ہے جس میں فراکا بیراج سے بنگلہ دیش کو دیے جانے والے پانی کی مقدار طے کی گئی تھی۔ یہ معاہدہ خشک موسم میں پانی کی تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا تھا، مگر بنگلہ دیش کی طرف سے اس پر اکثر یہ شکایت سامنے آتی رہی ہے کہ ہندوستان معاہدے کی شرائط پر پورا نہیں اتر رہا۔ تیستا دریا کے معاملے پر بھی بات چیت جاری ہے، مگر 2011 میں طے پانے والا تیستا کے پانی کی تقسیم کا معاہدہ اب تک حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا، جس کی وجہ سے بنگلہ دیش کے شمالی علاقوں میں پانی کی قلت ایک دائمی مسئلہ بن چکی ہے۔ دریائے فینی پر 2019 میں ہونے والا معاہدہ نسبتاً کامیاب رہا ہے، جس میں پانی کی تقسیم کے ساتھ ساتھ سیلاب کے انتظام پر بھی بات ہوئی تھی۔
دریاؤں کے سمندر سے ملنے کے مقامات یعنی طاس پر پانی کی کمی کے اثرات انتہائی گہرے اور دور رس ہوتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے ساحل پر واقع سندر بن، جو دنیا کا سب سے بڑا تمر کا جنگل ہے، میٹھے پانی کی کمی کی وجہ سے تیزی سے تباہی کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔ سمندر کا شوریدہ پانی زمین کے اندر تک سرایت کر رہا ہے جس سے نہ صرف جنگلات کی بقا خطرے میں پڑ گئی ہے بلکہ زرعی زمینیں بھی بنجر ہوتی جا رہی ہیں۔ پانی کی کمی کے باعث ڈیلٹائی خطے میں بحری کٹاؤ بڑھ رہا ہے، جس سے ہر سال سینکڑوں گھر اور کھیت سمندر کی نذر ہو رہے ہیں۔ ماہی گیری، جو بنگلہ دیش کی معیشت کا ایک اہم ستون ہے، شدید متاثر ہو رہی ہے کیونکہ میٹھے اور نمکین پانی کا توازن بگڑنے سے مچھلیوں کی افزائش کم ہو گئی ہے۔
مزید برآں، سمندری سطح میں اضافے اور دریائی پانی کی کمی کے ملاپ نے آبی ذخائر کو آلودہ کر دیا ہے، جس سے پینے کے صاف پانی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ خلیج بنگال کے قریب واقع علاقوں میں زمینی کٹاؤ اور نمکین پانی کے دباؤ نے لاکھوں افراد کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے۔ اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو آنے والی دہائیوں میں بنگلہ دیش کے ساحلی علاقے رہنے کے قابل نہیں رہیں گے، جس سے نقل مکانی کا ایک نیا بحران جنم لے سکتا ہے۔ جو بنگلہ دیش جیسے گنجان آبادی والے ملک کے لیے ایک بڑے مسئلے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
ہندوستان اور بنگلہ دیش دونوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف موجودہ معاہدوں پر سختی سے عمل کریں بلکہ نئے اور جامع معاہدوں کی تشکیل کریں جو دریاؤں کے پورے نظام کو سائنسی بنیادوں پر منظم کریں۔ دونوں ممالک کو مشترکہ آبی انتظامیہ قائم کرنی چاہیے جو نہ صرف پانی کی تقسیم کو کنٹرول کرے بلکہ ماحولیاتی اثرات کا بھی جائزہ لے۔ ورنہ یہ تنازع نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کرے گا بلکہ پورے خطے کے ماحولیاتی توازن کو بھی تہس نہس کر دے گا۔ اللہ نے یہ دریا سرحدوں کی قید میں باندھ کر نہیں تخلیق کیے، ان کے قدرتی بہاؤ کا احترام انسانیت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان اپنے پڑوسی ممالک کو کبھی فائدہ پہنچانا نہیں چاہتا مگر وہ یہ بھول جاتا ہے کہ چین بھی اپنی سر زمین سے ہندوستان میں داخل ہونے والے دریاؤں کا رخ موڑ کر اسے بڑی مشکل سے دوچار کر سکتا ہے۔


