معذور افراد کی زندگی: ہماری بے حسی کا آئینہ
ایک دن ایک شخص، کسی دوسرے کا ہاتھ تھامے، میرے دفتر میں داخل ہوا۔ ساتھ آنے والے نے کرسی کھینچ کر اُسے بٹھایا اور میری طرف دیکھ کر بولا:
”سر، اِن کا مسئلہ حل کر دیں۔“
میں نے نرمی سے پوچھا، ”جی بھائی، کیا مسئلہ ہے؟“
مگر میری آواز اُس تک نہ پہنچ سکی۔ کیونکہ وہ سن نہیں سکتا تھا۔
اُس کے ساتھی نے آہستہ سے بتایا:
”انہیں اونچا سنائی دیتا ہے اور ان کی بینائی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ یہ ہمارے محلے کی مسجد میں رہتے ہیں۔ نہ ان کا اپنا کوئی گھر ہے، نہ ہی روزگار۔ لوگ کھانا دے دیتے ہیں۔ والدین کا انتقال ہو چکا ہے، بہن بھائی بڑے ہو چکے ہیں۔ چھوٹے بھائیوں کی شادیاں ہو چکی ہیں اور سب اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہیں۔ کوئی بھی انہیں اپنے ساتھ رکھنے کو تیار نہیں۔“
یہ سن کر دل لرز سا گیا۔
میں نے فوراً اُس کے چھوٹے بھائی کا نمبر لیا اور اُسے کال کی۔ میں نے کہا:
”اپنے بڑے بھائی کی حالت پر ذرا غور کیجیے، وہ کن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں!“
مگر جواب میں صرف بے حسی سننے کو ملی:
”مہنگائی اتنی ہے، ہم اپنے بیوی بچوں کا خرچ مشکل سے چلا رہے ہیں۔ انہیں کیسے سنبھالیں؟“
اور کال بند ہو گئی۔
یہ بے حسی تھی یا خود غرضی کا ننگا چہرہ۔ جو بھی تھا، دل دکھ سے بھر گیا۔
میں نے دفتر میں فوری طور پر معذوری کے سرٹیفکیٹ کی درخواست جمع کروا دی تاکہ انہیں کسی قسم کی سرکاری مالی امداد دی جا سکے۔
دوسری کہانی، مگر وہی دکھ
میرے ذہن میں ایک اور منظر تازہ ہے :
ایک پچاس سے چھپن سال کا شخص، جس کی آواز درد سے لبریز تھی، میرے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ اُسے اُس کے اپنے گھر والوں نے صرف اس لیے نکال دیا تھا کہ وہ نابینا ہو چکا تھا۔
زندگی بھر کی جمع پونجی، گھر، عزت۔ سب چھین لیا گیا۔
اب وہ زمانے کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔
یہ صرف دو کہانیاں نہیں۔
یہ صرف دو قصے نہیں ہیں۔ ہر روز کئی معذور افراد میرے پاس آتے ہیں۔
میں ان کے مسائل سنتا ہوں، حل تلاش کرتا ہوں، کاغذی کارروائیاں مکمل کرواتا ہوں۔
مگر اُن کی کہانیاں میرے دل کو چھو جاتی ہیں۔ یہ کہانیاں چیخ چیخ کر بتاتی ہیں کہ معذور افراد کی زندگی کتنی تنہا، کربناک اور رنگوں سے خالی ہوتی ہے۔
اگر آج کا معاشرہ اُنہیں بوجھ سمجھ رہا ہے، تو اس میں ہم سب برابر کے ذمہ دار ہیں۔
نا انصافی کا آغاز: دفتر سے پہلے، گھر سے
معذور افراد کے ساتھ نا انصافی کی شروعات کسی دفتر یا بازار سے نہیں ہوتی۔ بلکہ ان کے اپنے گھر سے ہوتی ہے۔
جب کوئی بچہ معذوری یا ذہنی کمزوری کے ساتھ پیدا ہوتا ہے، تو اُسے وہ تعلیم، تربیت اور روشنی سے بھرا مستقبل نہیں ملتا جو صحت مند بچوں کا حق تصور کیا جاتا ہے۔
ماں، باپ، بہن بھائی سب اُسے بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔
یہ رویہ انسانیت، انصاف اور مساوات کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
اور جب وہ بچہ گھر کی دہلیز پار کرتا ہے، تو سارا معاشرہ اُس کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔
تعلیمی ادارے اُسے نظرانداز کرتے ہیں۔
نوکریاں صرف اس لیے نہیں ملتیں کہ وہ ”نارمل“ نہیں۔
مذاق، طعنے، ناموں سے پکارنا۔ یہ سب اُس کے اعتماد کو چھین لیتے ہیں۔
اگر کوئی ہمت کر کے آگے بڑھنا بھی چاہے تو معاشرتی دیواریں اُسے روک لیتی ہیں۔
آخرکار وہ واقعی ایک بوجھ بن جاتا ہے۔ وہ بوجھ نہیں جو اُس نے چُنا ہو، بلکہ جو اُسے بنا دیا گیا۔
ہماری ذمہ داری: صرف رحم نہیں، برابری بھی
کیا ہمارا فرض صرف ترس کھانے تک محدود ہے؟
نہیں!
ہمیں چاہیے کہ معذور افراد کو وہ عزت، محبت اور برابری دیں جو ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔
رحم اُن کا حق نہیں۔ موقع اُن کا حق ہے۔
ان کے حوصلے توڑنے کے بجائے، ہمیں انہیں ہمت دینی چاہیے۔
ان کا ہاتھ تھام کر، اُنہیں زندگی کے سفر میں آگے بڑھنے میں مدد دینی چاہیے۔ تاکہ وہ کسی مقام تک پہنچ کر عزت، سکون اور خوشی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
وہ کسی مسجد کے کونے میں پڑے رہنے کے لیے پیدا نہیں ہوئے۔
نہ ہی اس لیے کہ وہ ہر وقت دوسروں کی مدد اور محبت کے منتظر رہیں۔
انہیں جینے کا پورا حق ہے۔ مکمل عزت اور امتیاز کے ساتھ۔
اور یہ حق دینا۔ ہمارا اخلاقی، معاشرتی، اور انسانی فریضہ ہے۔


