متوقع پاک بھارت جنگ: سوشل میڈیا کے سنگ


ہم جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا نے ہماری زندگیوں کو بالکل ایسے ہی بدل دیا ہے جیسے تین دہائیاں پہلے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی عام لوگوں تک رسائی نے بدلا تھا۔ سوشل میڈیا نے تو وہ سب کچھ وقت سے پہلے ہمارے سامنے واشگاف کر دیا ہے جو عام طور پر قوموں کی تباہی اور اُن پر مسلط ہو جانے والوں کے زوال کے بعد محققین اور مورخ سامنے لے کر آتے تھے۔ جیسے ہمیں بہت دیر کے بعد معلوم ہوا کہ برصغیر پر قابض انگریز تمام ہندوستانیوں سے نفرت کرتے تھے اور اُن کا سیدھا سا مطلب یہ تھا کہ وہ دولت سے مالا مال ہندوستان پر بغیر کسی مشکل کے حکومت کرتے رہیں، بالکل ایسے ہی جیسے فرانس، ہالینڈ، پرتگال اور بیلجیم وغیرہ اپنے اپنے مفتوحہ علاقوں میں کرتے چلے آرہے تھے۔ اگر مزید وضاحت درکار ہو تو اس مثال کو دیکھا جاسکتا ہے جیسے ہمارے اکثر مسلمانوں کو بہت زمانوں کے بعد یہ معلوم ہوا ہے کہ دوسرے مذاہب اور بعض اوقات اپنے ہی ہم مذہب مقدس اسلامی شخصیات کی توہین میں ملوث ہیں۔ بالکل ایسے ہی پڑوسی ملک میں آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے کروڑوں ہندوؤں کو یقین دلا دیا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں نے ہندوستانیوں اور اُن کے مذاہب کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہندوؤں کی اکثریت اپنے ماضی کو پوتر کرنا چاہتی ہے اور مسلمان ناموں تک کو تاریخ، عمارات اور شہروں سے کھرچ کر نکال رہی ہے۔

اب ہم تاریخ اور کتب سے برآمد ہونے والی دانش سے زیادہ سوشل میڈیا کی پھیلائی ہوئی معلومات کے اسیر ہیں اور مذہب، سیاست، معیشت، بیرونی دنیا کے بارے میں جانکاری یا معلومات حتی کہ جدید زمانے کی جنگوں کے بارے میں تمام تر تصورات سوشل میڈیا سے اخذ کر رہے ہیں۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ ہمارے روایتی میڈیا اور سوشل میڈیا میں صرف نام کا فرق باقی بچا ہے بلکہ بعض اوقات قومی میڈیا سوشل میڈیا کو بھی مات دے دیتا ہے۔ قومی میڈیا مالکان چاہتے ہیں کہ اُن کے اخبارات و رسائل اور ٹی وی چینلز اُتنے ہی منافع بخش اور سود مند ہوں جتنا سوشل میڈیا ہے۔

آج کل پاکستان اور بھارت کا سوشل میڈیا دونوں ملکوں میں متوقع جنگ کی تیاری اور نتائج کی جزئیات تیار کرنے میں مصروف ہے اور اطراف کے جدید جنگی ماہرین کی تعداد ڈیڑھ ارب سے زیادہ ہے، جو اپنی اپنی حکومتوں کو فیصلہ کُن معرکے کے لیے تیار کرنے میں جُتے ہوئے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ جیسا یہ سوشل میڈیا ہے اطراف کی لیڈرشپ بھی تقریباً ویسی ہی ہے جو دن رات غیر ضروری موشگافیوں میں مصروف ہے۔

اگر تھوڑا گھوم کر دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ دو سال پہلے مسلم سوشل میڈیا نے حماس کے ساتھ ہی اسرائیل پر حملہ کیا اور ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ چند دنوں میں ہی اسرائیل صفحہ ہستی سے معدوم ہو جائے گا، لیکن جب بمباری اور سوشل میڈیا کے بادل چھٹے تو معلوم ہوا کہ غزہ کی پٹی معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ اتنی زیادہ کوشش اور خواہش کے بعد بھی پاک بھارت جنگ ہوتی ہے کہ نہیں۔ خدانخواستہ اگر ہوجاتی ہے تو پھر جب تک کوئی فیصلہ نہیں ہوتا سوشل میڈیا ہم کو کیا دکھائے گا؟ اور اگر نہیں ہوتی تو پھر یہ سوشل میڈیا کب تک جنگ کے بغیر رہے گا؟ کیا سوشل میڈیا اس بات کی اجازت دے گا کہ اطراف کے صحت مند اذہان مل بیٹھیں اور یہ سوچیں کہ دنیا کو اور برصغیر کے اربوں باسیوں کو بہتر زندگی گزارنے کا کتنا حق ہے اور کس طرح اطراف کے جنگ پسندوں کو قابو کیا جاسکتا ہے کہ باقی کی دنیا سکھ کا سانس لے سکے۔ اس حوالے سے اُمید ہی کی جا سکتی ہے کیوں کہ اطراف میں معروضیت تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ برسر اقتدار حکومتیں کشیدگی کا دھواں پھیلا کر اپنی اپنی نا اہلی کو ڈھانپ دینا چاہتی ہیں کیوں کہ اِن کو اپنے اپنے ممالک میں جس قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے، اُن سے نبٹنا شاید ان کے لیے مشکل ہے۔

سب جانتے ہیں کہ دونوں ممالک جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے اور اگر جنگ شروع ہو گئی تو اُس کے نتائج کو کسی دائرے میں رکھنا شاید ممکن نہیں ہو گا کیوں کہ مہم جوئی کی قدر مشترک اطراف کی لیڈرشپ کو ایسے اقدامات کی طرف آسانی سے دھکیل دی گی کہ خدانخواستہ تباہ کُن صورت حال پیدا ہو جائے گی۔ یہ وہ موقعہ ہو گا کہ سوشل میڈیا بھی کام نہیں آئے گا۔ امن پہلے ہی مفقود ہے اور معیشت بھی تباہ و برباد ہو جائے گی۔ اطراف میں مذہبی اساطیر سے جنگ کی غذا کشید کرنے والوں کو شاید کچھ مہلت مل جائے کہ وہ صبر اور امن کی تلقین کرسکیں کیوں کہ جنگ کے بعد پیچھے بچ رہنے والوں کی حالت بہت خراب ہوگی۔ سوشل میڈیا جو اب جنگی ترانوں کی دھنیں بجا رہا ہے پھر اچانک سے ماتمی دھنوں پر اشلوک اور بخشش کی دعائیں نشر کرنا شروع کردے گا۔ جنت اور سورگ لبالب بھر چکے ہوں گے البتہ یہ ابھی معلوم نہیں کہ شہید ہوچکے اور پرلوک سدھار چکے لوگ وہاں پر سوشل میڈیا کا استعمال کر پائیں گے کہ نہیں۔ اگر وہاں پر ایسا کوئی انتظام نہ ہوا تو معلوم نہیں یہ لوگ وہاں پر کیسی زندگی گزاریں۔

پاک بھارت میں عوامی زندگی یکساں مسائل کا شکار ہے کیوں کہ دونوں ممالک کی باہمی چپقلش نے اطراف میں کوتاہ نظری اور تعصب کی ترویج کی ہے۔ کئی چھوٹی بڑی جنگوں اور جھڑپوں کے بعد ایک فیصلہ کُن جنگ کی کامل خواہش موجود ہے۔ اس میں شک نہیں کہ جب دو ہمسائیوں کے پاس مہلک ایٹمی ہتھیار ہوں تو وہ بڑی جنگ سے اجتناب کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی چھوٹی موٹی جھڑپوں اور دراندازیوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ لیکن اگر اطراف میں خودکشی پر مائل افراد کی بڑی تعداد طاقت ور ہو تو یہ چھوٹی موٹی جھڑپیں اور دراندازیاں کب کسی بڑے معرکے میں بدل جائیں پتہ ہی نہیں چلتا۔ بالکل ایسی ہی صورت حال اس وقت خطے میں موجود ہے اور امکان ہے کہ دونوں دشمن ملک ایک دوسرے کو سبق سکھانے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔ ابھی اگلے مورچوں پر سوشل میڈیا جنگجو اور مذہبی انتہا پسندوں کی ٹولیاں ایک دوسرے پر فائرنگ کر رہی ہیں جب کہ باقاعدہ افواج بڑے پیمانے پر نقل و حمل میں مصروف ہیں۔ بعض ماہرین اس خدشے کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ سرحدوں پر اطراف میں سے کسی ایک فریق کی معمولی سی غلطی یا اشتعال انگیزی کسی بڑے حادثے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

سب جانتے ہیں کہ امن کی تلقین کرنا ایک مشکل کام ہے اور جب آبادی بہت زیادہ بڑھ جائے اور وسائل کی تقسیم کا نظام منصفانہ نہ رہے اور ایسے گروہ اور لوگ اقتدار تک پہنچ جائیں جن کی کوتاہ نظری نمایاں ہو تو وہ تعصب اور تفریق کا سہارا لے کر ہی اقتدار کو بچائے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اِن کے پاس عوامی فلاح کے لیے کچھ نہیں ہوتا اور اجتماعی فلاح سے اُن کا روایتی تعصب اور تنگ نظری اُن کو روکے رکھتی ہے۔ اس صورت میں ہمیشہ تصادم اور ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے۔ خدا خیر کرے ایک مرتبہ پھر ڈیڑھ ارب افراد توپ کے دہانے پر بیٹھے ہوئے ہیں اور اطراف کا میڈیا خصوصاً سوشل میڈیا بارود کو آگ دینے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔

Facebook Comments HS