پاکستانی ہندوؤں کو نقصان نہ پہنچائیں
بہاول پور آج کل دو چیزوں کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے۔ ایک تو دن کو موسم خاصا گرم ہو جاتا ہے خاص طور پہ دوپہر کے وقت البتہ رات خنک اور خوشگوار ہو جاتی ہے۔ دوسرا جنگ کا خوف۔ ہر دوسرا شخص یہی سوال کر رہا ہے کیا بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ ہو گی؟ اصل میں لوگوں میں یہ خوف پایا جاتا ہے کہ جنگ کی صورت میں اگر ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال ہو گیا تو پھر کیا ہو گا؟ اگر ان ہتھیاروں کا استعمال ہو گیا تو لامحالہ دونوں حریف ممالک میں بیس پچیس کروڑ لوگ تو ایٹمی حملوں اور مزید کروڑوں لوگ ایٹمی ریڈی ایشن کی نظر ہو جائیں گے۔ دونوں اطراف معاشی تباہی تو اس قدر زیادہ ہو گی کہ اس کا ازالہ کرنے میں کئی دہائیاں لگ جائیں گی۔
راقم نے انڈیا اور پاکستان دونوں ممالک کے عام آدمی کی حالت کو اپنی نظم میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے
روز بم گرتے ہیں ہم پہ
روز ہم شہید ہوتے ہیں
روز مُفلسی ڈاکا ڈالے ہم پہ
روز ہم فقیر ہوتے ہیں
روز فردِ جرم لگے ہم پہ
روز فیصلے تحریر ہوتے ہیں
روز آزمائش اکبر میاں
روز پابند زنجیر ہوتے ہیں
گزشتہ روز چودھری کی دکان پہ گیا تو اس نے بھی مجھ سے پوچھا ”دس شیخ! کی بنڑوں گا؟ جنگ نے تے تباہ کر دینا اے“ (بتا شیخ! کیا بنے گا؟ جنگ نے تو سب کچھ تباہ کر دینا ہے ) ۔ خواتین کو الگ سے خوف لاحق ہے۔ صبح کی واک کے لیے بڑے پارک کی طرف جاتے ہوئے راستے میں ایک چھوٹا لیڈیز پارک بھی آتا ہے وہاں بیٹھی بوڑھی خواتین آپس میں بات کر رہی تھیں ”پہلا حملہ تو بہاول پور پہ ہو گا۔ نزدیک جو ہوا“ ۔ لوگ بھارت کے و زیرِ اعظم نریندر مودی کو بُرا بھلا بھی کہہ رہے ہیں اور اُسے جنگی جنون اور جنگی ماحول پیدا کرنے کا ذمہ دار بھی ٹھہرا رہے ہیں۔ پارک میں کچھ لوگوں کو کہتے سنا کہ حکومت اور مقتدرہ قوتوں کو چاہیے کہ اس حساس صورتحال میں عوام کے اندر قومی جذبہ پیدا کرنے کے لیے عمران خان کو رہا کر دیں تاکہ وہ بھی اپنی تقریروں کے ذریعے قوم کا مورال بلند کر سکیں۔
آج صبح 30 اپریل 2025 کو خبروں کے لیے ایک معروف ٹی وی چینل آن کیا تو ٹاک شو میں دفاعی مشیر ریٹائرڈ جنرل جنجوعہ کو بھی محتاط گفتگو کرتے پایا۔ وہ جنگی ماحول کی پسِ پردہ وجہ مسئلہ کشمیر کو ٹھہرا رہے تھے۔ جنرل جنجوعہ کا مافی الضمیر یہ تھا کہ اگر مسئلہ کشمیر حل ہو جائے تو انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ کا خطرہ مستقل طور پہ ختم کیا جا سکتا ہے۔
تاہم دوسری طرف بھارت اور پاکستان کے عوام کے ایک حصّہ میں جنگ کے حوالے سے جوش و خروش بھی دیکھنے میں آ رہا ہے جس کا اظہار وہ مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا خاص طور پہ فیس بک پہ کمنٹس کی صورت میں کر رہے ہیں ”توڑ دو، تباہ کر دو، کرش کر دو، زندہ نہ چھوڑو“ اس طرح کے جذبات دونوں ممالک کے لوگوں کی ایک محدود تعداد میں دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
بھارت کے جنونی چاہتے ہیں کہ انڈیا پاکستان پہ فوری طور پہ حملہ کر دے اور پاکستان کے جوشیلے چاہتے ہیں کہ پاکستان بھارت پہ حملہ کر کے اسے لوہے کے چنے چبانے پہ مجبور کر دے۔ مسئلہ وہی سامنے آ رہا ہے کہ اگر جنگ شروع ہوتی ہے اور اس دوران دونوں اطراف سے ایٹمی ہتھیار کے بٹن پہ ہاتھ دب جاتا ہے اور ایک دوسرے کے ممالک پہ ایٹمی میزائل چلا دیے جاتے ہیں تو پھر کیا ہو گا؟
راقم کا خیال ہے کہ جنگی ماحول میں یا اگر جنگ شروع ہو جاتی ہے اور اس دوران کچھ جذباتی نوجوان پاکستان میں رہنے والے پاکستانی ہندوؤں کو کوئی نقصان پہنچا بیٹھتے ہیں تو جواب میں بھارت میں رہنے والے بھارتی مسلمانوں کو جنونی لوگ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر بھارت کے اندر کچھ مذہبی جنونی ہندو بھارتی مسلمانوں کو تکلیف پہنچائیں گے اور جب یہ خبریں میڈیا پہ آئیں گی تو اس طرف کے کچھ جنونی پاکستان میں رہنے والے ہندوؤں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ دونوں طرف کے عوام بشمول پاکستانیوں اور بھارتیوں سے گزارش ہے کہ دونوں ممالک کے میڈیا کے زیرِ اثر جنگی ماحول تو بن چکا ہے، جنگ ہوتی ہے یا نہیں اس سارے ماحول میں آپ تحمل کا دامن قطعاً نہ چھوڑیں۔ ایک دوسرے کے ممالک میں رہنے والی اقلیتوں کو نقصان یا تکلیف قطعاً نہ پہنچائیں۔
اکبر شیخ اکبر کا خیال ہے کہ جنوبی ایشیا میں سپر پاور ممالک کے کھربوں ڈالرز کے معاشی مفادات ہیں بلکہ سپر پاورز کی پراڈکٹس اور بزنس کے لیے دنیا کی سب سے بڑی کنزیومر مارکیٹ جنوبی ایشیا ہی ہے لہذا عالمی طاقتیں پاکستان اور بھارت کو فری ہینڈ کبھی بھی نہ دیں گی کہ ایک دوسرے پہ اندھا دھند چڑھ دوڑیں۔ جنگی جھڑپیں شروع ہو بھی گئیں تو عالمی طاقتیں اس جنگ کو رکوانے کے لیے فوراً حرکت میں آ جائیں گی۔ ہو سکتا ہے اس بار مسئلہ کشمیر کا بھی کوئی حل نکل آئے۔ میرے اس بلاگ کے قارئین اطمینانِ خاطر رکھیں کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان نہ تو مکمل جنگ ہو گی، نہ ایٹمی جنگ ہو گی اور نہ طویل جنگ ہوگی۔
بہرحال ہر قسم کے حالات میں امن کو جنگ پہ ترجیح دینا چاہیے۔ جنگ آخری آپشن ہوتا ہے اُسے پہلے آپشن کے طور پہ کبھی بھی استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ نریندر مودی حکومت بھی ہوش کے ناخن لے۔ ٹھیک ہے پاکستان میں بھی غربت ہے لیکن راقم نے یوٹیوب چینلز پہ انڈیا کے کئی شہروں کی جو حالت دیکھی وہاں تو لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگ جھونپڑیوں میں قابلِ رحم زندگی گزار رہے ہیں۔ آپ اپنے ملک کے غریبوں کی غربت ختم کرنے اور ان کے معیارِ زندگی کو بہتر کرنے پہ توجہ دیں بجائے اس کے کہ الیکشن جیتنے کے لیے اور بھارت میں دوبارہ حکومت بنانے کے لیے جنگی جنون کی آگ کو بھڑکاتے پھریں۔


