پاکستان کے خلاف مودی کا سٹرکٹ ایکشن


آپ نے کشمیر میں دہشت گردی کے واقعہ کے متعلق تو سنا ہو گا؟ بس اسی وجہ سے موڈ کافی آف ہے۔ اس بار دہشت گردوں نے کلمہ سن سن کر صرف ہندوؤں کو ٹارگٹ کیا، کیا آپ لوگوں کو ہماری ہنومان چالیسہ آتی ہے؟ اگر آپ سے کوئی کہے کہ وہ سنائیں تو شاید آپ لوگ بھی نہ سنا پائیں، ہمارے پرائم منسٹر مسٹر مودی اب کافی سٹرکٹ ایکشن لے رہے ہیں آپ کے پاکستان کے خلاف، دیکھتے ہیں اب کیا ہوتا ہے؟

مندرجہ بالا الفاظ ایک روز سوشل میڈیا پیغامات کے ذریعے موصول ہوئے تھے۔ بھیجنے والی ایک بھارتی فری لانس رائٹر تھیں۔ جن کے ساتھ گزشتہ 13 سالوں سے سوشل میڈیا پر رابطہ ہے۔ اس سے قبل اکثر انہوں نے اپنی شاعری، اسٹوری رائٹنگ اور اردو یا ہندی ادب کے بارے میں ہی بات کی ہے۔ ہاں جشن آزادی، عیدین یا سالگِرہ پر مبارک باد کے پیغامات اور دیگر کئی واقعات پر نیک خواہشات و ہمدردی کا اظہار کرتیں رہی ہیں۔ میں نے بھی اس طرح کے موقعوں پر ہمیشہ ان کے لیے ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا ہے۔

اس بار پہلگام واقعہ کے متعلق جب انہوں نے بات کی تو ان سے یہ کہتے ہوئے ہمدردی کا اظہار کیا کہ دہشت گرد کلمہ پڑھیں یا ہنومان چالیسہ لیکن ان کا مذہب کوئی نہیں ہوتا کیوں کہ کوئی مذہب بھی کسی بے گناہ کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ملک ہے۔ وہاں اگر کلمہ سن کر مارا گیا ہے تو یہاں نہتے لوگوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر مارا جاتا ہے۔ رہی بات مودی جی کے سٹرکٹ ایکشن کی تو خوش آمدید شوق پورا کر لیں لیکن پہلے ان کو تحقیق کر لینی چاہیے۔ کشمیر میں تقریباً آٹھ لاکھ فوج انہوں نے لگا رکھی ہے۔ چند دہشت گرد آ کر 26 سیاحوں کو قتل کر کے چلے گئے وہ فوج کہاں تھی؟ پاکستان پر بغیر ثبوت کے فوری الزام عائد کر دینے کی کوئی وجہ نہیں بنتی لیکن مودی صاحب کی اپنی ہی حکمت عملی ہے۔ محترمہ سے پوچھا کہ کیا آپ کے ملک میں کوئی انتخابات ہونے والے ہیں؟ کیوں کہ ماضی میں بھی انتخابات سے قبل ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں جن کے الزامات پاکستان پر عائد کیے گئے۔

جواب میں انہوں نے کہا میں نے یہ سب میڈیا پر ہی سنا اور دیکھا ہے ایسے دونوں جانب کے عوام میں نفرت پیدا کی جا رہی ہے۔ انتخابات تو شاید نہیں ہونے والے بہر حال امید ہے سب صحیح ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے باہمی چیٹ سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کی اجازت چاہی کہ لوگوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملے۔ اس پر میں نے رضامندی ظاہر کی اور خود ان پیغامات پر تحریر لکھنے کا ارادہ باندھا۔

حالیہ کشیدگی پر ایک بھارتی فری لانس رائٹر کے تاثرات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے وہاں کس قدر اشتعال پایا جاتا ہے۔ اس اشتعال انگیزی کو بڑھاوا دینے میں میڈیا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کے بارے میں غیر متعلقہ و جعلی تصاویر اور ویڈیوز پر بریکنگ نیوز چلا کر عوام کے جذبات کو بھڑکایا جا رہا ہے۔ بھارتی میڈیا جعلی خبروں کی مدد سے اپنے شہریوں کی اس حد تک ذہن سازی کر چکا ہے کہ وہ مودی جی کی جانب سے پاکستان کے خلاف سٹرکٹ ایکشن کے منتظر ہیں۔ حالانکہ ماضی کے واقعات اور سٹرکٹ ایکشنز کے جوابات بھی انہیں یاد ہیں۔

بھارتی حکومت کو اب ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ پہلگام واقعہ میں ان کے سیکورٹی اداروں کی ناکامی پر بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ واقعہ رونما ہونے کے فوری بعد پاکستان پر بلا تحقیق الزام تراشی کو بھی کئی عالمی رہنما اور دفاعی تجزیہ کار بھارت کا نامناسب اقدام قرار دے چکے ہیں۔ اس طرح دنیا کی ایک بڑی دفاعی و معاشی طاقت کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ بھارتی میڈیا کو بھی اس قدر جانبداری اور پروپیگنڈے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ میڈیا کا کام اعلان جنگ کرنا نہیں ہے بلکہ عوام تک غیر جانبدارانہ انداز میں حقائق پہنچانا ہے۔ دنوں جانب کے میڈیا کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔

پاکستان اور بھارت کو موسمیاتی تبدیلیوں، ماحولیاتی آلودگی اور پانی کی قلت ایسے دیگر کئی مشترکہ مسائل کا سامنا ہے۔ دونوں ممالک کے عوام غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور بھوک سے پریشان حال ہیں۔ خدانخواستہ جنگ کی صورت میں دونوں جانب کے عوام کا معیار زندگی مزید گر جائے گا۔

دونوں جوہری طاقتوں کو باہمی اختلافات اور مسائل کے حل کی بات چیت کی راہ ہموار کرنی ہوگی۔ پڑوسیوں میں جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے کیوں کہ ہمسائے بدلے نہیں جا سکتے اور مودی جی! حالات کو سمجھیں، سٹرکٹ ایکشن کے خواب دیکھنا چھوڑیں کیوں کہ ہر ایکشن کا ری ایکشن ضرور ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS