لوگ جنگ کے ماحول میں بھی میمز کیوں بنا رہے ہیں؟
اس بات کو سمجھنے کے لیے پہلے ایک لطیفہ سن لیجیے۔ ایک آدمی ریلوے میں نوکری کے لئے انٹرویو دے رہا تھا۔
افسر : اگر دو ریل گاڑیاں ایک ہی لائن پر آ رہی ہوں تو کیا کرو گے؟
آدمی : میں کانٹا بدل دوں گا
افسر : اگر کانٹا خراب ہوا تو؟
آدمی : لائن پر کھڑا ہو کر لال کپڑا لہراؤں گا۔
افسر : اگر ڈرائیور دیکھ ہی نہ رہا ہو تو؟
آدمی : مسافروں پر چیخوں گا کہ زنجیر کھینچ دیں۔
افسر : مسافر بھی نہیں سنتے تو؟
آدمی : پھر میں دوڑ کر گھر سے اپنے بیٹے کو لے آؤں گا۔
افسر حیران ہو کر: تو اس صورت میں تمہارا بیٹا کیا کر لے گا؟
آدمی : وہ تو کچھ بھی نہیں کرے گا! بس اسے ٹرینوں کی ٹکر دیکھنے کا بہت شوق ہے۔
اب ہم اس بات پر آتے ہیں کہ لوگ میمز کیوں بناتے ہیں تو اس لطیفے کی طرح پہلے یہ دیکھنا ہو گا کہ وہ اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتے ہیں؟
جی اسی فقرے میں جواب ہے۔ بندہ جب کسی بھی معاملے میں بے اختیار ہو جائے اور کچھ نہ کر پائے تو وہ اس معاملے کی سنگینی اور اپنی بے بسی کو چھپانے اور اس سے توجہ ہٹانے کے لئے ایسے میمز یا مزاح کا سہارا لیتا ہے۔ یہ ایک طرح سے اس کے جذبات کے لئے ایک دفاعی میکنزم بن جاتا ہے۔
ایسے ہی ایک امیدوار سے سوال پوچھا گیا کہ فرض کرو تم جنگل میں اکیلے جا رہے ہو اور اچانک تمہارے سامنے شیر آ جائے تو تم کیا کرو گے؟ وہ سوچ میں پڑ گیا اور تھوڑی دیر بعد بولا؛
”پھر میں نے کیا کرنا ہے جو کرے گا شیر ہی کرے گا“ ۔
اگرچہ یہ بات ذرا لطیف پیرائے میں کی گئی ہے لیکن یہ گہری انسانی نفسیات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ جس معاملے میں وہ بے بس ہو اسے اس معاملے سے فرار یا بریت چاہیے ہوتی ہے۔ میمز یا مزاح اسی عمل کا ایک حصہ ہے۔
مشہور سائنسدان نیل بوہر کا قول ہے کہ کچھ چیزیں اتنی سنجیدہ ہوتی ہیں کہ ان پر آپ کو بے اختیار ہنسی آ جاتی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ایک بچہ سکول سے واپس جا کے اپنی ماں سے کہتا ہے
ماما اگر کوئی گر پڑے تو کیا ہمیں ہنسنا چاہیے؟
بالکل بھی نہیں اس کی ماں نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
آج سکول میں ایک بچہ گر پڑا تھا تو سارا سکول اس پر ہنسنے لگا لیکن میں نہیں ہنسا۔
شاباش بیٹا یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ اچھا یہ بتاؤ کہ گرا کون تھا۔ ماں نے پوچھا۔
ماما میں ہی گر گیا تھا، بچے نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
اب اس سنجیدگی پر ہنسنے کی باری ماں کی تھی۔
میمز بنانے کی اس بظاہر غیرسنجیدگی کے پیچھے دوسری وجہ سوشل میڈیا کی بہت بڑی سپورٹ کا موجود ہونا بھی ہے۔ چوں کہ فطرتاً لوگ مزاح کو پسند کرتے ہیں اور ایسی کوئی میم جو ان کو ہنسائے اسے فوراً اپنے احباب کو آگے فارورڈ کر دیتے ہیں تاکہ ان کو بھی شامل مزاح کیا جا سکے۔ وہ اسے اور آگے فارورڈ کر دیتے ہیں۔ یوں لوگ دیکھا دیکھی میمز بنا کر شیئر کرنا شروع ہو جاتے ہیں اور سوشل میڈیا کا الگورتھم اسے پسندیدگی کی بنا پر ٹاپ ٹرینڈ بنا دیتا ہے۔ یوں پوری قوم ایک میمز کے مصنوعی ببل میں قید ہو جاتی ہے۔ یہ عمل اس طرح سے پورے معاشرے کی مجموعی بے بسی بے حسی اور معاملے کی سنگینی سے توجہ ہٹانے اور بریت ظاہر کے لیے ایک مجموعی سوشل ڈیفنس کا میکانزم بن جاتا ہے۔
اس میں ایک اور بڑی وجہ دوسروں کی کسی بھی طرح کی برتری کے احساس کو کم کرنے کی ایک لاشعوری کوشش بھی ہوتی ہے۔ یہ میمز عام طور پر مذاق کرنے سے زیادہ مذاق اڑانے والی بات ہوتی ہے۔ چونکہ آپ عملی طور پر کسی طاقتور فریق سے مقابلہ نہیں کر سکتے تو پھر اس کا مذاق اڑا کر آپ اس کی بالادستی یا اس کا تاثر کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپوزیشن کی سیاسی پارٹیاں اس معاملے میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف میمز بنا کر ان کی طاقت اور خوف کو مزاح کے پردے میں چھپا دینے کی کوشش کرتی ہیں اور لاشعوری طور پر اس کو اپنی طاقت سمجھتی ہیں۔ بھارت کے مقابل جنگ کی میمز بنانے کے پیچھے بھی بھارت کو کمزور، بزدل، نالائق وغیرہ دکھانے کی یہی نفسیات کارفرما ہے جو آپ کو اپنی ان دیکھی برتری کے احساس یا مقابل کی پستی کے احساس سے سرشار کرتی ہے۔
میمز کی عمومی خوبصورتی یہ بھی ہے کہ یہ لوگوں کے رویوں کو لطیف بناتا ہے اور بعض اوقات ایک قہقہہ ہی پوری مجلس کو آپس میں جوڑ دیتا ہے۔ اس قہقہہ سے ایک غیر محسوس طرح کی اندرونی تسکین کا بھی احساس ہوتا ہے جس سے معاملے کی سنجیدگی کم پڑتی محسوس ہوتی ہے۔ اس طرح معاملے کو سمجھنے اور بہتر ریسپانڈ کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔
اب آپ خود اندازہ کریں کہ جب پرانے کلاس فیلوز آپس میں ملتے ہیں تو ان کے قہقہے کن باتوں پر زیادہ بلند ہوتے ہیں؟ عام طور پر وہ انہی باتوں کا ذکر کر کے ہنستے ہیں جو انہیں آپس میں جوڑتی ہیں اور اس میں زیادہ تر اپنی کی گئی شرارتوں اور ان پر دی جانے والی اساتذہ کی سزاؤں کے ذکر پر قہقہے لگ رہے ہوتے ہیں۔ یہ شرارتیں، پرانی میمز کا کام کرتی ہیں اور محفلیں گلزار کر دیتی ہیں۔
ایسے ہی برسوں قبل یونیورسٹی کے ایک دوست نے مجھ سے بھنی ہوئی مکئی کی چھلی جھپٹ کر چھین لی اور میرے آگے آگے دوڑ لگا دی۔ دوڑتے ہوئے ابھی اس نے پہلی ہی ”َچکی“ لگائی تو مکئی کے دانوں کی بجائے اس کا خون سے بھرا سامنے والا دانت باہر آ گیا تھا۔ صورتحال اچانک اتنی سنجیدہ ہو گئی کہ بے اختیار میری ہنسی چھوٹ گئی۔ پہلی بار پتا چلا کہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہونا کس کو کہتے ہیں۔ پیٹ پر ہاتھ رکھے مجھے اتنی ہنسی آئی کہ آنکھوں سے آنسو تک جاری ہو گئے۔ وہ بھی میرے ساتھ ہی بے اختیار قہقہے پہ قہقہے لگا رہا تھا۔ ہنس ہنس کر اس کی انکھوں سے بھی میری طرح آنسو جاری ہو گئے۔ ہاں البتہ اس کے آنسو درد کے آنسو تھے۔
جنگ بھلے ایک بے حد سنجیدہ اور سنگین معاملہ ہے مگر اس پر بنی میمز نے ہمارے گرد بظاہر ایک غیر سنجیدگی کا خول چڑھا دیا ہے مگر لاشعوری طور پر یہ سنگینی کے ادراک کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ تسلیم شدہ طاقتور اسٹیبلشمنٹ کو غیر مقبول دکھانے کی بھی لاشعوری کوشش ہے۔ اسی میمز کی بوچھاڑ میں ایک سنجیدہ اور صاحب ادراک آدمی بھی معاشرتی اجتماعیت کا حصہ بنتے ہوئے لطف اٹھانا شروع کر دیتا ہے۔ اگر جنگ میمز کی ہی رہی تو پاکستان ضرور جیتے گا اور اگر خدا نخواستہ سچ مچ میں ایسا کچھ ہو گیا تو ہر آدمی میمز کو بھول کر اصل سنگینی اور سنجیدگی کی پوسٹ لگانا شروع کر دے گا۔ اس مقابلے میں بھی شاید ہم ہی اول آئیں گے۔ اس کا اندازہ آپ فلسطین کے معاملے میں دیکھ ہی چکے ہیں جس پر نہ کوئی میم بنی ہے نہ بنائی گئی ہے۔ حالانکہ وہاں بھی ایک سفاک دشمن کمزور قوم کے مقابل کھڑا ہے۔
مزاح اور میمز بنانے یا فارورڈ کرنے کے اس نفسیاتی عمل میں آپ کس محرک یا وجہ کو زیادہ اہم جانتے ہیں؟ کمنٹ میں اپنی رائے اور تجربہ ضرور شیئر کیجئے۔


