الیکشن ڈیوٹی اور سونے کی چڑیا
پچھلے سال، یعنی الیکشن کا سال، میں اٹھارہویں اسکیل کا سرکاری ملازم ہونے کے ناتے پریزائڈنگ افسر کی ڈیوٹی کے لیے منتخب ہوا۔ میرا نام ٹریننگ کی فہرست میں شامل ہونے کی اطلاع ملی تو میں بہت خوش ہوا۔ ٹریننگ کے اختتام پر ہمیں بتایا گیا کہ پریزائڈنگ افسران کو فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کی اتھارٹی ملے گی۔ یہ بات سن کر ایسا لگا جیسے سونے کی چڑیا ہاتھ آ گئی ہو۔ دل ہی دل میں ہم خود کو مجسٹریٹ سمجھنے لگے تھے۔
خیر، الیکشن سے ایک ہفتہ پہلے ہمیں پیغام ملا کہ 7 فروری کو چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے دفتر پہنچنا ہے اور ووٹنگ کا سارا سامان وصول کر کے پولنگ اسٹیشن پر لے جانا ہے۔ ہم ذمہ دار اور قابل مجسٹریٹ ہونے کے ناتے صبح 10 بجے دفتر پہنچ گئے۔ وہاں پہنچ کر پتہ چلا کہ تمام مجسٹریٹوں کا ہجوم ہے اور سامان دوپہر 2 بجے سے ملنا شروع ہو گا۔ اب مارے کیا کریں، کھڑے بیٹھے 2 بجے کا انتظار کیا۔ سامان تو 2 بجے ملنا شروع ہوا، لیکن پتہ چلا کہ تقریباً 300 مجسٹریٹ ہیں اور ہمارا نمبر 267 تھا۔ یعنی اور انتظار۔ خیر، جیسے تیسے شام کے 6 بجے سامان ملا۔ اب باری تھی پیسے وصول کرنے کی، جو کہ اپنے اسٹاف کو الیکشن ڈیوٹی ختم ہونے پر دینے تھے۔ اب مجسٹریٹ صاحبان لگ گئے پیسوں کی لائن میں۔ اللہ اللہ کر کے رات کے 9 بجے ہماری باری آئی۔
اب ٹاسک تھا اپنے ڈرائیور کو ڈھونڈ کر بس میں سوار ہونا، تاکہ پولنگ اسٹیشن پہنچا جا سکے۔ ڈرائیور تو مل گیا، لیکن جانے کی اجازت نہیں ملی، کیونکہ تمام اسٹاف کو آرمی پروٹوکول کے ساتھ جانا تھا، تمام مجسٹریٹوں کے ساتھ۔ اس چکر میں کوئی رات کے 12 بجے ہم لوگ اپنے سفر پر روانہ ہوئے۔ تقریباً 1 بجے کے قریب پولنگ اسٹیشن پہنچے اور سکون کا سانس لیا۔ کھانا کھایا، جو کہ اس چک کے نمبردار کی طرف سے تھا۔ کھانا کھا کر سامان کے بیگ کھولے اور ٹریننگ کے مطابق پولنگ اسٹیشن میں چارٹس اور نشان لگانے لگے تو پتہ چلا کہ چارٹس لگانے کے لیے گوند خراب ہے، قینچی کچھ کاٹتی نہیں۔ خیر، جیسے تیسے کام چلایا اور سونے چلے گئے۔ صبح تو جیسے آنکھیں بند کرتے ہی ہو گئی۔
ووٹنگ شروع ہوئی اور جیسے ہم نے ووٹنگ پوری کروائی، وہ تو ایک الگ ہی کہانی ہے۔ خیر، ووٹنگ کے بعد فارم 45 / 46 بنائے اور پولنگ ایجنٹس کو فارم 45 حوالے کیے۔ اب بیٹھے ہیں بس ڈرائیور کے انتظار میں، کیونکہ الیکشن کی وجہ سے موبائل نیٹ ورک بند تھا اور انتظار کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ خیر، اللہ اللہ کر کے رات کو 1:30 کے قریب پولیس کی ایک گاڑی گشت کرتی ہوئی پولنگ اسٹیشن تک پہنچی۔ بھلا ہو ان ایس ایچ او صاحب کا، جنہوں نے ہمارا حال جان کر ہمیں اپنے ساتھ لے لیا۔ جیسے تیسے اوپر نیچے سامان کے ساتھ ہم لوگ واپس سی ڈی اے کے دفتر پہنچے۔ راستے میں میں یہی سوچ رہا تھا کہ یہ فرسٹ کلاس مجسٹریٹ والی سونے کی چڑیا وہی چڑیا تھی جو کہ بچپن میں ایک بار نائی نے دکھائی تھی۔ اور پھر ہمارا لال موٴ قابل رحم تھا۔

