یادگاری سکے : پاکستان کا نظر انداز شدہ ورثہ

”بھائی یہ تو نقلی سکہ ہے! مجھے اصلی چاہیے۔“ یہ جواب مجھے ملتان کے ایک حیران دکاندار سے ملا جب میں نے اسے پاکستان کے 75 ویں یومِ آزادی کے موقع پر جاری کیا گیا 75 روپے کا یادگاری سکہ دیا۔ اس سکے پر ایک طرف پاکستان کا قومی نشان اور دوسری طرف امریکہ کی گریٹ مہر کے ساتھ ساتھ پاکستان کی آزادی اور پاک امریکہ تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے کلمات کندہ تھے۔ مگر اس دکاندار کے لیے

Read more

ڈاکٹر آدم نئیر: سرائیکی خطے کا گمشدہ ماہرِ انسانیات و موسیقی اور ہماری علمی بے حسی

جنوبی پنجاب کے دیہات میں گونجنے والے لوک گیت، چولستان کے صحرا میں بکھری داستانیں، اور سرائیکی خطے کی صوفیانہ روایات۔ یہ سب کچھ اگر آج تک زندہ ہے، تو اس میں ڈاکٹر آدم نئیر جیسے گمشدہ محققین کا خونِ جگر شامل ہے۔ مگر افسوس، ہم نے اپنے ہی مورخ کو فراموش کر دیا۔ جنوبی پنجاب کی ثقافت، موسیقی اور روایات پر جب بھی تحقیق کی بات ہوتی ہے تو چند نام ہی سامنے آتے ہیں۔ لیکن ایک ایسا محقق

Read more

کیا تھوک پھینکنا باعثِ رحمت ہے؟

کتنی عجیب بات ہے نا؟ کہ ”تھوک پھینکنا رحمت“ ہے۔ دنیا بھر کے مختلف قبائل اور ثقافتوں میں کچھ ایسی رسمیں پائی جاتی ہیں جو دوسروں کو عجیب لگ سکتی ہیں۔ لیکن ان کے اپنے معاشرے میں وہ انتہائی مقدس اور معنی خیز ہوتی ہیں۔ ”ماسائی قبیلہ“ (جو کینیا اور تنزانیہ میں آباد ہے ) ایک ایسی ہی دلچسپ رسم رکھتا ہے۔ ”تھوک پھینکنا“ ۔ جہاں ہمارے ہاں تھوک کو گھٹیا اور گندا سمجھا جاتا ہے، وہیں ماسائی اسے ”برکت“

Read more

ہولی: رنگوں کا تہوار اور ملتان سے تاریخی رشتہ

  ہولی ہندوؤں کا وہ رنگین تہوار ہے جو ہر سال بہار کے موسم میں پورے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار نہ صرف خوشی اور محبت کا پیغام دیتا ہے بلکہ اس کی جڑیں ہندو مت کی قدیم روایات اور تاریخ میں پیوست ہیں۔ ہولی کی خاص بات اس میں استعمال ہونے والے چمکیلے رنگ ہیں جو زندگی کی رونقوں کی علامت ہیں۔ یہ تہوار شر پر خیر کی فتح، نفرت پر محبت کی جیت اور

Read more

خیال رکھنا

اکثر سوچتا تھا کہ یہ جو ہم ”خیال رکھنا“ بولتے ہیں، آخر کیوں بولتے ہیں؟ اس کا کیا فائدہ ہے؟ ایک بہت عام سا جملہ جو ہم اکثر ملاقات کے اختتام پر ایک دوسرے کو کہہ دیتے ہیں۔ مگر شاید کبھی اس پر عمل نہیں کرتے، نہ ہی کسی کا کہا یاد رکھتے ہیں، اور نہ ہی اس کو اہمیت دیتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک یہ صرف ایک رسمی سا جملہ ہے، جیسے بات کے اختتام پر ”خدا حافظ“ کہہ

Read more

دیوی دیوتاؤں سے وزرا تک: مذہبی عقائد کا ارتقا

تاریخِ انسانی کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ مختلف تہذیبوں نے اپنے مذہبی عقائد اور معبودوں کو فطرت اور روزمرہ زندگی کے مختلف پہلوؤں سے جوڑا ہے۔ یونانی تہذیب، وادی دجلہ و فرات کی تہذیب اور دیگر قدیم معاشروں میں لوگوں نے ہر قدرتی قوت اور سماجی ضرورت کے لیے الگ دیوی دیوتا متعارف کرائے۔ آج یہ تہذیبیں اور ان کے عقائد تو ختم ہو چکے ہیں، لیکن اگر غور کیا جائے تو جدید دور میں بھی ان

Read more

الیکشن ڈیوٹی اور سونے کی چڑیا

پچھلے سال، یعنی الیکشن کا سال، میں اٹھارہویں اسکیل کا سرکاری ملازم ہونے کے ناتے پریزائڈنگ افسر کی ڈیوٹی کے لیے منتخب ہوا۔ میرا نام ٹریننگ کی فہرست میں شامل ہونے کی اطلاع ملی تو میں بہت خوش ہوا۔ ٹریننگ کے اختتام پر ہمیں بتایا گیا کہ پریزائڈنگ افسران کو فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کی اتھارٹی ملے گی۔ یہ بات سن کر ایسا لگا جیسے سونے کی چڑیا ہاتھ آ گئی ہو۔ دل ہی دل میں ہم خود کو مجسٹریٹ سمجھنے

Read more