جادوئی تھر کا سفر: سندھ کے چھپے ہوئے خزانوں کی کھوج
پہلا حصہ : رحیم یار خان سے تھر کے دروازے امرکوٹ تک
ہمارا یہ یادگار سفر رحیم یار خان سے شروع ہوا، جہاں میں اور حماد خان اپنے دیگر چھے ساتھیوں کے ساتھ موٹروے پر سکھر کی طرف روانہ ہوئے۔ ہموار شاہراہ پر سفر کرتے ہوئے ہمیں سندھ کے دیہی مناظر کی جھلکیاں دکھائی دیں، لیکن اصل جادو کا آغاز روہڑی بائی پاس پار کرنے کے بعد ٹھہڑی سے ہوا۔ وہاں، کھجوروں کے سرسبز و شاداب باغات سورج کی سنہری روشنی میں لہرا رہے تھے، ان کے پتے ہوا میں جھومتے ایسے لگ رہے تھے جیسے کوئی حسین منظر کسی پوسٹ کارڈ پر نقش ہو۔
ہم نے پہلا مختصر وقفہ کوئٹہ رنگین ہوٹل پر کیا، جو سکھر بائی پاس پر واقع ہے۔ یہاں کی مہمان نوازی کا پہلا مزہ ہمیں کڑک چائے اور گرم پراٹھوں کی صورت میں ملا۔ دیہی سندھ کے پرامن ماحول نے ہمیں خوشگوار سکون بخشا، جس کے بعد ہم نے دوبارہ سفر کا آغاز کیا۔
ماضی کا ایک نگینہ
ہماری اگلی منزل تھی قلعہ کوٹ ڈیجی، جو خیرپور میں واقع 18 ویں صدی کی ایک تاریخی عمارت ہے۔ یہ قلعہ ’خیر پور کے میروں کے ماتھے کا جھومر‘ کہلاتا ہے اور اپنے شاندار طرز تعمیر، اونچی دیواروں اور ارد گرد کے کھلے میدانوں کے نظاروں کے ساتھ ساتھ ورثہ کی بہترین نگہداشت کے باعث ہمیں حیران کر گیا۔ اس جگہ کی خاموشی اور وقار سندھ کے شاہی ماضی کی گواہی دے رہے تھے۔
اگلا پڑاؤ محراب پور تھا جہاں اعظم جٹ صاحب نے پر تکلف چائے سے نوازا۔
پھر ہم مہران ہائے وے سے ہوتے ہوئے سانگھڑ روڈ اور پاکستان چوک کے راستے ڈرائیور ہوٹل کھیپرو پہنچے، جہاں ہم نے دوپہر کا کھانا دیر سے کھایا۔ سندھی بریانی اور کباب کے مصالحے دار ذائقے نے دل جیت لیا۔
شام کے سائے گہرے ہونے لگے تو ہم نے سر سبز و شاداب فصلوں کے بیچ و بیچ سخت اور پکے راستوں پر سفر کیا۔ نانی شاہ ڈھورو نارو اور چھور کینٹ جیسے مقامات سے گزرتے ہوئے رم جھم برستی بارش میں آخرکار عمرکوٹ پہنچے۔ یہ شہر تھر کے صحرا کا دروازہ سمجھا جاتا ہے۔ تھکن کے باوجود خوشی سے بھرپور ہم حجرہ مومن خان میں قیام پذیر ہوئے، جو تھر بازار کے درمیان ایک روایتی پختون بھائیوں کا دلکش مہمان خانہ ہے۔ میزبانوں کی گرمجوشی اور جگہ کا بہترین اور پر آسائش انداز فوراً دل کو بھا گیا۔
ادیپوری پاڑہ میں
رات کو ہمیں شوکت ادیپوری، جو مقامی کاروباری و سیاسی شخصیت اور بہترین دوست ہیں، کی طرف سے عشائیہ پر مدعو کیا گیا۔ ان کا گھر ادیپوری پاڑہ میں واقع ہے، جہاں ہمیں ہنسی مذاق، سندھی کہانیوں اور روایتی کھانوں کا بھرپور ذائقہ ملا۔ ساگ، کڑھی اور مصالحے دار سندھی بریانی، چکن اور مٹن نے کھانے کی میز کو جنت بنا دیا۔ رات کا اختتام میٹھے پان، تاش کے دلچسپ مقابلوں اور ستاروں بھرے آسمان کے نیچے نرم بستر پر چائے کے ساتھ ہوا۔ یہ امر کوٹ کی ایک مکمل سندھی رات!
تاریخ، ثقافت، اور صحرا کی خاموشی
اگلی صبح ہم نے نعیم ادیپوری کے گھر ناشتہ کیا۔ میٹھی لولی (چینی ملی روٹی) اور تازہ گاڑھی دہی حلوہ پوری، شہد، مکھن، نہاری اور پائے نے ہماری دن بھر کے لئے توانائی بحال کر دی
ماضی کا دریچہ دن کی پہلی منزل عمرکوٹ قلعہ تھی، جو مغل دور کی ایک شاندار یادگار ہے۔ قلعے کے اندر موجود عجائب گھر نے ہمیں علاقے کی تاریخ سے روشناس کروایا۔ اکبر بادشاہ کی پیدائش سے لے کر امر ماروی اور مقامی سورماؤں کی کہانیوں تک، ہر منظر اور ہر شے نے ہمیں ماضی کے سفر پر روانہ کر دیا۔ بہترین انداز میں بنے مجسموں نے مقامی لباس و ثقافت کو اوڑھ کر قلعے میں موجود عجائب گھر کی رونق کو چار چاند لگا دیے۔ کچھ مجسمے مشین کے ساتھ حرکت کرتے ہوئے مختلف کام جیسا کے بڑھئی، چر خا بننے کا عمل اور ہاتھ کی چکی جیسے ختم ہوتے فنون کو واضح کر رہے تھے۔ قلعے کی چھتوں اور کھڑکیوں سے صحرا کے پھیلتے نظارے کسی پرانی فلم کا منظر لگ رہے تھے
روحانیت کا سنگم دوپہر کے وقت ہم نے جامع مسجد عمرکوٹ میں جمعہ کی نماز ادا کی۔ سفید گنبد، نیلے ٹائلوں کی نقش و نگاری، اور مسجد کا پرامن ماحول۔ سب نے دل کو چھو لیا۔ مقامی لوگوں کے ساتھ عبادت کرنا ایک الگ ہی تجربہ تھا۔
الوداع امرکورٹ سفر کے اختتام پر ہم عمرکوٹ کے بازاروں میں گھومے۔ ہاتھ سے بنے ہوئے خوبصورت اجرک مقامی یادگاری تحفے کے طور پر پیش کیے گئے امر کورٹ کے سادہ مگر گہرے رنگ، وہاں کے لوگوں کی محبت، اور تاریخی لمحات نے ہمارے دل پر ایک انمٹ نقش چھوڑ دیا۔
اس کے بعد گوگا سر اور نگر پارکر کا سفر شروع ہوا جس کا احوال اگلی اقساط میں پیش کیا جائے گا۔
تھر صرف ایک صحرا نہیں، بلکہ ایک جیتی جاگتی تہذیب ہے۔ ثقافت، روایات، مہمان نوازی اور خوبصورتی کا گہوارہ۔ ہر لمحہ، چاہے وہ کسی قلعے کی چھاؤں ہو یا سڑک کنارے چائے کا کپ، ایک خزانے کی طرح محسوس ہوا۔ خاص شکریہ شوکت ادیپوری اور تمام میزبانوں کا جنہوں نے ہمیں دل سے خوش آمدید کہا۔
پھر ملیں گے، تھر!



