مطلب پرستوں کی دوستی
نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کسے نہیں پایا
کیکر تے انگور چڑھایا تے ہر گچھا زخمایا
(اردو ترجمہ: مطلب پرست لوگوں کے ساتھ آشنائی یا دوستی سے کبھی کسی کو فائدہ نہیں ہوا۔ ایسے تعلق کی مثال ایسے ہے جیسے انگور کی بیل کو کیکر کے درخت ہر چڑھایا جائے اور نتیجتاً انگوروں کو نقصان پہنچے )
میاں محمد بخش صاحب ( 1830۔ 1907 ) ہمارے قریب کے زمانے میں ہونے والے سب سے بڑے پنجابی صوفی شاعر ہیں۔ آپ کا تعلق کھڑی شریف آزاد کشمیر سے ہے اور وہیں بھرپور زندگی گزار کر آپ ابدی نیند سو رہے ہیں۔ آپ کی شاعری آفاقیت، عقل و دانش، ندرت خیال و بیان اور گہرے مشاہدے و تجربے کی آئینہ دار ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ زندگی کی حقیقتیں میاں صاحب پر منکشف ہو کر ان کے کلام میں ظاہر ہو گئیں، آپ کے کلام کا مجموعہ سیف الملوک کہلاتا ہے۔
ہمارے اردگرد موجود ایسے پست کردار جو اپنے ساتھ نیکی کرنے والوں کو کیسے نقصان پہنچاتے ہیں اس کا ذکر کس خوبی کے ساتھ میاں صاحب نے اپنے اوپر کے شعر میں فرمایا ہے۔ ایسے پست کرداروں کو آپ نے نیچ قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ ایسوں کی صحبت سے کبھی کسی کو فائدہ نہیں پہنچا بلکہ ایسے نقصان پہنچا ہے جیسے انگور جیسے نفیس پھل کی بیل کو کیکر جیسے کانٹے دار درخت پر چڑھایا جائے اور جس کے نتیجے میں ہر خوشے پر زخم آئے۔ اس بات کو میاں صاحب نے اپنے اور شعروں میں ایسے بیان فرمایا ہے :
اصلاں نال جے نیکی کرئیے، نسلاں تک نہیں بُھلدے۔
بد اصلاں نال جے نیکی کریئے، پُٹھیاں چالاں چلدے۔
(اردو ترجمہ: خاندانی لوگوں کے ساتھ اگر اچھا سلوک کیا جائے تو وہ دیر تک اسے یاد رکھتے ہیں۔ غیر خاندانی یا پست لوگوں کے ساتھ اگر اچھا سلوک کریں تو وہ جواب میں سازشیں کرنے لگتے ہیں )
یعنی آپ اگر نیچ اور برے لوگوں کے ساتھ نیک سلوک کریں تو وہ اس کا جواب آپ کے خلاف سازشیں کر کے اور آپ کو نقصان پہنچا کر دیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں جو اچھے اور خاندانی لوگ ہوتے ہیں وہ حسن سلوک کو نا صرف یاد رکھتے ہیں بلکہ کئی نسلوں تک اس کا اچھا بدلہ دیتے ہیں۔ ایسے دونوں طرح کے کردار ہمارے اردگرد ہوتے ہیں۔ ایسے کرداروں کا ذکر ہوتا رہنا چاہیے تاکہ لوگ نصیحت بھی پکڑیں، احتیاط برتیں اور فیض بھی پائیں۔ زندگی اچھے برے لوگوں کا مجموعہ ہے مگر کچھ لوگوں کی برائی اور شر اتنا بڑا ہوتا ہے کہ وہ نیچ کھلاتے ہیں جن کی آشنائی سے کوئی کبھی بھی فیضیاب نہیں ہو پاتا۔
اس روز میاں صاحب کی شاعری پڑھتے ہوئے ہمزاد پوچھنے لگا کہ تم نے بھی کبھی کسی نیچ کا مشاہدہ کیا ہے۔ میں نے کہا ہاں کیا ہے۔ کہنے لگا کون، میں نے کہا میں بیان کرتا ہوں کہ تم نصیحت پکڑو۔ تم اس کو جانتے ہو جو کثرت دروغ گوئی، منفی ذہنیت، تعصب، نفاق اور بدکلامی کی وجہ سے یار لوگوں میں کانے دجال کے نام سے مشہور ہے۔ ہاں جانتا ہوں کہ ایک روز تم نے کچھ ذکر کیا تھا۔ ہاں وہی، تم کو یاد ہے جب اس کو ہمارے ہاں داخل کیا جا رہا تھا تو، اس کی حالت بھیگی بلی جیسی تھی، ہاں مجھے یاد ہے، اور وہ جو بعد میں اپنے ساتھ نیکی کرنے والوں کا منہ نوچنے لگی۔ صدیقِ مکرم بتاتے ہیں کہ اس کو چور دروازے سے داخل کرنے والے صاحب سے جب وہ ان دنوں میں ملنے گئے جب ان کو داخل کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو ان کے ہاں ایک ایسا شخص بیٹھا تھا جس کے چہرے سے ایسی مسکینی اور بے بسی جھلکتی تھی کہ اگر اس کو سہارا نہ دیا گیا تو اس کی دنیا لٹ جائے گی۔ اس کو داخل کرنے والے صاحب ایک روز مجھے بتانے لگے کہ بڑے صاحب نہیں مانتے تھے، وہ کہتے تھے یہ اس عہدے کے لیے نہایت ناموزوں ہے بلکہ ضرر رساں ثابت ہو گا۔ میں نے پوچھا پھر یہ داخل کیسے کر دیا آپ نے، کہنے لگے وہ میں بزرگوں کو ساتھ لے جاکر منت سماجت کرتا رہا کیونکہ اس کی حالت اور منت نہیں دیکھی جاتی تھی۔ اس کو پچھلے مالکان نکال رہے تھے، یہ اپنے حالات اور تاریک مستقبل کا رونا روتا تھا۔ آخر کار ہم نے صاحب کو راضی کر لیا۔ پھر تو اس کو عمر بھر آپ کے اور بزرگوں کے پاؤں دھو دھو کر پینے چاہیے تھے، مگر وہ تو آپ لوگوں کو برا بھلا کہتا پھرتا ہے، وہ کہنے لگے بقول میاں محمد بخش صاحب بد نسلا اور نیچ جو ہوا۔
پیارے ہمزاد، یہ صاحب جو ابھی رخصت ہوئے ہیں ناں ان کی اس پر اتنی نیکیاں اور احسانات ہیں کہ اس کے لیے انہوں نے قانون اور ضابطوں کو بالائے طاق رکھا، لوگوں کی حق تلفیاں کیں، اس کو ہر کسی کے ساتھ بد سلوکی و ہراسانی کا اجازت نامہ دیا، ایسے ایسے مالی و انتظامی فائدے دیے کہ الحفیظ و الاماں۔ لیکن یہ تو ان صاحب کو گالیاں دیتا پھرتا ہے، کون سا نقص ہے جو یہ ان میں بیان نہیں کرتا پھرتا۔ یارا، ایسوں کی یہ حالت بھی میاں صاحب نے بیان فرمائی ہے
شیش محل وچ کُتا وڑیا تے اوس نوں سمجھ نہ آوے
اوہ جیہڑے پاسے جاوے اوس نوں کُتا ای نظری آوے
(شیشے کے بنے ہوئے محل میں ایک کتا داخل ہو گیا ہے اور اب اسے سمجھ نہیں آ رہی
وہ جس طرف بھی دیکھتا ہے اسے کتا یا اپنا آپ ہی نظر آتا ہے )
یار، تم سارا قصور ایسوں کا ہی بتا رہے ہو، ان پر نیکی کرنے والوں کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ ہاں پیارے ہمزاد ہوتا ہے، سانپ کو دودھ بھی انسان ہی پلاتے ہیں۔ دیکھو اس بیان میں سے تین باتیں سیکھو، پہلی یہ کہ کسی کی ظاہری منت سماجت و مسکینی و خوشامد پر مت جاؤ، دوسرا کسی کے لیے اپنی عاقبت مت گنواؤ اور تیسرا بہت ضروری ہو تو ایسوں کو باہر سے ہی دے دلا کر فارغ کرو کبھی بھی گھر میں داخل مت ہونے دو۔ ہمزاد، آخری بات، اب تم مردم شناس ہو جاؤ۔ تمھیں یاد ہے اس درویش کی بات جس نے کہا تھا کہ دو ٹانگوں پر چلنے والے سب انسان یا آدمی نہیں ہوتے، ان میں سے اکثر حیوان، کچھ درندے اور چند ایک بچھو بھی ہوتے ہیں جو ایک قدم چلتے اور ایک ڈنگ مارتے ہیں۔


