جہالت سے اقتدار تک۔ خطرناک سفر
جمہوریت کی روح عوام کی شرکت میں پنہاں ہے، مگر یہ شرکت محض ووٹ ڈالنے سے مکمل نہیں ہوتی، بلکہ عوامی نمائندوں کی قابلیت، اخلاقی دیانت اور فہم و فراست پر بھی منحصر ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں مسائل کی نوعیت بنیادی سہولیات کی سطح پر ہے، وہاں مقامی حکومت یعنی ”لوکل گورنمنٹ“ کی افادیت بہت زیادہ ہے۔ یہی وہ نظام ہے جہاں گلی کا نالا، محلے کی سڑک، سکول کی دیوار اور قبرستان کی صفائی زیرِ بحث آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ان مسائل کو حل کرنے والے نمائندے ہی تعلیم سے ناآشنا ہوں تو وہ فیصلہ سازی کس بنیاد پر کریں گے؟
تعلیم نہ صرف شعور بخشتی ہے بلکہ فیصلہ سازی، تجزیہ، مکالمہ اور قانون فہمی کی صلاحیت بھی عطا کرتی ہے۔ ایک میٹرک یا ایف اے سطح کا تعلیم یافتہ فرد کم از کم درج ذیل چار چیزوں میں دوسروں سے بہتر ہوتا ہے :
1۔ ریڈنگ اور ڈاکومنٹس کی سمجھ: سرکاری فنڈز، ڈویلپمنٹ اسکیمز، قواعد و ضوابط، اور دفتری مراسلت ایک مخصوص فہم کا تقاضا کرتے ہیں۔ بغیر تعلیم کے، نمائندہ ان دستاویزات کو سمجھنے کے بجائے دوسروں پر انحصار کرتا ہے، جس سے کرپشن کے دروازے کھلتے ہیں۔
2۔ ڈیسیشن میکنگ اور پلاننگ: تعلیم فرد کو مسائل کا تجزیہ کرنے، اعداد و شمار کی جانچ، اور بہتر فیصلے کرنے کے قابل بناتی ہے۔ انگریزی میں اسے ”Critical Thinking“ کہا جاتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ نمائندہ سڑک کے بجٹ کو پینے کے پانی کی سکیم پر ترجیح دے سکتا ہے، اگر وہ سائنسی اور صحت سے متعلق پہلوؤں کو جانتا ہو۔
3۔ قانونی فہم: بلدیاتی نمائندہ اگر آئین پاکستان کے آرٹیکل 140۔ A، پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022، اور آر ٹی آئی ایکٹ جیسے قوانین سے ناواقف ہو تو نہ صرف وہ اپنی طاقت کا غلط استعمال کرے گا بلکہ شہریوں کے حقوق کا بھی خیال نہیں رکھ پائے گا۔ تعلیم یافتہ نمائندے ان قوانین کے دائرہ کار کو سمجھتے ہوئے اپنے اختیارات کو بہتر استعمال کرتے ہیں۔
4۔ مواصلاتی صلاحیت: ایک نمایندہ جب حکومت، میڈیا، عدالت یا دیگر اداروں سے مخاطب ہوتا ہے، تو اس کی بات کا اثر تبھی ہوتا ہے جب وہ دلیل، حوالہ اور زبان کے آداب سے واقف ہو۔ تعلیم فرد کو یہ آداب سکھاتی ہے۔
تعلیم کے بغیر سیاست: نقصانات اور دیرپا اثرات
جب تعلیم کو نظرانداز کر کے صرف برادری، پیسے، یا سیاسی اثر رسوخ کی بنیاد پر نمائندے منتخب کیے جاتے ہیں، تو نظام میں ذاتی مفاد، اقربا پروری، اور بے ضابطگیاں جنم لیتی ہیں۔ نچلی سطح کی کرپشن، اقلیتوں اور خواتین کے ساتھ تعصب، منصوبہ بندی کا فقدان، اور وسائل کا ضیاع تعلیم کی کمی کے سبب پیدا ہونے والے وہ نقصانات ہیں جو دہائیوں تک قوم کی پشت پر بوجھ بنے رہتے ہیں۔
یہ نمائندے نہ صرف قانون سے لاعلم ہوتے ہیں، بلکہ وہ اپنے عہدے کو ذاتی دبدبے کا ذریعہ بناتے ہیں۔ ان کے فیصلے منطقی یا عوامی مفاد پر مبنی نہیں ہوتے بلکہ روایتی رسومات، ذاتی تعلقات یا کسی مخصوص طبقے کی خوشنودی پر مبنی ہوتے ہیں۔ ایسے فیصلے ناصرف علاقے کو پسماندہ رکھتے ہیں، بلکہ عوام کو بھی بدظن کرتے ہیں۔
تعلیم یافتہ قیادت: ترقی کا راستہ
دنیا بھر کی کامیاب جمہوریتیں اس حقیقت پر متفق ہیں کہ عوامی نمائندے کا تعلیم یافتہ ہونا اس کے کردار کی مضبوطی، نیت کی شفافیت، اور کارکردگی کی ضمانت ہوتا ہے۔ بھارت، سری لنکا، اور بنگلہ دیش جیسے ہمسایہ ممالک میں بھی مقامی نمائندوں کی تربیت اور تعلیمی معیار پر زور دیا جا رہا ہے۔
اگر پاکستان میں چیئرمین کے لیے کم از کم ایف اے، اور ممبر (کونسلر) کے لیے میٹرک کی شرط نافذ کی جائے، تو اس کا براہِ راست اثر فیصلہ سازی، عوامی شمولیت، اور شفافیت پر ہو گا۔ اس سے ایک ایسا سیاسی کلچر پروان چڑھے گا جہاں میرٹ، صلاحیت اور علم کو فوقیت حاصل ہوگی۔
قانونی پہلو اور آئینی جواز
پاکستان کے آئین میں تعلیم کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے (آرٹیکل 25۔ A) ۔ تو کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ قانون سازی اور عوامی خدمت کی ذمہ داری بھی تعلیم یافتہ افراد کو دی جائے؟ یہ سوال آئینی بحث کا متقاضی ہے۔ مزید برآں، آئین کا آرٹیکل 140۔ A صوبوں کو اختیار دیتا ہے کہ وہ بلدیاتی اداروں کو اختیارات تفویض کریں۔ کیا یہ اختیارات ان افراد کو دیے جائیں جو دستخط کرنا نہیں جانتے، یا ان کو جو سسٹم کو سمجھ کر بہتری لا سکتے ہیں؟
اب جبکہ تعلیم کی شرط لگانا محض ایک قانونی شق نہیں بلکہ ایک فکری انقلاب کی شروعات ہے۔ یہ شرط صرف ایک دروازہ نہیں کھولتی بلکہ کئی دروازے بند بھی کرتی ہے۔ کرپشن، نا اہلی، اقربا پروری، اور عوامی اعتماد کے زوال جیسے دروازے۔ ہمیں ایسے نمائندے چاہئیں جو بات صرف کرتے نہ ہوں بلکہ سمجھتے بھی ہوں۔ جو لوگوں کے دکھ سمجھ سکیں، اور قانون کی روشنی میں ان کے مسائل کا حل نکال سکیں۔
وقت آ چکا ہے کہ ہم تعلیم کو صرف اپنی اولاد کے لیے نہ چاہیں، بلکہ ان نمائندوں کے لیے بھی جو ہماری زندگیوں، ہمارے علاقوں اور ہمارے مستقبل کے فیصلے کرتے ہیں۔ ایسا نظام ایک بار لا کر دیکھ لیں پورا لوکل گورنمنٹ کا سسٹم ٹھیک ہو جائے گا۔


