سانحہ ہے مارکیٹ اور پیرس کمیون
شاعر مشرق نے اپنی نظم میں جب لینن کو خدا کے حضور پیش کیا تو لینن خدا سے کچھ یوں شکوہ کناں ہوا:
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات
اگرچہ اقبال کے کہے گئے ان الفاظ میں ایک مزدور کے اوقات سے مراد اس کی پوری زندگی ہے لیکن مزدوروں کے یہی وہ اوقات کار تھے جن کو تبدیل کرانے کی جدوجہد میں شکاگو کے مزدور پھندوں پر جھول گئے تھے۔ انیسویں صدی میں جب دنیا صنعتی دور میں داخل ہو رہی تھی تو اس وقت دنیا بھر کے مزدوروں کے اوقات واقعی بہت تلخ ہو چکے تھے۔ مزدور، سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کے ہاتھوں بھرپور استحصال کا شکار تھے۔ نہ ان کے کوئی کام کرنے کے اوقات مقرر تھے، نہ ان کی اجرتیں مناسب تھیں اور نہ ہی انھیں کوئی حقوق حاصل تھے۔ حادثے اور موت کی صورت میں کوئی معاوضہ نہ تھا۔ ہفتے کے ساتوں دن بارہ گھنٹے کام اور بچوں سے جبری مشقت کروانے جیسے کام سر فہرست تھے۔
یوم مئی دنیا بھر کے محنت کشوں کا عالمی تہوار ہے۔ آج کے دن دنیا بھر کے محنت کش شکاگو کے ان شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جلسے اور ریلیاں منعقد کرتے ہیں جنہوں نے اپنی گردنوں میں پھانسی کے پھندے ڈلوا کر آٹھ گھنٹے اوقات کار مقرر کروائے تھے۔ شکاگو امریکہ کی ریاست الینائے کا سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے۔ کامرس اور انڈسٹری میں آج دنیا کی قیادت کرنے والا یہی وہ شہر تھا جہاں مزدوروں نے اپنی جان کی قیمت دے کر نہ صرف اپنے لیے حقوق حاصل کیے بلکہ ساری دنیا کے مزدوروں کو یہ سبق سکھا گئے کہ اپنے حقوق کے حصول کی خاطر کیسے لڑا جاتا ہے۔ شکاگو کے انہی مزدوروں کی یاد میں آج پوری دنیا میں یہ دن منایا جاتا ہے جہاں بھرپور طریقے سے ان مزدوروں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔
محنت کشوں کی جدوجہد میں اگرچہ شکاگو کا ایک بلند مقام ہے لیکن اس دور میں، جب صنعت و حرفت کی دنیائیں آباد ہو رہی تھیں، مزدور دنیا کے دوسرے کونوں میں بھی منظم ہو رہے تھے۔ کارل مارکس کے نظریات دنیا بھر کے مزدوروں کو اپنی جانب کھینچ رہے تھے۔ برطانیہ میں باقاعدہ ٹریڈ یونین کا قیام عمل میں آ چکا تھا۔ آسٹریلیا کے مزدور اپنے حق میں ”888“ کی تحریک چلا چکے تھے جس کا مطلب تھا آٹھ گھنٹے کام، آٹھ گھنٹے خاندان کا وقت اور آٹھ گھنٹے آرام۔
شکاگو کے واقعے سے پندرہ سال قبل فرانس کے شہر پیرس میں ایک ایسا واقعہ پیش آ چکا تھا جسے دنیا پیرس کمیون کے نام سے جانتی ہے۔ یہ دنیا میں محنت کشوں کی پہلی حکومت تھی جس نے پہلی بار ایک سوشلسٹ طرز حکومت قائم کرنے کی کوشش کی۔ یہ حکومت اگرچہ قائم تو صرف دو ماہ رہی تھی لیکن اس کا اثر عالمی سطح پر بہت گہرا رہا اور اس نے دنیا بھر کی مزدور تحریکوں میں ایک نئی روح پھونک دی تھی۔
ان حالات کے تناظر میں امریکہ کے مزدوروں نے پانچ ستمبر 1882 کو نیویارک میں پہلی لیبر ڈے پریڈ منعقد کی۔ اس پریڈ میں مزدوروں کی بہت بڑی تعداد نے حصہ لیا اور یوں یہ پریڈ ہر سال منائی جانے لگی۔ اپریل 1886 میں شکاگو کے مزدوروں نے اعلان کر دیا کہ جب تک آٹھ گھنٹے کا ٹائم ٹیبل لاگو نہیں کیا جاتا کوئی مزدور کام پر نہیں آئے گا۔ ہڑتال کے اس شیڈول کے تحت یکم مئی کے روز شکاگو میں پینتیس ہزار مزدور ہڑتال پر چلے گئے۔ احتجاج کے تیسرے دن کچھ تشدد ہوا اور پولیس نے غیر مسلح کارکنوں پر گولی چلا دی جس سے دو ہڑتالی مزدور شہید ہو گئے۔ چار مئی کو اس واقعے کے خلاف مزدوروں نے شکاگو کی ”ہے مارکیٹ“ (گھاس منڈی) کے مقام پر ایک پرامن جلسے کا اعلان کیا۔ مزدور قائدین کے لیے جو سٹیج بنایا گیا تھا وہ بھی ایک گھاس لے جانے والی گاڑی ہی تھی۔ مزدوروں کا محبوب لیڈر ”آگسٹ سپائیز“ بھی یہیں تھا۔ اس جلسے کے دوران کسی نے بم پھینک دیا جس کے نتیجے میں کچھ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔ پولیس کی جوابی فائرنگ سے سات مزدور بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اس دوران مزدور اپنی سفید شرٹوں کو سرخ خون سے رنگ کر لہراتے رہے اور یوں سرخ رنگ محنت کشوں کی جدوجہد اور قربانی کا نشان بن گیا۔ بم پھینکنے والے کا تو نہ پتہ چل سکا لیکن پولیس نے مزدور رہنماؤں سمیت سینکڑوں محنت کشوں کو گرفتار کر کے عدالت میں مقدمے چلائے۔ اس مقدمے میں سپائیز سمیت چار مزدور رہنما پھانسیوں پر جھول گئے۔ اس واقعے کو Hay Market سانحہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
سپائیز اور اس کے ساتھیوں کو شکاگو کے فارسٹ پارک قبرستان میں دفن کیا گیا اور ان کی قبروں پر ایک یادگار بنائی گئی جسے ”حے مارکیٹ مارٹرز مانیومنٹ“ کا نام دیا گیا۔ آگسٹ سپائیز کا ایک جملہ اس یادگار پر لکھا ہے ”ایک دن آئے گا جب ہماری خاموشی ان آوازوں سے زیادہ طاقتور ہو گی جنہیں آج تم دبانے کی کوشش کر رہے ہو۔“
تمام تر ریاستی جبر و تشدد کے باوجود بھی یہ تحریک ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط، منظم و عالمی شکل اختیار کرتی گئی۔ یہ تحریک ہر طرح کے تعصب یعنی رنگ، نسل، ملک، قوم اور زبان کی زنجیروں کو توڑ چکی تھی اور خالصتاً طبقاتی بنیادوں پر استوار تھی۔ تحریک کا نقطہ ”دنیا بھر کے محنت کشو! ایک ہو جاؤ“ تھا۔ پھانسیوں کے اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں یہ مطالبہ زور پکڑ چکا تھا کہ کام کے اوقات کار آٹھ گھنٹے روزانہ مقرر کیے جائیں اور بالآخر اس جدوجہد کے نتیجے میں دنیا بھر کے محنت کشوں نے آٹھ گھنٹے کے اوقات کار حاصل کیے۔ 1938 میں امریکی حکومت نے ”نیو ڈیل فیئر لیبر سٹینڈرڈ ایکٹ“ کے تحت آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کو قانونی شکل دی جو بعد میں ساری دنیا میں نافذ ہوا۔
1889 میں دوسری انٹرنیشنل (سوشلسٹ تحریک) نے فیصلہ کیا کہ ہر سال یکم مئی کو مزدوروں کا عالمی دن منایا جائے اور یوں
1890 سے ہر سال یکم مئی کو مزدوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یکم مئی کا دن ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ کس طرح پرولتاریہ طبقے (محنت کش طبقہ) نے بورژوائی طبقے (دولت اور حکومت پر قابض طبقہ) کے خلاف جدوجہد کی اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کی۔ آئیے ہم سب مل کر شکاگو کے ان شہدا کو خراج تحسین پیش کریں اور ان محنت کشوں کے لیے ہاتھ اٹھائیں جن کی وجہ سے انسانی معاشرے نے تو خوب ترقی کی لیکن ان کے اپنے حالات اب بھی بہت تلخ ہیں۔


