پروفیسر خورشید احمد :علمی روایت کا قصہ تمام شد
اُدھر ڈاکٹر تقی عابدی کو ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں کینڈین سول انعام ”کنگ چارلس سوم ایوارڈ“ دینے کی خبر اِدھر پاکستان پہنچی الحمد اسلامی یونیورسٹی، شعبہ اردو کے چیئرمین ڈاکٹر شیر علی خاں نے، ان کے پاکستان آنے پر ایک تقریب کی منصوبہ بندی کرلی۔ ڈاکٹر تقی عابدی آ گئے تو یہ تقریب بہت اہتمام سے ہوئی۔ میں اس تقریب کا احوال سنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ وہاں کہے ہوئے پروفیسر فتح محمد ملک کے چند جملے مقتبس کرنا چاہتا ہوں کہ ان ہی میں وہ شدید جملہ بھی ہے جو مجھے پروفیسر خورشید احمد کے بارے میں اپنے منتشر خیالات لکھنے کی طرف متوجہ کر گیا تھا۔ ملک صاحب نے کہا تھا:
”کیا ہمیں پتہ نہیں کہ اسلام کے نام پر قیام پاکستان کی مخالفت ہوئی ہے۔ دارالعلوم دیوبند میں بیٹھے لوگ نہرو اور گاندھی کے ساتھ تھے۔ مولانا مودودی کہاں تھے، کس کے ساتھ تھے؟ ہم نے ان کا اسلام اپنا لیا ہے اور اسلام کے جس تصور پر پاکستان کی تحریک چلی اسے چھوڑ دیا۔“
”ہم کیا کرتے چلے آرہے ہیں، یہ نہیں دیکھ رہے کہ پاکستان کس کے تصور سے وجود میں آیا تھا۔ اقبال کی تفہیم و تعبیر جو قائداعظم نے قبول کی، جو برصغیر کے مسلمانوں نے قبول کی اور جس کے نتیجے میں پاکستان قائم ہوا اسے ہم کیوں نہیں اپناتے۔“
”یہ دیکھنا ہو گا کہ اسلام اور پاکستان کا مطلب کیا ہے اور وہ کس سے پوچھیں گے۔ جنہوں نے پاکستان کی مخالفت کی یا جنہوں نے پاکستان قائم کیا؟“
یاد رہے 13 اپریل 2025کو لیسٹر، برطانیہ سے پروفیسر خورشید احمد کے انتقال کر جانے کی خبر آئی تھی۔ وہ 93 برس کے تھے۔ ان کی یاد میں دائرہ علم و ادب، پاکستان نے مرحوم کے قائم کیے ہوئے ادارے ”انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز، اسلام آباد میں ایک تعزیتی ادبی ریفرنس میں گفتگو کے لیے جب مجھ سے رابطہ قائم کیا تو میں نے کہا تھا کہ میں کچھ نہ کہہ پاؤں گا۔ اُدھر سے اصرار رہا تاہم کچھ بھی لکھنے کو سوجھ نہ رہا تھا، حتیٰ کہ ڈاکٹر تقی عابدی والی تقریب میں پروفیسر فتح محمد ملک کو سنا اور میرے دھیان میں پروفیسر خورشید احمد مرحوم کی ایک تحریر آ گئی۔
یوں کچھ منتشر خیالات لکھنے کی طرف متوجہ ہو گیا۔ یہ تحریر مرحوم کے بھائی اور رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد کی صدارت میں منعقد ہونے والے تعزیتی ریفرنس میں پڑھی گئی۔ آغاز میں، میں نے یہ وضاحت کر دی تھی کہ میرا تعلق لکھنے پڑھنے سے ہے۔ سیاست اور سیاست دانوں سے دور بھاگتا ہوں۔ بلکہ ملکی سیاست سے کچھ زیادہ ہی مایوس ہوں لہٰذا چند کتب کے حوالے سے بات کروں گا۔ ]
میں نے اپنے بچپن اور لڑکپن میں اپنے والد صاحب کی لائبریری میں جن کتب کو دیکھ رکھا تھا ان میں، ’کلیات اقبال اُردو‘ حفیظ جالندھری کی ’شاہنامہ اسلام‘ ، اکبر نجیب آبادی کی ’تاریخ اسلام‘ ، سید علی ہجویری کی ’کشف المحجوب‘ ، امین احسن اصلاحی کی ’تزکیہ نفس‘ ، جلیل احسن ندوی کی ’زاد راہ‘ اور ’راہ عمل‘ ، صدر الدین اصلاحی کی ’حقیقت نفاق‘ ، ابوالحسن علی ندوی کی ’عصر حاضر میں دین کی تفہیم و تعبیر‘ ، نعیم صدیقی کی ’محسن انسانیت‘ اور سید مودودی کی تفہیم القرآن کی جلدوں کے علاوہ دوسری کتب کے ساتھ رکھی ہوئی پروفیسر خورشید احمد کی بطور خاص دو کتابیں تھیں جن کا نقش ابھی تک میرے ذہن پر قائم ہے۔
ان میں پہلی کتاب: ’اسلامی نظریہ حیات‘ تھی۔ پروفیسر خورشید احمد نے یہ کتاب تب تالیف کی جب وہ کراچی یونیورسٹی میں لیکچرار تھے۔ اس کا پیش لفظ اس وقت کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے لکھا تھا اور کتاب بھی کراچی یونیورسٹی سے شائع ہوئی تھی۔ اگر چہ یہ کتاب ان کی تصنیف نہیں تالیف تھی مگر اس میں لگ بھگ ان سارے موضوعات پر تحریروں کو مدون کر دیا گیا تھا جو اس موضوع کے تقاضے کی ذیل میں آتی تھیں۔ حواشی اور معاون کتب کے حوالہ جات نے اسے نہ صرف مفید بنا دیا تھا، مجھے اکسایا بھی تھا کہ اس کتاب کی فراہم کردہ معلومات کو راہنما کر کے کچھ اور پڑھتا رہوں۔
’تذکرہ زنداں‘ ؛ پروفیسر خورشید احمد کی وہ دوسری کتاب تھی جو میں نے اسی زمانے میں پڑھی تھی۔ یہ 1964 میں ان کے اسیری میں گزرے لگ بھگ گیارہ ماہ کی داستان تھی۔ اس کتاب کا اسلوب بہت سادہ اور دلنشین تھا اور متن میں جابجا مگر برمحل اشعار کو مقتبس کیا گیا تھا۔ ابواب کے عنوانات بہت دلچسپ تھے ؛ دو تین مثالیں دیکھیے ؛
”عشق اپنے مجرموں کو سوئے زنداں لے چلا“ ،
”وہ میرا پہلے پہل داخل زنداں ہونا“ اور
”جس نے ہنگامہ ’عدالت‘ کا تری دیکھا ہے“ وغیرہ۔
مجھے یاد ہے اس کتاب کا انتساب انہوں نے اپنے بھائی انیس کے نام کر کے نیچے مومن کا یہ شعر مقتبس کیا تھا:
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
کتاب کے اندر بھی ایک نامہ اپنے اسی بھائی کے نام تھا اور بھائی کو یوں مخاطب کیا گیا تھا جیسے کوئی اپنی بچھڑی ہوئی محبوبہ سے مخاطب ہو۔ یہ کتاب ان کے اعلیٰ ادبی ذوق کی شہادت ہو کر میرے سامنے آئی تھی۔ پہلی کتاب مجھے اس لیے بھی خوش آئی تھی کہ اس میں کسی مذہبی ادارے کے تربیت یافتہ عالم کے نقطہ نظر کے پہلو بہ پہلو ایک مختلف اور جدید تعلیمی پس منظر رکھنے والے اور جدید دنیا کے مسائل اور تقاضوں سے آگاہ صاحب علم شخص کی رائے بھی پڑھنے کو مل رہی تھی، جب کہ زنداں کے تذکرے والی کتاب ان کے اعلیٰ ادبی ذوق کی شہادت ہو گئی تھی لہٰذا میں ان کی دوسری کتب کی طرف بھی متوجہ ہو گیا تھا۔
’تذکرہ زنداں‘ کو پڑھتے ہوئے میں نے محسوس کیا تھا کہ وہ مولانا محمد علی جوہر کی شخصیت سے بہت متاثر تھے۔ ان کے اشعار کتاب کے ابتدائی حصے میں قدرے فراوانی سے پڑھنے کو ملتے ہیں۔ انہوں نے ایک مقام پر لکھا ہے کہ انہیں اپنی نو عمری سے جن شخصیات سے والہانہ محبت تھی ان میں مولانا محمد علی سر فہرست تھے۔ انہوں اپنے والد کے نام مولانا کا ایک خط سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔ پروفیسر خورشید احمد کو گرفتار کر کے کراچی کی سنٹرل جیل میں رکھا گیا تھا۔ اس کا احوال لکھتے ہوئے انہوں نے مولانا محمد علی کو یاد کیا اور لکھا تھا کہ ایک زمانے میں وہ بھی اسی سنٹرل جیل میں لائے گئے تھے۔ وہ اس پر نازاں تھے کہ ان پر وہی گزر رہی تھی جو ان کی محبوب شخصیت مولانا محمد علی پر گزری تھی۔
4۔ مجھے یوں لگتا ہے مولانا محمد علی سے یہ محبت انہیں وراثت میں ملی تھی۔ میں نے کہیں پڑھ رکھا ہے کہ پروفیسر صاحب کے والد نذیر احمد قریشی دہلی کے بڑے تاجروں میں شمار ہوتے تھے اور وہ مولانا محمد علی، مولانا شوکت علی اور حکیم اجمل جیسے صاحبان علم و عمل کا حلقہ احباب رکھتے تھے۔ ’کامریڈ‘ رسالے کی مالی معاونت کرتے تھے اور تحریک خلافت میں پیش پیش تھے۔ بعد میں مسلم لیگ کا حصہ ہوئے اور تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
اسی زمانے میں انہیں سید مودودی سے قربت بھی رہی جنہوں نے انہیں اپنی جماعت کے مشاورتی بورڈ میں بھی شامل کر لیا تھا۔ تاہم یہ بات بہت دلچسپ اور عجیب لگی کہ سید مودودی تو تحریک پاکستان کے کارکن نہ ہوئے ؛بہ قول پروفیسر خورشید صاحب بس ”ہمدرد اور غیر جانب دار ’رہے۔ یہ بات انہوں نے عدالت میں اپنے بیان میں کہی تھی۔ تاریخ کے اس اہم موڑ پر یہی‘ غیر جانبداری ’ہی تھی جو ایوب خان کے عہد میں ان کی جماعت کو قیام پاکستان کی مخالف جماعت کہہ کر پابندی لگانے کا جواز ہو گئی تھی۔
جماعت پر سے پابندی تو اٹھ گئی مگر قیام پاکستان کی مخالفت کا الزام ابھی تک تواتر سے دہرایا جا رہا ہے۔ کل ہی ایک تقریب میں پروفیسر فتح محمد نے کہا ہے کہ پاکستان کو ان خطوط پر ہی چلایا جائے جو تحریک پاکستان کے رہنماؤں نے طے کیے تھے، نہ کہ جماعت اسلامی اور دوسری مذہبی جماعتوں کے، جو قیام پاکستان کی مخالف تھیں۔ خیر، نذیر احمد قریشی اس ہنگامے میں خوب خوب متحرک تھے وہ آل انڈیا مسلم لیگ کی کونسل کے رکن بن گئے تھے۔ پروفیسر خورشید احمد نے ایوبی دور میں گرفتار ہونے کے بعد عدالت میں انتہائی فخر سے بیان دیا تھا کہ وہ طالب علمی کے زمانے میں تحریک پاکستان سے وابستہ رہے تھے گویا یہ عمل ایک فرض کفایہ کی ادائی جیسا تھا، جس کی تحریک انہیں اپنے والد اور مولانا محمد علی سے ہوئی تھی۔
خورشید احمد صاحب 1968 میں کراچی یونیورسٹی کی ملازمت چھوڑ کر پی ایچ ڈی کرنے برطانیہ چلے گئے تھے وہاں لیسٹر میں انہوں نے اسلامک فاونڈیشن قائم کی جس کی مالی معاونت وہاں موجود مسلمان کرتے تھے، یہ بین الاقوامی سطح کا پہلا ادارہ تھا جو انہوں نے قائم کیا اور جس کی شاخیں نیروبی، کینیا اور نائیجریا میں بھی بنالی گئیں اسی تنظیم نے ایک انگریزی رسالہ ’امپیکٹ‘ بھی جاری کیا تھا جس کے مدیر حاشر فاروقی تھے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی شخصیت کی اٹھان کیسی تھی اور ان کی زندگی کی ترجیحات کیا ہو گئی تھیں۔
انہوں نے لیسٹر یونیورسٹی سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی تھی اور بعد والی زندگی میں ان کی شناخت اسلامی معاشی فقہ کے ماہر کے طور پر مستحکم ہوتی چلی گئی۔ اس کے پیچھے ان کی سیاسی کارکن ہوتے ہوئے بھی مسلسل علمی ریاضت تھی۔ انہوں نے اسلامی معیشت کے خال و خد واضح کرنے کے لیے بہت لکھا تھا ان کے اس علمی خدمت کے اعتراف میں 1990 میں اسلامی ترقیاتی بنک کا انعام، شاہ فیصل ایوارڈ دیا گیا تھا۔
ان کی یہی مستحکم علمی شخصیت میرے سامنے رہی اور مجھے بہ طور خاص غیر سودی بنکاری کی بنیادی اصول سمجھنے کے لیے انہیں بار بار پڑھنا پڑا۔ میں جس بینک میں تھا، ان دنوں اس میں اسلامک بینکنگ پر کام ہو رہا تھا اور جو کمیٹی اس پر کام کر رہی تھی مجھے اس کے قریب رہنے کا موقع ملا۔ ایسے میں ڈاکٹر تنزیل الرحمٰن کی سربراہی میں وفاقی شرعی عدالت کے تین رکنی بینچ کے سودی نظام کے خلاف دیے گئے فیصلے کے علاوہ اقر الصدر شہید، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی، ڈاکٹر محمود ابو سعود اور ڈاکٹر محمد عزیز کی تحریروں کو پڑھنے کا موقع ملا اور نواز شریف حکومت کی ’خود انحصاری کمیٹی‘ کی 1991 والی وہ رپورٹ بھی دیکھی جس کمیٹی کی سربراہی پروفیسر خورشید احمد نے کی تھی۔
وہ غیر سودی بنکاری میں بہت واضح اور دو ٹوک نقطہ نظر رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے ایک اور مضمون میں مستقبل کے معاشی نظام کو تشکیل دینے کے لیے انگریزی کے ’سی‘ سے آغاز پانے والے سات سجھائے تھے ؛ 1۔ کومٹ منٹ، 2۔ کریکٹر، 3۔ کریٹویٹی، 4۔ کمپے ٹیشن، 5۔ کوآپریشن، 6۔ کمپے شن، اور 7۔ کو ایگزسٹنس؛ اور ان کی ذیل میں جو انہوں نے لکھا وہ ایسا کہ ایک صحت مند معاشی نظام کا نقشہ سامنے آ جاتا ہے۔
پروفیسر خورشید احمد نے ”چراغ“ راہ اور ”ترجمان القرآن“ میں بھی لکھا، ان پرچوں کی ادارت سے منسلک رہے اور اداریہ نویسی بھی کی۔ یہ پرچے ایک زمانے میں ہمارے گھر آیا کرتے تھے۔ ’چراغ راہ‘ کا بارہویں شمارہ ’نظریہ پاکستان نمبر‘ تھا اور اس کے اداریے میں پروفیسر خورشید احمد نے لکھا تھا کہ ”نظریہ پاکستان، اسلامی نظریہ ہی کا دوسرا نام ہے۔“ میں یہ جملہ پڑھ کر چونکا تھا کہ اگر نظریہ پاکستان، اسلامی نظریہ ہی تھا تو اس باب میں ’غیرجانبدار‘ رہنے کا کیا جواز رہ جاتا تھا۔
اس شمارے میں مضامین لکھنے والے اور پاکستان اور اسلامی نظریہ کے عنوان سے ایک مذاکرے میں شامل افراد مختلف فکری پس منظر رکھتے تھے اس لیے یہ شمارہ اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے اسی شمارے کو پروفیسر خورشید احمد نے عدالت میں پاکستان سے اپنی، اور اپنی جماعت کی وفاداری اور محبت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا تھا۔
پروفیسر خورشید احمد نے اقبال پر بھی مضامین لکھے ہیں۔ وہ انہیں تجدید فکر ِ اسلامی کا نقیب کہتے تھے۔ ان کی نظر میں اقبال نہ تو محض شاعر تھے نہ ہی صرف فلسفی، ان کی شخصیت مختلف عناصر سے مل کر بنی تھی جو لوگ اقبال کی فکر میں تضادات دیکھتے ہیں یا انہیں محض شاعر سمجھتے ہیں وہ پورے اقبال کو سمجھنے میں ٹھوکر کھاتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اقبال تقلید کے قائل نہیں تھے ؛ اجتہاد کے طرف دار تھے۔ انہوں نے اقبال کے اجتہاد کو ’تخلیقی اجتہاد‘ کا نام دیا تھا۔ ان کے اقبال کے یہاں حرکی اسلام کا تصور تھا۔ اقبال کی خودی کی تشریح ہو یا عقل اور وجدان کے درمیاں اقبال کا قائم کیا ہوا تعلق، اس باب میں پروفیسر خورشید کی تحریریں پڑھے جانے کے لائق ہیں۔
پروفیسر خورشید احمد تین بار سینٹر منتخب ہوئے اور تینوں بار مختلف صوبوں سے۔ ایک بار وزیر بننے اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمشن ہونے کی تہمت بھی لگی۔ یہ کوئی جمہوری دور نہ تھا ضیائی مارشل لا کا زمانہ تھا۔ ان کی جماعت پر الزام رہا ہے کہ وہ اس طرح کی غیر جمہوری قوتوں کی بہت آسانی سے آلہ کار ہو جاتی رہی ہے۔ اگرچہ وہ 8 ماہ تک ہی حکومت کا حصہ رہے مگر یہ ایسا پکا داغ تھا جو مستقل طور پر اس شریف النفس دانشور کے دامن پر لگا رہ گیا۔
آخر میں معذرت کے ساتھ ایک بات کہنا چاہوں گا ؛ممکن ہے یہ بات آپ کو اچھی نہ لگے۔ میں درست یا نادرست یہ سمجھتا ہوں کہ ایک علمی ادبی روایت جس کا آغاز سید مودودی اور ان کے ہم فکر ساتھیوں سے ہوا تھا پروفیسر خورشید احمد کی وفات کے ساتھ ہی وہ روایت ختم ہو گئی ہے۔ یہاں بانی جماعت کے غیر مشروط مقلدین بہت ہیں ؛ جدید دور کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر مذہبی فکر کی تشکیل نو کرنے اور بد لتے حالات میں فکری رہنمائی کرنے والے یا پھر کم از کم قلم، علم اور کتاب سے رشتہ جوڑنے والے خال خال نظر آتے ہیں۔
کیا یہ درست نہیں ہے کہ اس کارواں میں سیاست کی دھواں چھوڑتی گاڑی کے پیچھے بگٹٹ بھاگنے والے اور جذباتی نعرے لگا کر لوگوں کی بھیڑ اکٹھی کر لینے والے غالب نظر آنے لگے ہیں۔ ایسے میں اس خلا کا احساس شدت سے ہوتا ہے جو پروفیسر خورشید احمد اور ان سے پہلے، اسی قبیلے کے صاحبان علم کے چل بسنے سے پیدا ہو گیا ہے۔ میرزا مظہر جانجاناں کے ایک شعر کے مصرع ثانی کے ساتھ رخصت چاہتا ہوں۔
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را


