چِیٹو: ’ایشیائی فرانسس‘ کہلانے والے متوقع پوپ
کسی بھی جمہوری مُلک میں حکومت سازی کے انتخابات ہوں یا مذہبی منصب سنبھالنے جیسے پاپائے روم کے لئے رائے شُماری، ہر دو میں اندازے اور اُمیدواروں کی کارکردگی کے جائزے منظر پر آتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک تجزیہ متوقع پوپ کے لئے سامنے آ رہا ہے، جس میں آئندہ پوپ کے لئے متعدد کارڈینلز کے نام زیرِ غور ہیں۔ البتہ حتمی نام کا فیصلہ اِلٰہی طاقت سے سامنے آئے گا۔
پاپائے روم چُنے جانے کے لئے ایک کارڈینل کا نام ایشیا سے بھی سامنے آ رہا ہے۔ وہ ایسے کارڈینل ہیں جنہیں ’ایشیائی فرانسس‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی سادہ زندگی اور غریبوں اور پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود پر زور پوپ فرانسس کی زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔
پوپ بننے کے لئے وہ دوسری بار ایک سنجیدہ اور پسندیدہ امیدوار کارڈینل لوئس انٹونیو ٹیگلے ہیں۔ ٹیگلے 2013 میں بھی اُس کانکلیو (کارڈینلز کا وہ گروپ جو پوپ کا انتخاب کرتا ہے ) میں مضبوط اُمیدوار تھے، بہرحال تب پاپائیت کا قرعہ پوپ فرانسس کے نام کا نکلا تھا۔
کارڈینل ٹیگلے جو ’چیٹو‘ کے نام سے پکارے جانا پسند کرتے ہیں، کو پوپ بینیڈکٹ سولہ نے مستعفی ہونے سے چار ماہ قبل کارڈینل کے منصب پر سرفراز کیا تھا۔
کارڈینل ٹیگلے (چیٹو) تب بھی ایک باصلاحیت مقرر، عوام کے عاجز خادم اور بیش بہا مہارتوں کے ساتھ سامنے آئے تھے۔ اُن کی وسیع پیمانے پر اِلہیاتی بصیرت نے اُنہیں ہر مقام اور مرحلے پر نمایاں رکھا۔
بعد ازاں اگلے 12 سالوں میں 67 سالہ ٹیگلے کا اثر و رسوخ اور قابلیت کا چرچا روم سمیت دنیا بھر میں بڑھتا چلا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اب ویٹیکن کے متعدد مبصرین کے مطابق پوپ منتخب ہونے کے لئے ایک سنجیدہ، مضبوط اور پسندیدہ امیدوار دیکھے جا رہے ہیں۔
لیکن جیسے جیسے اُن کی قابلیت کا چرچا اور ان کا قد و قامت بڑھا ہے، وہ جانچ پڑتال کی زد میں بھی آئے ہیں جس نے اُن کی چند ممکنہ انتظامی کمزوریوں کو بھی ظاہر کیا ہے اور یوں خاص طور پر قدامت پسند حلقوں میں اُن کے بہت سے مخالفین بھی نظر آنے لگے ہیں۔
فلپائن کے شہر منیلا میں 1957 میں پیدا ہونے والے ”چیٹو“ انتہائی دیندار کیتھولک والدین کی سب سے بڑی اولاد ہیں۔ تگالوگ قبیلے کے والد اور چینی نسل کی فلپائنی والدہ کے ٹیگلے کاہنوں کی جیزوٹ جماعت سے گہرے متاثر تھے۔ ٹیگلے نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی کیتھولک یونیورسٹی آف امریکہ میں سیکنڈ ویٹیکن کونسل کے اسکالر جوزف کومونچک کی نگرانی میں اپنی ڈاکٹریٹ کی تعلیم مکمل کی۔ ٹیگلے جب وطن واپس آئے تو انہیں فلپائن اور ایشیائی کیتھولک چرچ دونوں میں تیزی سے ابھرتے ہوئے ستارے کے طور پر پہچانا گیا۔
پوپ پال جان دوئم نے انہیں 1997 میں بین الاقوامی الہیاتی کمیشن میں ذمہ داری سونپی جو چرچ کے معتبر ترین ماہرینِ الہیات کا ویٹیکن کا مشاورتی ادارہ ہے۔ اس کمیشن میں انہوں نے کارڈینل جوزف، جو بعد میں پوپ بینیڈکٹ کے روپ میں سامنے آئے، کے ساتھ مل کر کام کیا۔
سال 2020 کے آغاز میں پوپ فرانسس، کارڈینل ٹیگلے کو ویٹیکن میں ڈیکاسٹری فارایونجلائزیشن کا سربراہ بنانے کے لیے روم لے آئے۔ یہ ادارہ چرچ کے وسیع مشنری علاقوں کی نگرانی کا ذمہ دار ہے۔ اس کردار میں ٹیگلے اس بات کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ہیں کہ ترقی پذیر ممالک میں گرجا گھروں کے پاس اپنے کاموں کے لیے ضروری مالی وسائل یا فنڈنگ موجود ہے۔ وہ روم کی پونٹیفیکل اربن یونیورسٹی کی بھی نگرانی کرتے ہیں، جہاں بہت سے مشنری تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ مزید براں ٹیگلے مختلف ڈایوسیس میں بشپس کی ممکنہ نشاندہی اور تعیناتی کے ذمہ دار بھی ہیں نیز درجنوں اہم ذمہ داریوں کا تجربہ رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ کاریتاس انٹرنیشنل کے صدر اور میگا چیریٹی کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ ایک معروف شخصیت ہیں۔
ٹیگلے اپنی بے پناہ خصوصیات اور صلاحیتوں کی بنیاد پر ایشیا کا پہلا پوپ بننے کے لئے سب سے زیادہ ممکنہ امیدوار ہیں۔ انہوں نے 2015 میں پوپ فرانسس کے فلپائن کے دورے کے دوران اُن کی میزبانی کی۔ منیلا میں پوپ فرانسس کی آخری یوخرستی عبادت میں 6 ملین سے زائد کیتھولک ایماندار شریک ہوئے، جسے بڑے پیمانے پر تاریخ کا سب سے بڑا پاپائی اجتماع قراردیا جاتا ہے۔
جس طرح پوپ فرانسس نے کلیسیائی زندگی میں وسیع تر اصلاحات شروع کرنے اور عام مومنین کی زیادہ سے زیادہ شرکت کے عمل پر تیزی سے انحصار کیا، اُسی طرح ٹیگلے بھی اس عمل کے حامی اور محافظ ہیں۔
ٹیگلے نے بحیثیت کاہن (فادر) ، سیمنری کے ریکٹر، بشپ اور پھر منیلا کے وسیع دارالحکومت کے آرچ بشپ کی حیثیت سے خدمت انجام دی ہیں۔ فلپائن کیتھولک مسیحیوں کا ایک مضبوط گڑھ ہے۔
سو سے زائد کارڈینلز میں سے کسی ایک کا پاپائے روم کی حیثیت سے انتخاب کیا جائے گا۔ ان میں سے چند ایک مضبوط امیدوار ہیں، بہرحال ہماری دعا ہے کہ کلیسائی انتظام اور مسیحیت کی بڑھوتری اور تبلیغ کے کام کے لئے بہترین امیدوار کا انتخاب ہو۔ آمین۔



