پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط (سلسلہ وار 13 )


Writing and Outlining

انسان نے بہت ترقی کرلی ہے اور اب زندگی پہلے کی بنسبت بہت آسان ہو گئی ہے۔ ترقی کی وجہ سے انسان کا طرز زندگی بدل گیا ہے۔ پہلے بچے گلی میں برف پانی کھیلا کرتے تھے۔ گڑیوں کی شادی ہوا کرتی تھی۔ مائیں بچوں کو پکڑ کر گھر لاتی تھیں۔ اب کے بچے X Box، PS 4 پر کھیلتے ہیں اور مائیں پریشان ہیں کہ بچوں کو گھر سے باہر کیسے بھیجیں۔ بچے جو کھیل ان gadgets پر کھیل رہے ہیں اس میں مار دھاڑ پر بہت زور ہے۔ ہر طرف گولیاں چل رہی ہیں اور جو زبان استعمال کی جا رہی ہے وہ بھی نازیبا ہے۔ جب بچہ ہر وقت ٹی وی کی اسکرین پر دشمن کو گولیوں کا نشانہ بنانا چاہے گا تو عام زندگی میں اس کو انسانوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا سکھانا بہت مشکل ہو جائے گا۔ بچے دن بہ دن ان gadgets میں کھوتے جا رہے ہیں۔ مستقل اس طرح کے کھیل کھیلنا بچے کی بینائی اس کی ذہنی نشو و نما کے لئے اچھا نہیں ہے بچہ ایک خیالی دنیا میں کھویا رہے گا اور باہر کی حقیقی دنیا سے کٹتا چلا جائے گا۔ ہم جب چھوٹے تھے تو اپنے بڑوں کے ساتھ رشتہ داروں اور ملنے والوں کے ہاں جایا کرتے تھے آج کا بچہ باہر جانا چاہتا ہے نہ کسی سے ملنا وہ بس gadgets کی مصنوعی دنیا میں کھویا رہنا چاہتا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ ہو رہا ہے کہ بچے اپنے بڑوں کے ساتھ کم اور مصنوعی کرداروں کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں۔ وہ ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بچے اب فٹ بال اور باسکٹ بال تک ٹی وی اسکرین پر کھیل رہے ہیں۔ بچے کی ذہنی اور جسمانی نشو و نما کے لئے کھیل کود بہت ضروری ہے مگر اب بچے میدان سے دور اور اسکرین کے قریب ہو گئے ہیں۔ جب بچہ ہر وقت ایک مصنوعی دنیا میں کھویا رہے گا جس کی چمک دمک اس کو کچھ اور سوچنے نہیں دے گی تو سقراط اور آئن اسٹین تو پیدا ہو چکے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں کا اسکرین ٹائم کم کیا جائے اور ان کو کھیل کود کے لیے میدان بھیجا جائے تاکہ وہ اپنے ذہن کا بہتر استعمال کریں اور بڑے کام کریں جسے کرنے کی ان میں صلاحیت ہے۔ پرما تم اور فرجاد کھیلوں میں دلچسپی رکھتے ہو یہ اچھی بات ہے۔ کوشش کرو کہ تم ان gadgets کے غلام نہ بنو حقیقی دنیا اور انسان بہت خوبصورت ہیں ان کے ساتھ جیو اور اس کا لطف لو۔

Facebook Comments HS