احتجاج یا ٹیبل ٹاک
جہاد کی مختلف اقسام ہیں۔ میدان جنگ کی بجائے ظالم و جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا بھی جہاد ہے۔ نفس امارہ اور برائی کے خلاف نفسیاتی جنگ لڑنا جہاد ہے۔ اسی طرح اپنے حق اور جائز مطالبات کے لیے آواز اٹھانا بھی جہاد کے زمرے میں آتا ہے۔ حکومت اخراجات کے بوجھ کی وجہ سے محکمہ تعلیم و صحت کے ادارے پرائیویٹائزیشن کر رہی ہے۔ محمکہ تعلیم تقریباً ایک سال سے اس نجکاری کے خلاف سراپا احتجاج تھا۔ برخاستگی، معطلی اور شوکاز کے خوف سے پنجاب ٹیچرز یونین پنجاب کے راہنماؤں نے اپنی تحریک کو ختم کر دیا ہے۔ بیس روز سے زیادہ ایام پر مشتمل محکمہ صحت کا جاری احتجاجی دھرنا اپنی مثال آپ قائم کر چکا ہے۔ ظلم، جبر و تشدد کے ساتھ برخاستگی، معطلی اور شوکاز کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز، ڈاکٹر اور محکمہ صحت کے دیگر ملازمین کی جرات و بہادری کو سلام پیش کرتا ہوں، مطالبات کی منظوری اور منزل میں کامیابی بے شک نہ ہو مگر یہ ملازمین یوٹیلٹی سٹور کے ملازمین کی طرح اپنے حقوق کے لیے سراپا احتجاج تو ہوئے، اپنے حق کے لیے آواز تو اٹھائی، سوشل میڈیا اور بستر میں بیٹھ کر تنقیدی مضامین ہی تخلیق نہیں کیے، یہ سب ملازمین میدان عمل کے سپاہی ہیں۔
حکومتی ایوانوں میں زمینی حقائق کی حیثیت نمک کے برابر ہے۔ محکمہ تعلیم کے راہنما (مامے چاچے ) ستو پی کر سو گئے ہیں۔ نجکاری کا عمل اپنی رفتار میں منزل کی طرف آگے بڑھ رہا ہے۔ ملازم کش پالیسیوں پر عملدرآمد حکومتی منشا کے مطابق ہو رہا ہے۔ سرکاری ملازمین کی سبکدوشی کے وقت لاکھوں روپوں میں کٹوتی معاشی قتل کے مترادف ہے۔ محکمہ صحت کے ملازمین کی طرح محکمہ تعلیم کے ملازمین کو اتحاد کی اشد ضرورت ہے۔ یہ اتحاد وقت کی ضرورت ہے مگر یہ اتحاد و یگانگت کسی بھی راہنما کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اساتذہ راہنماؤں نے 13000 سکولوں کی نجکاری پر سمجھوتہ کر لیا ہے۔ ملازم کش پالیسیوں پر چپ سادھ لی ہے۔ اس لیے اس بجٹ میں بھی ملازمین کے لیے کسی اچھی خبر کی امید نہیں ہے، کیونکہ حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کو اپنا مقدر اور قسمت سمجھ کر سرکاری ملازمین اپنے مطالبات سے دستبردار ہو چکے ہیں۔ وزیر تعلیم سرکاری سکول کو معیاری سکول بنانے کے مقصد کو کامیابی سے مکمل کر رہے ہیں۔ اساتذہ میں ہلکے پھلکے انعامات کی برسات سے اساتذہ میں مقابلے کی فضا پیدا کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ نقل جیسی لعنت کے خلاف متحرک ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ترکی میں 30000 اساتذہ بھرتی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کاش اس پر عملدرآمد ہو جائے، ریشنلائزیشن کے ذریعے اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کا اعلان کئی بار ہو چکا ہے۔ سپورٹس گالا سے اساتذہ میں نیا جوش و ولولہ پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
آنے والی موسم گرما کی تعطیلات میں محکمہ تعلیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ ریشنلائزیشن مکمل کی جائے گی۔ اضافی اسسٹنٹ ایجوکیشن افسران کو سکول میں تعینات کیا جائے گا۔ نجکاری کا فیز 3 مکمل کر کے اساتذہ کی کمی کو کافی حد تک مکمل کیا جائے گا۔ ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ کی آسامیاں ختم ہو جائیں گی۔ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے سرکاری سکول کا مقابلہ سرکاری سکول سے کیا جائے گا۔ مقابلے کی فضا پیدا کر کے معیار تعلیم بلند کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ حالیہ حکومت کے ہوتے ہوئے اب صرف معیاری اور زیادہ تعداد پر مشتمل سکول ہی حکومت پنجاب کے تحت ہوں گے، اس کے علاوہ تمام سکولوں کو پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے سپرد کر دیا جائے گا۔ سرکاری اساتذہ کے لیے کوئی بھی مراعات حالیہ حکومت سے ملنا ناگزیر ہے، آپ کو انعامات کی صورت نقد انعام تو مل سکتا ہے مگر آپ کا حق سمجھ کر کوئی مالی فائدہ دینا اس حکومت کے منشور میں شامل نہیں ہے۔
اگیگا کے پلیٹ فارم سے تحریری معاہدے کے باوجود بھی ملازم کش پالیسیوں جاری ہیں۔ کسی بھی قسم کی مراعات واپس دینے کو حکومت تیار نہیں ہے۔ احتجاج احتجاج احتجاج مسئلے کا حل نہیں ہے۔ راہنماؤں میں موجود کالی بھیڑوں کی وجہ سے احتجاجی دھرنوں کے بھی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو رہے ہیں۔ جس طرح قائد اعظم نے بغیر کسی جنگ کے پاکستان حاصل کیا تھا، اسی طرح ہمیں کسی ایسے راہنما کی اشد ضرورت ہے۔ احتجاج تو حکومتی توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ مطالبات اور مراعات گفتگو کے ذریعے ہی حاصل کرنے کو ترجیح دینی چاہیے۔ پختہ دلائل کے ساتھ حکومت نمائندوں کو قائل کیا جائے تاکہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیابی مل سکے۔ سوال تو یہ ہے کہ سوا تین لاکھ اساتذہ میں کیا کوئی ایسا راہنما موجود نہیں ہے۔ اگر ہے تو سامنے آ کر نمائندگی کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کے جائز حقوق و مطالبات کے لیے کمربستہ ہو، یہ بات تو پتھر پر لکیر ہے کہ تمام معاملات کا حل صرف ٹیبل ٹاک سے ممکن ہے۔ اس کے بغیر احتجاج کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔


