انفرادی رویوں سے اجتماعی زوال تک
ہم روزمرہ زندگی میں جب بھی کسی فرد کو غلطی کرتے دیکھتے ہیں، تو اکثر ہمارا ردعمل نہایت شدید ہوتا ہے۔ چاہے وہ ٹریفک میں غلط سائیڈ پر آنے والا شخص ہو، دفتر میں فائل روکنے والا کلرک یا کوئی سرکاری اہلکار، ہم چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے، انہیں سخت سزا دی جائے۔ لیکن جیسے ہی ہم خود یا ہمارا کوئی قریبی شخص ایسی ہی کسی غلطی میں ملوث ہو، تو ہمارے رویے بدل جاتے ہیں۔ ہم تاویلیں پیش کرتے ہیں، سسٹم کو قصوروار ٹھہراتے ہیں اور رعایت چاہتے ہیں۔ سادہ لفظوں میں اگر دوسرا غلطی کرے تو ہم جج بن جاتے ہیں اور جب ہم خود غلطی پر ہوں تو ہم وکیل بن جاتے ہیں۔
یہ تضاد صرف انفرادی نفسیات کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک بدعنوان اور مفاد پرست نظام کا شاخسانہ ہے جو ہمارے رویوں کی تشکیل کرتا ہے۔
ذاتی رویہ یا نظام کا اثر؟
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ سب انفرادی برے رویے ہیں، لیکن اگر ہم گہرائی میں جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ رویے ایک ایسے نظام کے زیر اثر پیدا ہوئے ہیں جو انصاف، اصول اور اخلاقیات کی بجائے مفاد، تعلق اور اثر و رسوخ کو ترجیح دیتا ہے۔ یہی نظام بتاتا ہے کہ کس کے لیے قانون ہے اور کس کے لیے نہیں۔
نظام کی ساخت: خاندانی، سیاسی، معاشرتی اور معاشی ستم
پاکستان میں کرپشن صرف مالیاتی بدعنوانی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل نظام ہے جو :
• خاندانی سطح پر بیٹی اور بہو کے لیے الگ معیار رکھتا ہے۔
• سیاسی میدان میں اقتدار میں آنے کے بعد وہی باتیں جائز ہو جاتی ہیں جن پر اپوزیشن میں ہوتے ہوئے تنقید کی جاتی ہے۔
• معاشرتی نظام میں با اثر افراد کے لیے نرم اور کمزوروں کے لیے سخت اصول ہوتے ہیں۔
• معاشی ماحول میں طاقتور بزنس مین ٹیکس سے بچ جاتے ہیں جبکہ چھوٹا دکاندار جرمانے بھگتتا رہتا ہے۔
اصول کہاں، مفاد کہاں؟
ترقی یافتہ ممالک میں جہاں نظام درست ہو، وہاں افراد کمزور ہو سکتے ہیں، مگر اصول مضبوط ہوتے ہیں۔ وہاں انصاف فرد کی حیثیت سے نہیں بلکہ قانون کی نگاہ سے ہوتا ہے۔ ادارے کسی ایک پارٹی یا فرد کے مفاد کے مطابق نہیں، بلکہ ریاستی آئین کے تابع ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس، پاکستان جیسے ممالک میں اصولوں کی جگہ مفاد نے لے لی ہے۔ یہاں ”جس کا مفاد ہے، وہی قانون طے کرتا ہے۔“ پارٹی ہو یا ادارہ، جب تک مفاد ان کے حق میں ہو، نظام بھی ان کا ہوتا ہے، تعریفیں بھی ان کی اور انصاف بھی ان کے مطابق ہوتا ہے۔
عربی کا مقولہ ہے۔ الناس علی دین ملوکھم۔ لوگ اپنے حکمرانوں کے دین پر ہوتے ہیں
یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں جب حکمران کرپٹ ہوں، تو نیچے کی سطح پر بھی کرپشن، دوہرا معیار اور خودغرضی عام ہو جاتی ہے۔ معاشرے کا ہر فرد اپنے ماحول سے سیکھتا ہے اور جب اداروں کا چلن مفاد پرستی ہو، تو عام آدمی بھی اسی طرز پر خود کو ڈھال لیتا ہے۔
حل کہاں ہے؟
اگر ہم انفرادی رویوں کی اصلاح چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اجتماعی نظام کی اصلاح کرنی ہوگی۔ جب تک معاشرے میں قانون کی بالادستی، اداروں کی خودمختاری، میرٹ کی پاسداری اور سوشل انصاف کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا، تب تک حقیقی تبدیلی محض ایک خواب رہے گی۔
لیکن یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ کسی بھی ملک، ادارے یا نظام کا کردار اس کی قیادت اور ٹیم کے کردار سے طے ہوتا ہے۔ اگر قیادت اور اس کے ساتھ کام کرنے والی ٹیم کرپٹ، مفاد پرست اور خودغرض ہو تو وہ نظام بھی کرپٹ ہو گا، چاہے :
• اس ملک یا ادارے کا نام کتنا ہی بابرکت یا مقدس کیوں نہ ہو،
• وہ ملک یا ادارہ کتنے ہی مقدس مہینے، تاریخ و دن میں کیوں نہ بنا ہو،
• اس کی بنیاد کسی ماہر، سائنٹسٹ، بزرگ، ولی یا تاریخی شخصیت کے نام پر کیوں نہ ہو،
• اس کا آئین اور قانون کتنی ہی مشہور، تاریخی یا مقدس کتاب سے ماخوذ کیوں نہ ہو۔
ایک کرپٹ قیادت ان تمام بابرکت حوالوں کو ایک ظلم، نا انصافی اور منافقت میں بدل دیتی ہے اور وہاں کے عوام بدترین زندگی گزارتے ہیں۔ مایوسی، بد امنی، مہنگائی اور بداعتمادی کے شکار ہو جاتے ہیں۔
اس کے برعکس، اگر کسی ملک یا ادارے کی قیادت اور ٹیم دیانت دار، اصول پسند اور انسان دوست ہو تو وہ معاشرہ ترقی کرتا ہے۔ خواہ:
• اس ملک کی اکثریت کسی بھی مذہب، فرقے یا نظریے سے تعلق رکھتی ہو،
• چاہے وہ معاشرہ ظاہری طور پر مذہبی نہ بھی ہو،
لیکن وہاں پر امن، انصاف، خوشحالی، سہولت، محبت، اخلاص اور انسانیت کا احترام سب سے نمایاں خصوصیات بن جاتے ہیں۔
بنیادی فرق کیا ہے؟
فرق صرف سسٹم کا ہوتا ہے، اگر کرپٹ قیادت ہو تو سسٹم بھی کرپٹ ہوجاتا ہے اور اگر انسان دوست قیادت ہو تو نتائج مختلف ہوتے ہیں۔
• وہی قانون اگر نیک نیتی سے نافذ ہو، تو عدل قائم ہوتا ہے۔
• وہی ادارے اگر اخلاص سے چلیں، تو خدمت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
• وہی اصول اگر مفاد سے پاک ہو جائیں، تو قومیں اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔
لہٰذا اگر ہم اپنے معاشرے کو بچانا چاہتے ہیں، تو ہمیں صرف افراد کو نہیں، قیادت، ٹیم اور پورے سسٹم کو درست سمت میں لانا ہو گا اور وہ کام بغیر تیاری کے ممکن نہیں جو چیز جتنی دیر میں خراب۔ ورنہ ظاہری نعروں، مقدس ناموں اور روایتی دعووں سے کبھی بھی حقیقی بہتری نہیں آ سکتی۔


