سیاہ بادلوں کی نذر


اپنے آپ میں مگن اس بے پرواہ پر تیز رفتار دنیا میں میں سوچتا ہوں کیا کبھی خون سے رنگے کفن پر بھی سیاست کی بدبودار نظر پڑھ سکتی ہے؟ کیا کبھی رنگین نظاروں کی المناک داستانیں لکھی جا سکتی ہیں؟ کیا کبھی ان دیکھے چہروں کے ناپاک ارادوں کو خوبصورت بنا کر پیش کیا جاسکتا ہے؟

بلوچ سرزمین کے بظاہر غیر آباد مگر انسانی آنکھ سے اوجھل خزانوں سے مالامال سیاہ پہاڑ پر ایک دنیا کی رُخ بدلتی ہواؤں سے انجان شہزادہ جب اپنے وطن سے ہم کلام ہوتا ہے تو اُس کے الفاظ زمین و آسمان ہلا دیتے ہیں۔ وہ کہتا ہے، میرے اجداد کے خون سے سیراب اے میرے وطن، تو وہ مقدس سرزمین ہے جہاں میرے اجداد نے گھوڑے دوڑائے۔ تیرے سینے پر اُن سرداروں کے خون گِرے جو ہمارے رہنما تھے۔ تجُھ سے تو ہماری خواتین بغیر پردہ ہم کلام ہوتی ہیں۔ ہم نے تجھ سے بڑھ کر کسی چیز کو چاہا ہی نہیں ہم دنیا کی تمام آسائشیں تجھ پہ نچھاور کرنے والے سادہ لوگ ہیں۔ ہم پیوند لگے کپڑوں میں خون اور پسینے سے شرابور تیری حفاظت کو ہر وقت تیار رہتے ہیں۔

اے وطن بلوچستان تیرے ان سنگلاخ پہاڑوں نے نہ جانے کتنی درد بھری چیخوں کی وہ تاریخ لکھی ہوگی جو صدیوں سے ان کے مضبوط سینوں سے ٹکرا کے کہیں ہواؤں میں بِکھر جاتی ہیں۔ اے وطن تو وہ سرزمین ہے جو بُزدلوں، غداروں منافقوں کو اپنے سینے میں جگہ نہیں دیتی۔ تُو تو بہادروں کی بے شمار قُربانیوں اور گرم خون کے اُبلتے چشموں کی واحد امانت ہے۔ تیرے سینے پر انگریزوں کی ناقابلِ شکست فوجیں دم توڑ گئیں۔ یہاں ایوب خان کے مارشل لاء سے لے کر پرویز مُشرف کے بدنامِ زمانہ آپریشنز تک ہر دور میں بہادروں نے لازوال داستانیں رقم کیں۔ تو نے حقوق کی جنگ کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ دیکھا جسے کبھی کون لیڈ کرتا رہا اور کبھی کون مگر تاریخ گواہ ہے یہ سورج مشرق و مغرب جہاں سے بھی نکلا اسے بڑی تعداد میں عوامی حمایت حاصل رہی۔ مگر کیا وجہ ہے آج تیرے سینے پر کھڑے تیرے ہی مٹی سے بنے وہ لوگ جو کل تیرے پہاڑوں پر خوبصورتی کی علامت تھے آج اپنے حق و حاکمیت بھول کر کشمیر اور پہلگام کی حمایت اور اُن کے حقوق کے لیے نعرے لگاتے سڑکوں پر نظر آتے ہیں یہاں تک کہ وہ خود صاف پانی، گیس، بجلی، ہسپتال اور اسکول جیسی بنیادی ضروریات سے محروم لاوارث زندگی گُزارنے پر مجبور ہیں۔

آج کیوں ظالم برسر اقتدار ہیں وہ کیوں ہمارے ننگ و ناموس کے فیصلے کرتے ہیں؟ کیوں ہماری خواتین کو تاریک زندانوں کی نذر کیا جاتا ہے؟ اے وطن کیوں تیرے سینے کو چیر کر ہمارے حق پر ڈاکا ڈالا جا رہا ہے؟ اے وطن تُو خاموش ہے کیا تُو نے بولنے کا حق ادا کر دیا؟ کیا آزاد وطن کے شہزادے اب زندانوں کی نذر ہو جائیں گے؟

اے وطن تیرے سینے میں بھیڑیوں کی حکومت رہتی تھی تو گیدڑوں کو وادی بولان میں غرق کیا کرتا تھا۔ کیا اب تیری مٹی میں وہ گرم جوشی نہیں رہی؟ کیا اس حسین دھرتی کے غریب شہزادے دیکھتے رہ جائیں گے؟ اے وطن ہم تیرے جواب کے منتظر ہیں۔

Facebook Comments HS