تنہا: سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثرانگیز ناول (2)


چھاؤنی کی یہ شفاف اور فراخ سڑک جس کے سینے پر میری جیپ اس وقت تیز رفتاری سے دوڑ رہی ہے ایلگن روڈ کہلاتی ہے اور میں افسران میس جانے کی بجائے وہاں جا رہا ہوں جہاں جانے کی مجھے ہمیشہ تمنا رہتی ہے۔ ہر دو حالتوں میں جب میں خوش ہوتا ہوں یا مجھ پر اداسی طاری ہو۔ میرے نزدیک بیٹھا یہ سرخ و سفید پنجابی نوجوان محسن میری قریبی نشست کی طرح میرے دل کے بھی اتنا ہی قریب ہے۔ یہ اس وقت میری ہی طرح کی گرمائی یونیفارم میں ہے۔ اسٹیرنگ پر اس کے مضبوط ہاتھ جمے ہیں اور وہ مہارت سے موڑ کاٹ رہا ہے۔ کھڑکی سے آتی ہوا جلد کو جھلسائے دے رہی ہے۔ یہ شہر جو تاریخ کا دل ہے، جس کے چپے چپے پر تاریخ کی داستانیں بھری پڑی ہیں۔ یہ جو سینکڑوں بار اجڑا اور بسا ہے۔ اس کے در و دیوار پر اس موسم میں کتنی اداسی اور ویرانی ٹپکتی ہے۔ سوچتا ہوں یہ میں ہوں جسے یہ سب عجیب نظر نہیں آتا۔ میں جس نے دریاؤں کی آغوش میں آنکھ کھولی، ہریالیوں کی گود میں پروان چڑھا اور جو اس شدید گرمی سردی کا عادی نہیں پھر بھی ہر چیز جانی پہچانی لگتی ہے۔ ایک اٹوٹ روحانی رشتہ ان سب پر پھیلا نظر آتا ہے۔ میں جانتا ہوں ایسا کیوں ہے۔ اس سرزمین کا حصول ہماری زندگی تھا اور اس کی حفاظت اب ہمارا نصب العین۔

یہ سب وہ سوچ رہا تھا جس کے شانوں پر چار ستارے چمک رہے تھے اور جسے لوگ فرسٹ لیفٹیننٹ نذرل اسلام کے نام سے جانتے تھے۔

”آؤ نذرل!“ ۔ محسن نے جیپ کو ایک پختہ کشادہ کمرے کے سامنے روک کر اترتے ہوئے کہا۔ اس نے اپنی طرف کا دروازہ کھولا اور کھٹاک سے بند کرتے ہوئے ڈیوڑھی میں آ گیا۔

اس کی موٹی موٹی آنکھوں میں ایک معنی خیز چمک ابھری وہ محسن کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔ کافی دنوں بعد یہاں آیا تھا اور اب کمرے کی ترتیب یکسر بدلی ہوئی دیکھ رہا تھا۔ کچھ نئی چیزوں کا اضافہ بھی ہو گیا تھا۔

وہ جانتا تھا کہ آج کل اس گھر میں محسن کی کزن جو اس کی بھابھی کی چھوٹی بہن ہے گریجوایشن کے لئے آئی ہوئی ہے اور محسن جیسے لا ابالی انسان کا کمرہ جو ہمیشہ ہی بہت الٹ پلٹ حالت میں ہوتا ہے۔ اب بہت صاف رہتا ہے۔ محسن آج کل بہت خوش ہے اور اکثر اس کی باتیں کرتا ہے۔

وزنی بوٹ اور جرابیں اتارتے سمے اس نے ٹھہر ٹھہر کر دھیمے دھیمے سے مسکراتے ہوئے یہ سب سوچا تھا۔
”تم غسل سے فارغ ہو جاؤ پھر کھانا کھاتے ہیں۔“ محسن نے اسے اطلاع دی۔

”مشرقی پاکستان کا میدانی حصہ اس کے کل رقبے کا نوے فیصد ہے۔ اس علاقے کے تین مشہور دریا گنگا، برہم پتر اور میگھنا ہیں۔ یہ تینوں مل کر دنیا کا سب سے بڑا ڈیلٹا بناتے ہیں۔“

یہ بہت تیز اور لمبی آواز تھی جو کمرے سے نکل کر برآمدے اور صحن میں پھیلی تھی۔

”گڈ گاڈ۔ انگلش سکولوں میں یوں رٹوایا جاتا ہے۔“ اس نے میز پر برتن لگاتے ہوئے مسکرا کر خود سے کہا تھا۔ ”جس کے اس گھر میں آ جانے سے محسن بہت خوش تھا۔ پر اس کا تلفظ کس قدر خوبصورت ہے۔ مجھ ایسی گھوڑا کی گھوڑا بی اے تک پہنچ گئی ہے۔ پر کہیں اس خوبصورتی سے پڑھ سکتی ہے؟“

”گدھی نے پھر گھوٹا بازی شروع کر دی ہے۔“ محسن بھاوج کی طرف دیکھ کر ہنسا۔
بی بی جان بولیں۔
”شاید اسے ابھی نذرل کے آنے کا علم نہیں ہوا۔“
محسن نے ماں جی کی طرف دیکھا۔

”اچھا ہی ہے ورنہ اس کے کندھوں پر یوں سوار ہو جائے گی کہ بیچارے کا کھانا بھی حرام ہو جائے گا۔“ ماں جی خاصی بیزار نظر آ رہی تھیں۔

اور وہ لڑکی جس کی آواز کانوں کے پردے پھاڑتی گزرتی، چار لائنیں بھی یاد نہ کر پائی تھی کہ تھک بھی گئی۔ اس کا گلا خشک ہونے لگا۔ ایک جھٹکے سے اس نے اپنی دونوں ٹانگیں دری پر پھیلا دیں۔ آسودگی کا ہلکا سا احساس ملا تو آموختہ دہرانے کی کوشش کی۔

”ارے یہ تاریخ جغرافیہ۔ اس کا پارہ چڑھ گیا۔ جی چاہتا ہے کتاب چیر کر نصیراں کو دے آؤں۔ صبح جو وہ آگ جلانے کے لئے اتنا ڈھیر سارا تیل لکڑیوں پر انڈیل کر ضائع کر دیتی ہے تو اس سے کام چلا لے۔ معلوم نہیں آج مجھے کیا ہو گیا ہے۔ وہ شیریں اللہ جانے کیسے رٹتی ہے۔ سسٹر پوچھتی ہے تو اس کا ہاتھ سب سے اونچا ہوتا ہے۔ کیسے قینچی کی طرح زبان چلتی ہے۔ آج کا میرا دن یونہی فضول گیا۔ کوئی پوچھے میں نے کیا کیا ہے۔ ہائے رے جیکی سے بھی نہیں کھیل سکی۔“

”بھاڑ میں جائے سب۔“ اس نے بھنا کر کتاب دور پھینکی۔ جو میز سے ٹکراتی دھم سے زمین پر آ گری۔ ”لعنت ہے ایسے سبق پر جو یاد ہونے کا نام نہ لے۔“ اور یہ اضافی سوال تو جانے مسز شیرازی نے کیوں اس میں شامل کروا دیے ہیں؟ ”

دیر بعد جب اسے یاد آیا کہ اس کا سکول تین دن بند رہنے کے بعد کل کھل رہا ہے اور سسٹر سموئیل سبق نہ آنے پر اس کا بھرتہ بنائے گی تو اس کا دل آپ ہی آپ ڈوبنے لگا۔

اس دن جب سسٹر ریکسٹن انہیں ”ایڈونچر آف یولیسز“ کا پہلا پارٹ پڑھا رہی تھیں اور وہ سبق پر توجہ دینے کی بجائے دیوہیکل پولوفیس کی تصویر بغور دیکھ رہی تھی۔ تب ایکا ایکی عبادت خانے کی گھنٹیاں بجنے لگیں اور سسٹر ریکسٹن اپنے سفید لبادے اور کمر کے گرد لٹکتی ہوئی سنہری زنجیر کو سنبھالتی باہر نکل گئیں۔

اور خاموشی سے عبادت خانے کی طرف جاتے ہوئے اسے معلوم ہوا کہ سپر مدر راجرز کا انتقال ہو گیا ہے۔ عبادت خانے میں جب وہ بخشش کی دعائیں پڑھ چکی اور اس نے O come let us adore her بھی دھیمے دھیمے گا لیا تو اسے خیال آیا کہ خداوند مقدس باپ کو غلطی لگی۔ مرنا تو سسٹر سموئیل کو چاہیے تھا۔ اتنی کالی ہیں اور غصے بھی بہت ہوتی ہیں۔ پر مر گئیں بیچاری سپر مدر راجرز۔

وہ کتاب اٹھا کر لائی اور پھر سے جت گئی۔
”مشرقی پاکستان کا میدانی حصہ اس کے کل رقبے کا۔“

اور عین اس وقت وہ غسل سے فارغ ہو کر نشست گاہ میں آیا۔ اس کی گھنی چھوٹی چھوٹی مونچھوں تلے ہونٹ فراخدلی سے مسکرائے۔

”اس علاقے کے تین مشہور دریا گنگا، برہم پتر اور میگھنا ہیں۔“
آواز اب پھر تیز اور اونچی ہو رہی تھی۔
جاری ہے۔

Facebook Comments HS