زندگی کا سفر اور ملال
مہاتما کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں اپنے سارے جنم یاد تھے۔ انتظار حسین اور آصف فرخی نے جاتک کہانیاں کے نام سے جو کتاب مرتب و ترجمہ کی ہے، اس میں وہ کہانیاں شامل ہیں جو مہاتما بدھ اپنے پیروکاروں کو سنایا کرتے تھے۔
بھکشو تمام دن جنگلوں، پہاڑوں، وادیوں، بستیوں میں پتہ نہیں کیا تلاش کرتے پھرتے۔ وہ مانگتے کسی سے نہ تھے، تاہم کوئی کھانے پینے کی شے دے دیتا تو انکار بھی نہ کرتے۔ شام ڈھلے سب بھکشو اپنی قیام گاہ پر واپس پہنچ جاتے۔ شام کی سیاہی اترنے لگتی تو سب بھوجن کرتے، پھر آگ جلائی جاتی اور کیمپ فائر برپا ہوتا۔ بھکشو حلقہ باندھ لیتے، مہاتما قدرے بلند جگہ پر پالتی کے آسن میں بیٹھ جاتے اور کہانی کہتے۔
یہی کہانیاں مہاتما کا ذریعۂِ تعلیم تھیں۔ کہانی کا مرکزی کردار کوئی بھی ہو سکتا تھا۔ شجر، حجر، حیوان، پرندہ، انسان۔ کہانی ختم ہوتی تو مہاتما پوچھتے ”جانتے ہو ’وہ‘ (مرکزی کردار) کون تھا“ ۔ بھکشو انکار میں سر ہلاتے تو مہاتما کہتے ”وہ میں تھا، فلاں فلاں جنم میں“
پتہ نہیں یہ موت و حیات کا کھیل کیا ہے۔ پُنر جنم ہوتا ہے کہ نہیں۔ اگر ہوتا ہے تو پچھلے جنم کی زندگی یاد کیوں نہیں رہتی۔ تاہم میں سوچتا ہوں کہ بنانے والے کی یہ کائنات اتنی وسیع ہے جس کا کوئی انت، کوئی کنارا نہیں۔ یہ ایسی پُر اسرار ہے اور حسین کہ یہاں بار بار آنے کو جی چاہتا ہے۔ ہو سکتا ہے پہلے کبھی ہم اسی کائنات کے کسی دور افتادہ کونے کھدرے میں یا اسی زمین پر کہیں کسی صورت میں رہ چکے ہوں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے ایسا بالکل نہ ہو۔ جو اتنی وسیع کائنات تخلیق کر سکتا ہے، کیا اس کے پاس خام مال کی کچھ کمی ہے کہ نئی تخلیق سے باز رہ کر ایک ہی جان کو بار بار بھیجتا رہے۔
لیکن صاحب! کبھی یہ بار بار کے پھیرے والا امر قرینِ قیاس بھی لگتا ہے۔ تخلیق کار اپنی کتاب میں کہتا ہے کہ اس نے کہا ’ہو جا‘ تو مادہ خلق ہو گیا اور اسی مادے سے بنی یہ ساری کائنات۔ پھر جب اس مادے سے انسان کا بُت بن چکا تو اس کو متحرک کرنے کی توانائی بہم کرنے کو اپنی روح پھونک دی۔ گویا یہ جہانِ آب و گِل اور رنگ و بُو خدائی کلام اور پھونک کا نتیجہ ہے۔ ’کُن‘ کہا تو جہان بن گیا، توانائی پھونکی تو میں اور آپ اس جہان کی سیر دیکھا کرتے ہیں۔ لفظ کی ادائیگی تو سہل عمل ہے، ہاں پھونک میں زور لگتا ہے۔ چار گھنٹے کسی سے باتیں کرنا شاید اتنا نہیں تھکاتا جتنا چار غباروں میں ہوا پھونکنا۔ سو ہو سکتا ہے خدا بار بار کی پھونک والی مشقت سے بچنے کے لئے، وہی روحیں (توانائی) بار بار لَوٹا دیتا ہو۔
عمر کے جس مقام سے اس وقت میرا گزر ہے، اس میں کبھی کبھی انسان رک کے سوچتا ہے کہ اب عمر عزیز کے افق پر لالی کا چھڑکاؤ ہونے لگا ہے اور وقت غروب قریب آن لگا ہے۔ یہ بھی حساب کتاب کرتا ہے کہ جو گزری اس میں کیا کیا کرنا چاہیے تھا جو نہیں کیا اور کیا کیا ایسا ہے جو نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن کر بیٹھے۔ ایسے میں دل کہتا ہے کہ کوئی سبب ہو کہ ایک موقع اور ملے، اک وقفہ حیات اور کہ جس میں اس زندگی سے حاصل کیے گئے اسباق کو سامنے رکھ کر قدرے بہتر زندگی گزاری جا سکے۔
ایسا مگر ہوتا نہیں۔ ہو بھی تو روح کی چِپ سے پچھلی سب یادیں ڈیلیٹ کر کے بھیجا جاتا ہے۔ پھر سے ٹامک ٹوئیاں مارو۔ سیکھو، آزماؤ، جھیلو اور کبھی اطمینان کی لیکن اکثر پچھتاووں کی فصل کاٹو۔ دیوانوں کی دنیا شاید مختلف ہو لیکن کوئی صاحبِ شعور زندگی ایسی نہیں جس میں پچھتاوے نہ ہوں۔ نئی سیکھ، نئی غلطیاں، نئے ملال۔ یہی ہے ہر زندگی کا ماحصل۔
مجھے اب کے بار جو زندگی جینے کو ملی، وہ زیادہ تر اچھی رہی۔ قدرے تاخیر سے سہی لیکن جو چاہا پایا۔ اسی لئے ناسٹلجیا کبھی کبھی ڈسنے لگتا ہے۔ پھر جب ذرا سا جزئیات میں اتر کے دیکھتا ہوں تو کچھ ملال ہیں، تھوڑی محرومیاں ہیں، چند فیصلے ہیں جن کی وجہ سے اس زندگی میں پیچھے لوٹنے کو دل نہیں مانتا۔
ہمارے جیسے سماج کے باسیوں کی زندگی دو واضح ادوار میں بٹی ہوتی ہے۔ ”اک تیرے آنے سے پہلے، اک تیرے ’آنے‘ کے بعد“
پہلا دور شادی سے پہلے کا اور دوسرا شادی کے بعد کا۔ دوسرا دور ہمارے ہاں اکثر خوش گوار نہیں ہوا کرتا۔ شادی سے پہلے جو رشتے آپ کے مربی ہوتے ہیں، انہی کی کوشش ہوتی ہے کہ یہ جوڑا جو بقول خود ان کے، آسمانوں پر بنا تھا وہ یہاں زمین پر جس قدر بھی ہو سکے خوار ہو۔
تاہم میں اس حوالے سے الحمدللہ خوش قسمت رہا۔ مجھے ایسا ہم سفر ملا جس نے پچھلے چھبیس برس کے دوران خانگی زندگی کو منفی طور پر متاثر کرنے والی تمام تر چھاپہ مار کارروائیوں کو پسپا کیا اور کسی کی باتوں پر لگنے کے بجائے اپنے گھر کے سکون کو اولیت دی۔ قناعت، برداشت اور معاملہ فہمی اس کی وہ ڈھا لیں ہیں جن کی وجہ سے ہمارا ازدواجی سفر خوش گوار رہا الحمدللہ۔ میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ ایک روشن خیال اور رجائیت پسند ہم سفر ملا۔
ان بہت سارے برسوں میں اس نے نہ صرف تین بچوں کی بہترین تربیت کی بلکہ قانون کی ڈگری، ایم فل اور پھر ڈاکٹریٹ کیا۔ اس سماج میں گھر کا معاش مرد کی ذمہ داری ہے لیکن اس نے یہاں بھی اپنا پورا حصہ ڈالا۔ گھر، سرکار کی ملازمت، پڑھائی، بچے، شوہر، رشتہ دار ہر ایک کو اس کا پورا حق اور وقت دیا۔ بلاشبہ وہ ایک بہت بہادر خاتون ہے۔
پچھلے دنوں بچوں نے اے آئی سے میرے اور عالیہ کے جوانی کے کچھ امیجز بنائے اور پھر ان کا کولاج بنا کر فیملی والے گروپ پر شیئر کر دیا۔ ان کولاجز نے شاید ڈاکٹر عالیہ نکہت کو ماضی کی سیر پر روانہ دیا۔ کچھ ملال، کچھ حسرتیں ہیں جو اس نے مختصر لفظوں میں مجھے لکھ بھیجیں۔ آپ بھی پڑھئے
”یہ عمر اور یہ ساتھ ایک بار پھر ملا تو روایتی زندگی نہیں گزاریں گے۔ نہ لوگوں کو خوش کرنے میں اپنی زندگی برباد کریں گے۔ دنیا دیکھیں گے۔ اپنی، صرف اپنی زندگی جئیں گے۔ دنیا کے جھمیلے کم پالیں گے۔ رک سیک کندھوں پر ڈال کے نکلیں گے اور پہاڑوں کو کھوجیں گے۔ بہت ہنسیں گے۔ اور وعدہ رہا کپڑے کم بناؤں گی ”


