بھارت اپنی معیشت کی خیر منائے


جب سے پہلگام کا واقعہ رونما ہوا ہے بھارت پر ایک جنگی جنون سوار ہے۔ اس کے سیاست دان اور میڈیا منہ سے آگ اگل رہے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم کی رنگ برنگی میٹنگوں کی تصاویر جاری ہو رہی ہیں۔ ایسی خبریں دی جا رہی ہیں کہ وزیر اعظم مودی نے اپنی افواج کو go ahead دے دیا ہے کہ وہ پہلگام کا جواب دیں۔ سوال لیکن یہ ہے کہ یہ جواب بھارتی فوج کس کو دے گی؟ ابھی تک کسی غیر جانبدار تحقیقات کا آغاز نہیں ہوا ہے۔ کسی سرکاری تفتیش کا نتیجہ بھی سامنے نہیں آیا ہے۔ کیا خالی خولی الزام تراشی کو جواز بنا کر بھارتی فوج پاکستان پر حملہ آ ور ہو جائے گی؟ بھارت کو اس امر کا بخوبی ادراک ہے کہ جنگ کی باتیں کرنا، اور منہ سے زہر اگلنا ایک بات ہے۔ جبکہ حقیقت میں آگ اور خون کا کھیل کھیلنا ایک الگ معاملہ ہے۔

بھارت بخوبی جانتا ہے کہ پاکستان اللہ کے فضل سے ایک ایٹمی قوت ہے۔ پاکستان کے پاس دنیا کی بہترین فوج موجود ہے۔ پاکستانی عوام کے دل ایمان کی طاقت سے لبریز ہیں۔ پاکستان پر حملہ کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ بھارت کے اندر بھی ایک دانش مند طبقہ موجود ہے جو جنگ کے خلاف اور امن کے حق میں ہے۔ سیاسی اور صحافتی حلقوں میں ایسی آوازیں سننے کو مل رہی ہیں جو پہلگام کے واقعے کو بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی ناکامی قرار دیتی ہیں۔ داخلی طور پر مطالبہ ہو رہا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ بھارت کی سات لاکھ فوج گزشتہ کئی دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر پر مسلط ہے۔ اس سات لاکھ فوج نے کشمیریوں کا جینا مشکل کر رکھا ہے۔ فوج کی موجودگی میں پہلگام کا حملہ کیونکر ممکن ہو گیا۔ اگر یہ حملہ سچ مچ ہوا ہے، تو یہ سراسر بھارتی فوج کی ناکامی اور نالائقی ہے۔ ابھی تک ان سوالوں کے جواب بھی نہیں مل سکے کہ حملہ آور کون تھے۔ کہاں سے آئے اور کہاں غائب ہو گئے۔ تفتیش کا اعلان اور آغاز اتنی تاخیر سے کیوں ہوا۔ کس بنیاد پر حملے کے کچھ ہی دیر بعد اس کا الزام پاکستان پر عائد کر دیا گیا۔ یہ اور اس طرح کے بہت سے سوال، جواب کے منتظر ہیں۔ تاہم بھارت اپنی ازلی اور روایتی ڈھٹائی کے ساتھ حقائق سے نگاہیں پھیرے پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہے۔

اگرچہ یہ جملے نہایت گھسے پٹے معلوم ہوتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ یا جنگوں کے بعد بھی فیصلے مذاکرات کی میز پر ہی ہوتے ہیں۔ تاہم یہ جملے ایک ٹھوس حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ کم از کم تاریخ تو یہی بتاتی ہے۔ آج تک جنگ نے کسی مسئلے کو حل نہیں کیا۔ بڑی بڑی جنگوں کے بعد فریقین کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر کچھ لو اور دو کی بنیاد پر فیصلے کرنے پڑے۔ زیادہ دور نہیں جاتے۔ افغانستان کی جنگ کی مثال لے لیجیے۔ لاکھوں قیمتی جانیں ضائع کرنے اور کھربوں امریکی ڈالر جنگ میں جھونکنے کے باوجود آخر میں امریکہ کو طالبان سے مذاکرات کر کے ہی اس خطے سے نکلنا پڑا۔ میں جنگوں سے متعلق کچھ اعداد و شمار دیکھ رہی تھی۔ ان خوفناک اعداد و شمار کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ کیسے لاکھوں قیمتی جانیں جنگوں کی نذر ہو جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر ویتنام کی جنگ میں 30 لاکھ جانیں ضائع ہوئیں۔ کوریا کی جنگ میں 25 لاکھ، ایران۔ عراق جنگ میں 10 لاکھ، بوسنیا میں 1 لاکھ، سویت افغان جنگ میں 15 لاکھ انسانوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ کھربوں ڈالر جو فریقین نے ان جنگوں میں جھونکے وہ اس کے علاوہ ہیں۔ لاکھوں انسان بے گھر ہو گئے۔ لاکھوں نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ لاکھوں عمر بھر کے لئے معذور ہو گئے۔ کیسے کیسے انسانی المیوں کو ان جنگوں نے جنم دیا۔ جنگ کرنا ہرگز آسان نہیں ہے۔ اس میں لاکھوں جانیں جاتی ہیں۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں۔ ملکوں کی معیشت تباہ ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد بھی مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے معاملات حل کرنا پڑتے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ کا مطلب بھی صرف تباہی ہے۔ انسانی جانوں کی تباہی اور معیشتوں کی بربادی۔ پاکستان کی آبادی کم و بیش پچیس کروڑ ہے۔ بھارت میں سوا ارب سے زیادہ انسان بستے ہیں۔ ہماری معاشی حالت بھی بس گزارہ لائق ہے۔ جبکہ بھارت کی معیشت ہم سے کہیں آگے ہے۔ یہ دنیا کی غالباً 5 ویں بڑی معیشت ہے۔ ہمارا نمبر 40 کے بعد کہیں آتا ہے۔ بھارت کے زر مبادلہ کے ذخائر 700 ارب ڈالر سے زیادہ ہیں۔ جبکہ ہمارے پاس صرف 15 ارب ڈالر ہیں۔ اس کی صنعتیں پھل پھول رہی ہیں۔ دنیا کی بڑی اور نامور کمپنیوں نے یہاں کھربوں روپوں کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ معاشی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے پاس کھونے کو کچھ خاص نہیں ہے۔ پاکستان تو خیر بھارت پر حملے کا ارادہ بھی نہیں رکھتا۔ یہ بھارت ہی ہے جو پاکستان کو جنگ کی اور حملے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ جنگ کی صورت میں بھارت کو پاکستان سے کہیں زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اس کی برسوں کی محنت ضائع ہو جائے گی۔ اس کی مضبوط معیشت زمین پر آ جائے گی۔ یقیناً بھارت اتنا بے وقوف نہیں کہ اپنی معیشت کو داؤ پر لگا دے۔ اس تناظر میں دیکھیں تو لگتا ہے کہ بھارت کبھی پاکستان پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔ پاکستان پر حملہ خود اس کی اپنی معیشت پر حملہ ہو گا۔ بہتر ہے کہ بھارت اپنی معیشت کی خیر منائے۔

یہ کالم لکھ رہی ہوں تو اطلاع آئی ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان اور بھارت سے رابطہ کیا ہے۔ دونوں ممالک کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے، کشیدگی کم کرنے اور رابطے بحال کرنے کی تلقین کی ہے۔ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کے لئے تعاون کرنے کو تیار ہے۔ پاکستان کا ہمیشہ سے یہی موقف اور رویہ رہا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ اس امریکی کال کا بھارت کے رویے پر کیا اثر ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS