ڈاکٹر نجیبہ عارف: تخیل کی کہکشاؤں کی شاعرہ

شاعری محض علم عروض کے وزن بحر کے شکنجے یا جال میں لفظوں کو قید کرنے، جکڑنے یا پھنسانے کا نام نہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ فنی لحاظ سے شاعری میں موزونیت، روانی اور موسیقی قائم کرنے کے لیے وزن بحر اہم ہیں مگر شاعری میں تخیل کی اڑان، احساس کی رنگینیوں کی عکس نگاری، خیالوں کی ندرت، غیر روایتی اور منفرد اندازِ بیان اور پیشکش، تخلیقی سطح پر زبان کا استعمال، نئی تشبیہات اور استعارے تخلیق کر کے معاشرے کی غیر روایتی انداز میں عکاسی کرتے ہوئے انسان کے ہر داخلی اور خارجی پہلو کے حوالے سے احساسات اور کیفیات کی بھرپور ترجمانی کرنا شاعری کے زمرے میں آتا ہے۔ ایسی شاعری لفظوں میں سانس بھرتی یا ڈالتی ہے اور جب الفاظ بولنے لگتے ہیں تو پڑھنے یا سننے والے کے احساسات میں تحرک اور تغیر پیدا ہوتا ہے۔
ڈاکٹر نجیبہ عارف بھی ایسی ہی منفرد اور غیر روایتی شاعرہ ہیں جس کی شاعری میں وزن بحر کے لوازمات کے ساتھ ساتھ اظہار میں ندرت اور تخیل میں ساون میں بہتی ہوئی ندی جیسی طغیانی ہے۔ ان کی شاعری میں تخلیقی زبان کے استعمال کی خوبی اور خوبصورتی بھی ہے تو اظہار میں ندرت کے علاوہ منفرد اندازِ بیان کا عنصر بھی ہے۔ حالانکہ کہیں اپنی شاعری میں جیسے روایتی تخیل کی حامی نظر آتی ہیں مگر مجھے یہ اظہار بھی غیر روایتی لگتا ہے۔
ہم کب تک لفظوں کے طوطا مینا تخلیق کریں گے
تخیلِ روایت سے ہٹ کر
روایتی انداز کو ترک کر کہ غیر روایتی،
اور منفرد تخیل، تخلیق پر زور دینا
کاغذ کی کشتی میں رہ
کب تک آخر سو لیں گے
اس کی باتوں کے غبارے اڑ رہے تھے روبرو
دل کسی بچے سا بھاگا پھر رہا تھا چارسو
پھر ٹھکانا لے لیا اڑتے ہوئے بادل تلے
دور تک بھاگے پھرے آوارگانِ عشق خو
الفاظ کے امکانِ نہانی سے زیادہ
کہنی ہے کوئی بات معانی سے زیادہ
اک اور حقیقت ہے پس و پیش حقیقت
اک اور کہانی ہے کہانی سے زیادہ
زندگی عشق و جوانی رائیگانی
آخری شے ہے گنوانی رائیگانی
شام کے پیروں سے لپٹی ہے تھکن سی
رخ پہ لکھتی ہے کہانی رائیگانی
ڈاکٹر نجیبہ عارف کی شاعری میں تخلیقی زبان کا استعمال بہت زیادہ ملتا ہے جو ان کے تخیل کو پُراثر اور پُر سحر بناتا ہے۔ ان کی شاعری میں تخلیقی زبان کے استعمال کی خوبی بڑے پیمانے پر موجود ہے۔ یہ خوبی زبان پر ان کی دسترس کو ظاہر کرتی ہے۔ ڈاکٹر نجیبہ عارف کی نظموں، نثری نظموں اور غزلوں میں تخیل کی اڑان اور خیالوں میں گہرائی اور تخلیقی زبان کے عناصر انہیں باکمال شاعرہ ثابت کرتے ہیں۔
دل کی جھیلوں پر اتر آئے پرندے کتنے
پیارے پیارے میرے گم گشتہ خیالوں والے
یونہی دھند میں کبھی دور تک مرے ساتھ چل کے تو دیکھتے
کبھی صبح تک شب ماہ میں مرے ساتھ تم بھی تو جاگتے
یقین لڑکھڑا رہا ہے زندگی کے بوجھ سے
مگر سفر کی آرزو اب تک جوان ہے
عدو کو سونپ آئے ہیں متاعِ جان و آبرو
یہ ڈھال یہ نشان ہے یہ تیر یہ کمان ہے
ڈاکٹر نجیبہ عارف کی غزلوں میں تغزل کی رنگینیوں کی اک کائنات ہے جس میں تخیل کی کہکشائیں ہیں۔ تخیل کی کہکشاؤں میں خیالوں کے جھلملاتے، چمکتے اور دمکتے احساسات کے ستاروں کی رنگین روشنی کے سارے رنگ ہیں جو پڑھنے والوں کے خیالوں کو رنگین بنانے کی قوت سے سرشار ہیں۔ اس لحاظ سے ڈاکٹر نجیبہ عارف کو بلا شبہ تخیل کی کہکشاؤں کی شاعرہ کہیں تو غلط نہیں ہو گا۔ ڈاکٹر نجیبہ عارف اپنے معاصر دور کی غیر روایتی اور منفرد شاعرہ ہیں۔

