جڑواں شہروں میں جان و مال کا تحفظ دُشوار ہو چکا ہے


شہر اقتدار اور راولپنڈی میں شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں پولیس ناکام کیوں ہر روز کوئی نہ کوئی واردات ہو رہی ہوتی ہے کبھی کسی سے موبائل چھین لیتے ہیں اور کبھی موٹرسائیکل اور نقد رقم چھین لی جاتی ہے ان شہروں میں بھاری پولیس ہونے کے باوجود اس طرح کے ناخوشگوار واقعات پیدا کیوں ہوتے ہیں دن دیہاڑے پستول تان کر سب کچھ چھین لیا جاتا ہے۔

ڈکیت گینگ دن دیہاڑے اسلحہ لے کر گھوم رہے ہوتے ہیں اور پوچھنے والا کوئی نہیں متاثرہ افراد تھانے میں مقدمہ درج کرواتے ہیں نامعلوم افراد کے نام سے مقدمہ، مقدمہ تک محدود ہے کارروائی کوئی نہیں۔

ہر چوک چوراہوں پر پولیس کے ڈیوٹی یقینی بنانے چاہیے تاکہ شہریوں کو تحفظ مل سکے لیکن بدقسمتی سے ایسا ممکن نہیں ہر شہری گھر سے نکل کر واپس گھر آنے تک خوف میں رہتا ہے اور یہ سوچ ہوتی ہے کہ راستے میں کسی کا شکار نہ بنو۔

جڑواں شہروں کی یہ صورتحال ہے تو باقی شہروں کا کیا حال ہو گا اس طرح کی صورتحال چلتی رہی تو لوگ حکومت سے بیزار ہو جائیں گے۔

انتظامیہ کو اس کے خلاف ایکشن لینا چاہیے اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور اس سے نمٹنے کے لئے حفاظتی اقدامات اٹھائے جائیں تا کہ شہریوں کو سکون کی زندگی مل سکے۔

ڈکیت گینگ زیادہ تر مسافروں کو ٹارگٹ کر رہا ہے اور یہاں جو تعلیم کے لئے مختلف علاقوں سے طلباء آئے ہیں ان کو ٹارگٹ کرتے ہیں والدین بڑی مشکل سے اپنے بچوں کے اخراجات پورے کرتے ہیں وہ یہاں چوروں اور ڈاکووں کی نذر ہوتے ہیں اس طرح کے حالات سے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے طلباء کو کئی مشکلات کا سامنا ہے۔

سوال یہ ہے کہ شہر اقتدار اور پنجاب میں سکیورٹی کی کمی یا حکمرانوں کی نا اہلی جو اپنے شہریوں کو بہترین تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہے پولیس اہلکاروں کو تھانوں میں رکھنے کی بجائے چوک چوراہوں پر مامور کرے تاکہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے بدقسمتی سے سیاسی پارٹیاں اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتی ہیں عوامی مسائل نظر نہیں آتے۔

کیا یہ کوئی چھوٹا مسئلہ ہے جو انتظامیہ نظر انداز کر رہی ہے یا اس کے پیچھے کچھ اور وجوہات ہیں پچھلے سال، راولپنڈی نیو ٹاؤن تھانہ اور راولپنڈی بنی تھانہ، میں نامعلوم افراد کے نام سب سے زیادہ مقدمات دیکھنے کو ملے اس کے باوجود پولیس انتظامیہ پوری طرح ناکام نظر آ رہی ہے اور وارداتیں مسلسل عروج پر ہیں۔

Facebook Comments HS