امریتا پریتم کی رسیدی ٹکٹ: چھوٹا کاغذ، بڑی کہانی
ایک لکھاری، شاعر، ایک اچھا بیٹا، پیار کرنے والا باپ اور انسانیت کی معراج میرا دوست، جسے میں عورتوں کے درد کا ہم نوا کہتی ہوں۔ وہ صرف عورتوں کے حق میں بولتا نہیں، ان کے جذبات، خواب، بغاوت، اور خاموشی کو سمجھتا بھی ہے۔ اس کی باتوں میں کبھی نرمی، کبھی فکر اور کبھی جرات جھلکتی ہے۔ ایک دن اُس نے مجھ سے کہا، ”تم نے ابھی تک ’رسیدی ٹکٹ‘ نہیں پڑھی؟ تمہیں یہ کتاب بہت پہلے پڑھ لینی چاہیے تھی۔ میں مسکرا دی، مگر دل میں ایک چنگاری سی جل اٹھی۔ امریتا پریتم کا نام نیا نہیں تھا، مگر یہ کتاب میرے مطالعے سے ابھی تک دور تھی۔
کتاب ہاتھ میں لی تو اس کا حجم دیکھ کر پہلا تاثر یہی تھا کہ شاید کوئی ہلکی پھلکی آپ بیتی ہوگی۔ مگر جیسے جیسے صفحات پلٹے، میں خود کو کہیں اور پاتی گئی۔ امریتا نے محض الفاظ نہیں لکھے، اپنی روح کو کاغذ پر انڈیلا ہے۔ ان کی خودنوشت کسی روایتی تسلسل کی محتاج نہیں، وہ کہیں سے بھی شروع کرتی ہیں، کہیں بھی پہنچتی ہیں، اور ہر موڑ پر قاری کو جھنجھوڑ دیتی ہیں۔ ایک عورت جب اپنے آپ سے بات کرتی ہے تو وہ زبان سے کم، دل سے زیادہ بولتی ہے، اور ”رسیدی ٹکٹ“ اسی دل کی زبان میں لکھی گئی ایک طویل سچائی ہے۔
امریتا نے خود کو مکمل سچائی سے پیش کیا۔ نہ کوئی نقاب، نہ کوئی فریب۔ ان کا ساحر کے لیے جذبات، ان کی شادی، ان کا سماج سے ٹکراؤ، ان کا لکھنا، تنہائی، بغاوت، سب کچھ ایسے بیان ہوا جیسے قاری ان کے اندر بیٹھا ہو۔ ان کی نثر میں شاعری کا رنگ ہے اور شاعری میں درد کا ساز۔ وہ محبت کو کمزوری نہیں، طاقت سمجھتی ہیں۔ ان کا عشق روایتی بندھنوں سے آزاد ہے، مگر اس میں وفا کی خوشبو اور انتظار کی نمی ہے۔ ساحر لدھیانوی کے ساتھ ان کا رشتہ، جو کبھی مکمل نہ ہو سکا، اس کتاب کا سب سے خاموش مگر سب سے پُراثر باب ہے۔ انہوں نے اس محبت کو ناز سے جیا، کسی گلے، کسی شکوے کے بغیر۔ وہ کہتی ہیں، ’وہ مجھ سے ملنے نہیں آیا، مگر میں ساری زندگی اس سے ملی رہی۔‘
امریتا کی آواز اُس عورت کی آواز ہے جو سوال کرتی ہے، جو جبر کے خلاف خاموش احتجاج کرتی ہے، جو درد سہتی ہے، مگر اسے لفظوں میں ڈھال کر امر کر دیتی ہے۔ ان کی تحریر ایک ایسی مشعل ہے جو عورت کو اپنے اندر کی راہ دکھاتی ہے۔ وہ مذہب، وطن، جنس، اور رشتوں کی تمام دیواروں کو پھلانگتی ہیں، اور ایک ایسی جگہ پہنچتی ہیں جہاں صرف انسانیت رہ جاتی ہے۔
کتاب کا عنوان ”رسیدی ٹکٹ“ ہے، اور یہ عنوان خود ایک علامت ہے۔ ایک چھوٹا سا کاغذ، جس پر پوری زندگی رقم ہے۔ ایک بار ایک افسر نے ان کی تحریر کو اتنا معمولی کہا کہ اس پر صرف رسیدی ٹکٹ لگنا چاہیے، تو امریتا نے اسی جملے کو اپنی خودنوشت کا نام بنا دیا۔ یہ ان کی فکری بغاوت کا نچوڑ ہے۔ ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اپنی سچائی کو قبول کرنا اور اس پر فخر کرنا۔
میرے اس دوست نے سچ کہا تھا، یہ صرف کتاب نہیں، ایک تجربہ ہے۔ میں نے امریتا کو پڑھا، مگر اصل میں خود کو پڑھا۔ ایک عورت کا اپنی ذات سے مکالمہ پڑھتے ہوئے میں نے بارہا اپنے اندر کی عورت سے سوال کیا۔ یہ کتاب ختم نہیں ہوتی، قاری کے اندر زندہ رہتی ہے۔ آج جب بھی میں کسی عورت کی خاموشی سنتی ہوں، تو یوں لگتا ہے جیسے امریتا کی آواز اب بھی گونج رہی ہے۔ نرم، سادہ، مگر ناقابل انکار۔
اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ عورت کو پڑھنا کہاں سے شروع کرے تو میرا جواب ہو گا: ”رسیدی ٹکٹ“ سے۔ کیونکہ یہ کتاب محض پڑھنے کے لیے نہیں، محسوس کرنے کے لیے ہے جیسے کسی نے آپ کی خاموشی کو آواز دے دی ہے۔


