اصل کرپٹ کون؟
پاکستانی معاشرے میں حکومت، سیاست دانوں یا کچھ مخصوص محکموں اور افراد پر انگلی اٹھانا آسان ہے حالانکہ یہ انگلیاں اٹھانے والے بعض افراد خود بھی اپنی ذمہ داریوں اور معاملات میں کچھ نہ کچھ غلط کر رہے ہوتے ہیں۔ رمضان میں روزہ رکھ کر سر پر ٹوپی اور اونچی شلوار کے ساتھ مسجد سے نماز پڑھ کر نکلنے کے بعد ملاوٹ اور منافع خوری کرنے والا ایک عام آدمی بھی ہمارے کرپٹ معاشرے کا حصہ ہے۔ باقی گیارہ مہینوں میں بھی یہ سب ہونے میں کوئی تعجب نہیں۔
ہم ہمیشہ سے سنتے آئے ہیں کہ پولیس کا محکمہ کرپٹ ہے کیونکہ وہاں رشوت چلتی ہے، ایسا تاثر دیا جاتا ہے جیسے باقی سب جگہ فرشتے ہیں اور کرپٹ صرف پولیس ہے۔ پولیس کا شریف افسر بھی بے ایمان دکھایا جاتا ہے۔ ذہن سازی اس طرح کی گئی ہے کہ کسی ایک کو بے ایمان دکھا کر باقی سب کے گناہ چھپا لئے جائیں۔ یقین جانیں دوسرے سرکاری اور پرائیویٹ ادارے بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ میں یہ تو مانتا ہوں کہ کچھ محکموں میں کرپشن زیادہ ہے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کسی بھی جگہ سو میں سے سو افراد رشوت پر چلتے اور پلتے ہیں، دنیا میں جہاں شر پھیلا ہوا ہے وہاں کچھ نیک لوگ بھی ہیں، البتہ برے لوگوں کے درمیان اپنا دامن برائی سے بچا کر رہنے کے لئے بہت سی آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں طاقتور کے ہاتھوں کھڈے لائن لگنا ایک عام سی بات ہے۔
میرے دادا پولیس میں تھے اور اعلیٰ ترین عہدہ سے ریٹائر ہوئے تھے، حق کے راستے پر ہمیشہ ثابت قدم رہے، اس لئے مشکلات بھی بہت آئیں لیکن ان کی ایمانداری، شرافت، عاجزی اور طبیعت میں سادگی کی گواہی محکمے اور ماتحتوں کے ساتھ ساتھ باہر کی دنیا آج بھی دیتی ہے، ان کو مثالی بنا کر نقش قدم پر چلنے والے افراد ان گنت ہیں، ان کی زندگی اور اقوال پر کتاب لکھنے بیٹھ جاؤں تو صفحات کم پڑ جائیں۔
میرے آبائی شہر لاہور سے ایک دوست نے رابطہ کیا کہ اس کے والد کی پینشن نہیں شروع کی جا رہی تھی اور اس کام کے لئے نچلے درجے کے ملازمین نے اپنے ہی سابقہ افسر کے لئے پیسوں کی شرط رکھ دی تھی، میری مدد درکار تھی کہ کوئی واقفیت استعمال کر کے ان کا کام کروا دوں۔ اندازہ کریں کہ ہمارا معاشرہ کس سمت میں جا رہا ہے، آپ کا اپنا محکمہ آپ کی ریٹائرمنٹ کے بعد احساس اور شرم کو ایک طرف رکھ دیتا ہے۔ حرام کمائی صرف رشوت لینا نہیں، ہر وہ آمدنی حرام ہے جہاں نا انصافی ہو، نوکری کا حق ادا نہ کیا جائے اور ذمہ داریاں ایمانداری سے نہ نبھائی جائیں۔
ہمارے ہاں ہر ادارے میں حرام کمانے والے موجود ہیں۔ آپ کوئی ٹھیکہ کسی بھی ادارے سے رشتہ داری، تعلق، یا پیسوں کے بغیر نہیں لے سکتے ہیں۔ شریف آدمی تو اپنی نوکری میں میرٹ کی بنیاد پر پروموشن نہیں کروا سکتا ہے۔ میرے ایک دوست نے اپنے پرائیویٹ ادارے کا آنکھوں دیکھا حال بتایا، کہنے لگا کہ سینئر پوزیشن پر موجود افسر نے اپنے ماتحتوں کی سالانہ پرفارمنس اپریزل کرتے ہوئے بہترین کارکردگی دکھانے والے ماتحت کے ساتھ یہ کہہ کر ظلم کیا کہ اس دفعہ کسی اور کو بہتر ریٹنگ دے دی ہے کیونکہ وہ پیچھے پڑا ہوا تھا، اس کی تنخواہ اس کے بقول کم تھی اور اس کو پہلے کبھی اچھی ریٹنگ نہیں ملی تھی، یعنی کہ اپریزل کے مقصد سے ناواقف ہوتے ہوئے اس سینئر افسر نے میرٹ کی دھجیاں اڑا دیں اور صفائی دی کہ اگلی دفعہ اس حق دار کو اچھی ریٹنگ دے دی جائے گی، بھلا اس کی کیا گارنٹی ہے کہ آج کا حق دار اگلے سال بھی حق دار رہے گا اور اپریزل کرنے والا افسر خود بھی اسی نوکری پر موجود ہو گا۔ اکثر اوقات مورال گرنے سے کارکردگی بھی گر جاتی ہے۔ بہرحال اللہ کا خوف ہمارے ہر عمل میں ہونا ضروری ہے۔
جب کسی کے ساتھ زیادتی کرنے لگیں تو سوچیں ضرور کہ مکافات عمل سے کیسے بچیں گے، کسی کا کیریئر آج تباہ کر کے اپنے بچوں کے بہترین مستقبل کے خواب ٹوٹتے ہوئے دیکھنے کے لیے بھی خود کو تیار کریں۔ جب ایک انگلی کسی کی طرف اٹھائیں تو باقی انگلیوں کا رخ ضرور دیکھیں اور دوسروں سے پہلے خود کو سدھاریں تاکہ معاشرے میں بہتری آئے اور آپ کے دین اور دنیا دونوں سنور جائیں، ہر کسی نے اپنا حساب دینا ہے دوسروں کا نہیں، اس لئے اپنی فکر کریں۔


