حرکت کا سائنسی تصور ( 12 )


1824 ء میں، ایک نوجوان فرانسیسی انجینئر، سادی کارنوٹ (متوفٰی 1832 ء) نے حرارت سے چلنے والے انجن کی کارکردگی کی حدود کا ایک اہم تجزیہ شائع کیا۔ حرارت والے انجن ایندھن سے خارج ہونے والی حرارت کو کارآمد میکانکی توانائی میں تبدیل کرتے ہیں۔ کارنوٹ کے بعد ، انیسویں صدی کے وسط میں کئی دیگر لوگوں نے کچھ مرکزی تصورات کو تیار کیا جنہیں اب ہم کلاسیکی حرحرکیات (تھرموڈائنامکس) کہتے ہیں۔ ان تصورات میں درجہ حرارت، توانائی، حرارت اور مکینیکل توانائی کی مساوات، مطلق صفر کا تصور (سب سے کم ممکنہ درجہ حرارت) ، تھرموڈائنامکس کا پہلا قانون (جس میں کہا گیا ہے کہ توانائی پیدا یا تباہ نہیں کی جا سکتی، لیکن صرف ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل ہوتی ہے ) ، اور مثالی گیسوں میں درجہ حرارت، دباؤ اور حجم کے درمیان بنیادی تعلقات شامل ہیں۔ حرحرکیات کے تصورات میں اینٹروپی کے تصور کو پہلی بار جرمن سائنسدان روڈولف کلاشیئس (متوفٰی 1822 ء) کے کام میں واضح طور پر پیش کیا گیا۔

کلاشیئس نے اینٹروپی کو حرارت کی توانائی میں تبدیلی اور درجہ حرارت کے تناسب کے طور پر بیان کیا۔ اینٹروپی کی اصطلاح کا ماخذ یونانی tropé، یعنی تبدیلی ہے۔ کلاشیئس نے کہا کہ کائنات کی اینٹروپی کو زیادہ سے زیادہ قدر کی طرف مائل ہونا چاہیے۔ یہ تھرموڈائنامکس کے دوسرے قانون کے پہلے واضح بیانات میں سے ایک تھا، جس کے بارے میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مطلوبہ کم سے کم توانائی خرچ کیے بغیر حرارت کو ٹھنڈے سے گرم جسم میں منتقل کرنا ناممکن ہے۔ اینٹروپی یا حرحرکیات کا دوسرا قانون، ہمارے روزمرہ وقت کے تصور کو واضح کرتا ہے۔ وقت کی ماضی، حال اور مستقبل میں تقسیم ہوتی ہے۔ کسی قدرتی مظہر کی وقت میں ناقابل واپسی کا تصور روزمرہ کی زندگی سے قریب ہے۔ پانی کے گلاس کو فرش پر توڑ دینا بہت آسان ہے، مگر اسے دوبارہ اکٹھا کرنا بہت مشکل ہے۔ لیکن نیوٹن کے قوانین کہتے ہیں کہ تمام طبیعی مظاہر وقت میں الٹ سکتے ہیں، یعنی نیوٹن کے حرکیات کے قوانین کا کوئی بھی حل درست رہتا ہے اگر ہم مساوات میں وقت کی علامت کو الٹ دیں۔

نیوٹن کی مساواتوں کے مطابق شیشے کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں اور پانی کے قطروں کے مالیکیول دوبارہ جڑ کر پانی کا گلاس بنا سکتے ہیں۔ مگر روزمرہ زندگی میں ایسا کیوں نہیں ہوتا؟ اگر ہم نیوٹن کی میکانیات پر یقین رکھتے ہیں، تو اس کا واحد ممکنہ جواب یہ ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے، مگر ایسا ہوتا ہوا کبھی ”دیکھا“ نہیں گیا کیونکہ وقت میں الٹا چلنے کے امکان کا جھکاؤ ناممکن ہونے کی طرف زیادہ ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اینٹروپی میں اضافے کا امکان کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ 1898 ء میں بولٹزمین نے دکھایا کہ میکسویل کی برقی مقناطیسی تھیوری بھی نیوٹن کی میکانیات کی طرح وقت کی سمت سے مستثنیٰ ہے۔

برقی حرکیات کے برعکس حرحرکیات نامکمل حالت میں رہی اور اس کی الجھنوں کا مرکز انٹروپی، وقت میں ناقابل واپسی، اور حرحرکیات کا دوسرا قانون تھا۔ پلانک نے کئی سالوں تک کوشش کی کہ نیوٹن کی میکانیات اور میکسویل کی برقی مقناطیسی تھیوری دونوں کی مدد سے انٹروپی کے عالمگیر اضافے کی وضاحت کی جائے۔ لیکن آسٹریا کے ماہر طبیعیات لدوخ بولٹزمین نے دکھایا کہ اینٹروپی کے بارے میں سوچنے کا ایک بالکل مختلف انداز بھی ہو سکتا ہے۔ دوسرے لوگوں (خاص طور پر میکسویل) نے اس تصور کی کھوج کی تھی کہ حرارت مادے کے بے شمار ذرات کی حرکی توانائی ہے، لیکن بولٹزمین نے تمام کلاسیکی حرحرکیات کو ایٹموں اور مالیکیولز کے بڑے پیمانے پر شماریات کے نظریہ کے طور پر ازسرنو قائم کیا اور اس طرح فزکس میں نیا شعبہ تخلیق کیا جسے اب شماریاتی میکانیات کہا جاتا ہے۔ شماریاتی میکانیات میں ہم میکروسکوپک مادے (روزمرہ سطح کی چیزوں ) کو ایٹموں یا ذرات کی سطح پر خوردبینی مادے کے اوسط رویے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس نقطہ نظر کے مطابق، اینٹروپی خوردبینی سطح پر خرابی کا ایک پیمانہ بن جاتا ہے۔ میکروسکوپک آرڈر کے نیچے مائکروسکوپک ڈس آرڈر پایا جاتا ہے۔ اگر کسی طبعی نظام کو خود پر چھوڑ دیا جائے تو اس کی اینٹروپی اپنی انتہائی قدر تک بڑھ جائے گی۔ اس انتہائی اینٹروپی کے مقام پر کہا جاتا ہے کہ طبعی نظام توازن میں ہے۔

بولٹزمین کے شماریاتی میکانیات کو متعدد سائنس دانوں کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ولہیم اوسٹوالڈ (متوفٰی 1853 ء) کی سربراہی میں کچھ ماہرین نے یہ نظریہ برقرار رکھا کہ تمام مادّہ توانائی کے مسلسل فیلڈز پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے کوئی بھی بنیادی طبیعی نظریہ، مجرد ایٹم یا مالیکیول جیسی چیزوں پر مبنی نہیں ہونا چاہیے۔ اثباتیت پسند ارنسٹ ماخ (متوفٰی 1916 ء) کی طرف سے بھی ایٹمی نظریے پر شدید تنقید کی گئی۔ اس نے اصرار کیا کہ ایٹموں کو سنجیدگی سے نہیں لیا جانا چاہیے کیونکہ ان کا براہ راست مشاہدہ نہیں کیا جاسکتا (جو اس دور میں ممکن نہیں تھا) ۔

حرحرکیات کی شماریاتی تشریح کو قبول کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ دباؤ، درجہ حرارت، حرارت کی توانائی اور اینٹروپی جیسی تھرموڈائنامک مقداروں کو عام مادے کی خصوصیات کے طور پر مطالعہ کیا جاتا تھا۔ انسانی ادراک کے پیمانے پر، مادہ مسلسل تقسیم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ درحقیقت، 1800 ء کی دہائی کے وسط تک، حرارت کو بھی ایک قسم کے سیال مادہ کے طور پر سمجھا جاتا تھا، جسے کیلورک کہتے تھے۔ اس لیے یہ معقول معلوم ہوتا تھا کہ حرارت یا درجہ حرارت جیسی تھرموڈائنامک مقداروں کو ایسے ریاضیاتی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے جو نیوٹن کے قوانین یا میکسویل کی فیلڈ مساواتوں کی طرح تھے، اور زیادہ تر طبیعیات دانوں کے لیے اس تصور کو قبول کرنا بہت مشکل تھا کہ حرحرکیات کے قوانین محض اوسط رویے کی وضاحت ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایٹموں کے وجود کے لیے ابھی تک کوئی ناقابل تردید نظریاتی دلیل یا براہ راست تجرباتی ثبوت موجود نہیں تھا۔

1900 ء میں جرمن میکس پلانک نے بلیک باڈی ریڈی ایشن کے سپیکٹرم کو بیان کرنے کے لئے بولٹزمین کے تصور کو صرف ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا جو کہ اس وقت کے ماہرین طبیعات کا وتیرہ تھا کہ وہ مادے کی ایٹموں اور مالیکیولوں میں تقسیم کو محض مسائل کے حل کا ایک عملی فائدہ سمجھتے تھے۔ لیکن آئن سٹائن نے اپنے 1905 ء کے چار مشہور مقالوں میں سے ایک میں بولٹزمین کے تصور کو روشنی کی فطرت کا جزو قرار دیا۔

بیسویں صدی کے آخر تک کچھ اور تجربات ایسے تھے جن کی وضاحت کلاسیکی طبیعات سے نہیں ہو پاتی تھی۔ ان میں ایکس رے، کیتھوڈ شعاعیں اور فوٹو الیکٹرک اثر شامل ہیں۔ ایکس ریز کی دریافت پر ولیم رونجن کو دنیا کا پہلا فزکس نوبل انعام 1901 ء میں ملا۔ برطانوی جے جے تھامسن نے 1897 ء میں ثابت کیا کہ کیتھوڈ ریز دراصل منفی بار کے حامل ذرات ہیں جنہیں الیکٹران کہتے ہیں۔ الیکٹران کی دریافت نے ایٹم کے پرانے یونانی تصور کو ختم کر دیا کہ یہ ناقابل تقسیم ہوتے ہیں۔ اسی طرح 1887 ء میں ہنرک ہرٹز (متوفٰی 1892 ء) نے اتفاقاً دریافت کیا تھا کہ کچھ دھاتوں پر الٹراوائلٹ شعاعیں ڈالنے سے ان سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ جرمن تجربہ دان فلپ لینرڈ (متوفٰی 1947 ء) نے ہرٹز کے اس مشاہدے پر کئی سال کام کیا اور 1902 ء میں اپنا سب سے مشہور مقالہ پیش کیا جو فوٹوالیکٹرک اثر کے بارے تھا۔ اس اثر میں اہم اور نئی بات یہ تھی کہ میکسویل کی تھیوری کے برعکس، دھات پر پڑنے والی شعاعوں کی شدت کا برقی بہاؤ کی مقدار پر کوئی اثر نہیں ہے مگر جونہی ان شعاعوں کی فریکوئنسی تبدیل کریں تو برقی بہاؤ میں واضح تبدیلی نظر آتی ہے۔ چونکہ برقی بہاؤ سے مراد کسی دھات میں الیکٹرانوں کا بہاؤ ہوتا ہے، گویا دھات کی سطح سے نکلنے والے الیکٹرانوں کی توانائی کا دار و مدار، دھات پر گرنے والی روشنی کی فریکوئنسی پر تھا۔

آئن سٹائن نے سترہ مارچ 1905 ء کے مقالے میں دکھایا کہ اگر بولٹزمین کی شماریاتی میکانیات (بالخصوص ایکوی پارٹیشن تھیورم) کو استعمال کر کے ریلے جینز کا قانون اخذ کیا جائے اور پھر اس کی مدد سے اسٹیفن کا قانون (بلیک باڈی سپیکٹرم کا رقبہ) اخذ کرنے کی کوشش کریں تو یہ ناکام ہوتی ہے۔ یہ ناکامی کلاسیکی تھیوری کی ہے کیونکہ کلاسیکی فزکس میں گراف کا رقبہ کیلکولس (انٹیگریشن) سے نکلتا ہے۔ یاد رہے تجربات میں اسٹیفن کا قانون کام کرتا ہے۔ آئن سٹائن نے پلانک کی طرح انٹیگریشن کے بجائے ڈسکریٹ انرجی کو استعمال کیا تو اسے سٹیفن کا قانون مل گیا۔ اسی طرح اس نے وین کے قانون کو استعمال کر کے بلیک باڈی میں اینٹروپی کی مقدار معلوم کی جو بولٹزمین کے نتیجے کے عین مطابق تھی۔

آئن سٹائن نے یہ نتیجہ نکالا کہ دھاتوں میں سے نکلنے والی یا ان میں جذب ہونے والی روشنی کی بہتر وضاحت یوں ہو سکتی ہے کہ پلانک کی طرح فرض کیا جائے کہ روشنی میں موجود توانائی کی تقسیم تسلسل کے بجائے متعین مقداروں کے ذرات میں ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ بلیک باڈی ریڈی ایشن، فلوریسینس، کیتھوڈ ریز اور فوٹوالیکٹرک اثر وغیرہ کے لئے ’انرجی کوانٹا‘ کا استعمال مناسب ہے۔ انرجی کوانٹا سے مراد ہے کہ روشنی، لہروں کے بجائے متعین توانائی کے پیکٹوں کی شکل میں ہوتی ہے۔ روشنی کے ہر پیکٹ کی توانائی، اس کی فریکوئنسی پر منحصر ہے جیسا کہ فلپ لینرڈ کے فوٹوالیکٹرک اثر کے تجربات میں دیکھا گیا تھا۔

نظریہ اضافیت کی طرح، آئن سٹائن کا انرجی کوانٹا کے حوالے سے 1905 ء کا مقالہ بھی اس وقت کی فزکس سوسائٹی کے لئے عجوبہ تھا اور اس نے بہت ہلچل مچائی۔ ابھی اس مقالے پر بحث جاری تھی کہ دو ہی سال میں یعنی 1907 ء میں اس نے ایک اور مقالہ لکھا۔ اس بار مقالہ یہ تھا کہ ٹھوس اجسام کے ایٹم اور مالیکیولوں کی توانائی بھی کوانٹا یعنی پیکٹ کی شکل میں ہوتی ہے۔ ٹھوس اجسام کی ایک قدر ہیٹ کپیسٹی ہے جو یہ بتاتی ہے کہ کسی ٹھوس جسم کا درجہ حرارت بدلنے سے اس کی انٹرنل انرجی (جو اس جسم کے ایٹموں کی مجموعی حرکی توانائی ہے ) کیسے بدلتی ہے۔ اس بارے میں 1819 ء میں ڈولونگ اور پیٹیٹ کا کلاسیکی قانون کہتا تھا کہ کسی دھات میں تمام درجہ حرارت پر ہیٹ کپیسٹی مستقل رہتی ہے۔ تجربات میں دیکھا گیا تھا کہ کم درجہ حرارت پر یہ نتیجہ درست نہیں ہے۔ آئن سٹائن نے اس کی وضاحت کے لئے مادے کی ذراتی ترتیب کو استعمال کیا۔ اس نے سوچا کہ ٹھوس جسم کے اندر ایٹم ارتعاشندوں کی طرح حرکت کرتے ہیں اور ان کی انرجی بھی ڈسکریٹ ہوتی ہے جو حرکت کی فریکوئنسی پر منحصر ہے۔ اس مفروضے پر اس نے نہ صرف نچلے درجہ حرارت پر ہیٹ کپیسٹی کی وضاحت کی بلکہ یہ بھی دکھایا کہ بلند درجہ حرارت پر اس کا قانون پھر سے ڈیولنگ پیٹیٹ کے قانون میں بدل جاتا ہے۔ ایک بار پھر اس وقت کے تجربات کی بہترین وضاحت کوانٹم نظریے سے پیش کی گئی۔ نظریہ اضافیت کی طرح اس بار بھی آئن سٹائن کی کوانٹم تھیوری کی شدید مخالفت ہوئی۔

1912 ء کے لگ بھگ رابرٹ ملیکن (متوفٰی 1953 ء) نے لینرڈ کے طریقوں اور آلات کی بہتری کے ذریعے آئن سٹائن کے مفروضے کو غلط ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ مگر اس کے جدید تجربات میں بھی فوٹوالیکٹرک اثر پر آئن سٹائن کی مساوات درست ثابت ہوئی جس سے اہل طبیعیات نے آئن سٹائن کی مساوات کو تو تسلیم کر لیا مگر کوانٹم نظریہ پر مشکوک رہے۔ حتٰی کہ جب آئن سٹائن کو 1921 ء میں فوٹوالیکٹرک اثر کی وضاحت پر نوبل انعام ملا تو اس میں بھی کوانٹم کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔ رابرٹ میلیکن کو 1923 ء میں نوبل انعام ملا مگر اپنے 1924 ءکے نوبل لیکچر میں ایک بار پھر اس نے آئن سٹائن کے روشنی کے ذرات پر مشتمل ہونے کے مفروضے پر اعتراض اٹھائے۔ پاپولر سائنس میں ایک الجھن یہ بھی ہے کہ پلانک اور آئن سٹائن کے فرق کو نہیں سمجھا جاتا۔ پلانک نے بلیک باڈی کو کچھ ارتعاشندوں پر مشتمل قرار دیا تھا جن کی حرکت ڈسکریٹ ہوتی ہے مگر روشنی کو دیگر لوگوں کی طرح بذات خود میکسویل تھیوری کے مطابق برقی مقناطیسی لہر ہی سمجھا تھا۔ مگر آئن سٹائن نے خود روشنی کو ذرات پر مشتمل قرار دے کر جدید کوانٹم تھیوری کی بنیاد رکھی ہے۔ انرجی کوانٹا کا سب سے معتبر اور حتمی تجربہ آرتھر ہولی کومپٹن (متوفٰی 1962 ء) نے 1923 ء میں کیا جس میں اس نے دیکھا کہ ایکس ریز کو کرسٹلز میں مختلف زاویوں سے گزارا جائے تو وہ کرسٹلز کے ایٹموں سے یوں ٹکراتی ہیں جیسے دو گیندیں آپس میں ٹکراتی ہوں۔ اس اہم تجربے کے بعد فزکس کی دنیا میں روشنی کے ذرات پر مشتمل ہونے کے آئن سٹائن کے نظریے کو باقاعدہ تسلیم کر لیا گیا۔ روشنی کے ذرات کو 1924 ء میں گلبرٹ لیوس (متوفٰی 1946 ء) نے فوٹون کا نام دیا۔

روشنی سے متعلق دو متصادم نظریات انیسویں صدی کی پہلی دو دہائیوں تک سامنے آرہے تھے۔ متعدد تجربات یعنی بلیک باڈی سپیکٹرم، فوٹوالیکٹرک اثر، ٹھوس اجسام کی ہیٹ کپیسٹی اور کامپٹن اثر کی وضاحت یوں ہوتی ہے کہ توانائی چھوٹے ذرات پر مشتمل ہوتی ہے۔ جبکہ انٹرفیئرنس، ڈفریکشن اور پولرائزیشن وغیرہ کے لئے کوانٹم تھیوری کے نتائج کلاسیکی تھیوری میں بدل جاتے ہیں اور روشنی لہر کی طرح عمل کرتی ہے۔ آئن سٹائن نے 1909 ء میں اپنے ایک مقالہ میں لکھا تھا کہ ہمیں روشنی کے دہرے رویے کو قبول کرنا چاہیے۔ اسے ہی مشہور ’ذرہ و لہر کی دوئی‘ کا مسئلہ کہتے ہیں۔ اکثر پاپولر سائنس لکھنے والے نہیں جانتے کہ کوانٹم نظریے کے بانیوں میں آئن سٹائن شاید واحد تھا جو بیسویں صدی کے پہلے پچیس سال ایٹمی نظریے کا سخت حامی تھا۔ پرانے کوانٹم نظریے کا ہیرو آئن سٹائن ہے۔

Facebook Comments HS