سندھی ادب و ثقافت کی ہمہ جہت شخصیت: ایاز عالم ابڑو

ادب اور ثقافت کے مختلف شعبوں میں بے شمار کام کرنے کے باوجود، ان کی عادت میں شور مچانا شامل نہیں۔ وہ محفلوں کے شوقین کبھی نہیں رہے۔ اگر کسی قریبی دوست کے اصرار پر کسی تقریب میں شرکت کرتے بھی ہیں تو خاموشی سے کسی کونے میں بیٹھ جاتے ہیں، اور بات کرنے کے بجائے سننے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی خاموشی سے بس کام کیا ہے، اور ہمیشہ ان کے کام کی خوبصورتی نے خود سر چڑھ کر بول کر ان کی پہچان بنائی ہے۔ نہ انہیں کریڈٹ لینے کا شوق ہے، نہ شہرت کی بُھوک، نہ شناخت کی تلاش میں دوڑتے نظر آتے ہیں، اور نہ ہی پذیرائی کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ وہ ہمارے اکثر تخلیق کاروں کی طرح یہ شکایت کرتے بھی نظر نہیں آتے کہ ”قوم نے میری قدر نہیں کی!“ (حالانکہ انہوں نے جتنا کام کیا ہے، اس کے مقابلے میں ان کی پذیرائی انتہائی کم ہی ہوئی ہے ) ۔ بالمشافہ ملنے پر ہر ایک کو ہمیشہ حوصلہ افزائی اور محبّت کے خزانے سونپتے ہیں، سامنے والے کو بلا تفریقِ عمر و عہدہ خالص محبت اور احترام دیتے ہیں۔ دل کے صاف، معصوم القلب اور باوقار شخصیت کے مالک، اپنے فن کے ماہر، یہ تخلیق کار کوئی اور نہیں بلکہ سندھ کے ہمہ جہت ’ملٹی ٹیلنٹڈ‘ فنکار، اداکار، ہدایتکار، مصور، شاعر، ڈراما نویس، فوٹوگرافر، صحافی، کارٹونسٹ اور محقق، ایاز عالم ابڑو ہیں۔ جن کا خمیر تو قنبر شہر سے اٹھا، لیکن دریائے سندھ کے پڑوسی شہر جامشورو نے انہیں تقریباً آدھی صدی سے زائد عرصے سے اپنا مقیّد بنایا ہوا ہے، اور اب وہ قنبر کے کم اور جامشورو کے زیادہ ہیں۔
ایاز عالم ابڑو 3 مئی 1950 ء کو اُس وقت کے ضلع لاڑکانہ اور موجودہ ضلع قمبر/ شہدادکوٹ میں، معروف اور باصلاحیت مصوّر، فوٹوگرافر اور پیشے کے لحاظ سے ڈرائنگ ٹیچر محمّد عالم ابڑو کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کے تمام بیٹے، جن میں ایاز کے علاوہ دارا عالم ابڑو، منصور عالم ابڑو، طارق عالم ابڑو، ساقی ابڑو اور قیس عالم ابڑو شامل ہیں، بھی آرٹ، ادب، اداکاری، ثقافت اور فنونِ لطیفہ کے دیگر مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے کی وجہ سے اپنے اپنے شعبوں میں منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ ایاز عالم، محمّد عالم صاحب کے دوسرے نمبر کے بیٹے ہیں۔ ان سب کا سرچشمہ ان کے والد محمّد عالم ابڑو ہی ہیں، جن سے نکل کر ان سب نے سندھ کے ادب، فن اور ثقافت کے مختلف میدانوں میں اپنی اپنی صلاحیتوں کے رنگ بکھیرے۔ ان میں ایاز عالم ابڑو ایک ایسے ہمہ جہت تخلیق کار ہیں، جنہوں نے فن کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کے جھنڈے گاڑے ہیں۔
ایاز عالم ابڑو نے حصولِ تعلیم کے سفر کا آغاز گورنمنٹ میونسپل ہائی اسکول قنبر سے کیا، جہاں سے 1962 ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور 1964 ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول حیدرآباد سے انٹرمیڈیٹ گریڈ ڈرائنگ کا امتحان فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن کے ساتھ پاس کیا۔ اس کے بعد وہ 1965 ء میں میونسپل ہائی اسکول قنبر میں اپنے والد کی جگہ ڈرائنگ ٹیچر مقرر ہوئے اور آرٹ کے ساتھ ساتھ جیومیٹری کا مضمون بھی پڑھانے لگے۔ یہاں 8 برس تک ( 1973 ء تک) انہوں نے تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد ان کا خاندان حیدرآباد منتقل ہو گیا۔
چونکہ ایاز عالم کو پینٹنگ اور فوٹو گرافی کا شوق اور ادبی ماحول ورثے میں ملا تھا، لہذا فن سے دلچسپی کے باعث، انہوں نے اسی دور سے ہی ریڈیو پاکستان حیدرآباد آنا جانا اور بچوں کے مشہور پروگرام ”بارن جی باری“ (بچوں کی کیاری) میں حصہ لینا شروع کیا۔ یہاں انہیں مصطفیٰ قریشی (ادا) ، عبدالکریم بلوچ (ماما ملوک) اور اس وقت کے ریڈیو پاکستان حیدرآباد کے اسکرپٹ رائٹر علی بابا جیسی معروف شخصیات کے ساتھ کام کرنے اور سیکھنے کا موقع ملا۔ انہی دنوں ( 1970 ء کی دہائی کے دوران) انہوں نے مہران آرٹس کونسل حیدرآباد اور محکمۂ تعلیم، سندھ حکومت کے تعاون سے منعقد ہونے والی آرٹ کی نمائشوں میں حصہ لینا شروع کیا اور متعدد ایوارڈز جیتے۔
ایاز عالم نے لکھنے کا آغاز اپنے بچپن ہی سے کیا۔ ان کی ابتدائی کہانیاں ”گل پُھل“ رسالے، روزنامہ ”عبرت“ حیدرآباد کے بچوں کے صفحے ”بارن جی باری“ اور اردو رسالے ”نونہال“ میں شائع ہوتی رہیں۔ اس وقت ”بارن جی باری“ کے ایڈیٹر پیر مظہرالحق (ماما موجی) تھے۔ 1970 ء اور 1980 ء کی دہائیوں میں ایاز عالم نے ریڈیو پاکستان حیدرآباد کے لیے فیچرز اور ڈراموں کے اسکرپٹ بھی لکھے۔ ان کے مشہور ڈراموں میں ”واچوڑے جی ووڑ“ ، ”ہیکل جندڑی“ اور ”سوبھارو سانول“ شامل ہیں، جنہیں سامعین میں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ ڈراموں کے علاوہ انہوں نے مختلف ریڈیو پروگراموں کے اسکرپٹ بھی لکھے، جن میں 1982 ء میں انور بلوچ کی پیشکش میں نشر ہونے والا ہفتہ وار پروگرام ”محفلِ شب“ (جو شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری پر مشتمل تھا) اور ہفتہ وار ڈاکیومنٹری پروگرام ”گھر شاد۔ وطن شاد“ شامل ہیں۔ ان کے تحریر کیے ہوئے اور معروف براڈکاسٹر سکندر بلوچ کے پیش کردہ ریڈیو دستاویزی پروگرام ”پھلکارا“ (بدین کا ایک مثالی گاؤں ) کو ”ایشیا پیسیفک انسٹیٹیوٹ آف براڈکاسٹنگ ڈیویلپمنٹ، ملائیشیا“ نے اسکرپٹ کے لحاظ سے ”بہترین بین الاقوامی ریڈیو پروگرام“ کے طور پر انعام دیا۔
ریڈیو کے ساتھ ساتھ ایاز عالم ابڑو نے پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے بھی متعدد اسکرپٹ اور ڈرامے لکھے۔ ان کا پہلا ٹی وی ڈرامہ ”ڈات جے ڈیہہ میں“ (تخلیق کے دیس میں ) تھا، جو 1978 ء میں نشر ہوا۔ جس میں انہوں نے سندھی ادیبوں کی حالت زار کی عکاسی کی تھی۔ اس ڈرامے نے 1978 کے بہترین ڈرامے کا ایوارڈ جیتا۔ اسی سال دسمبر میں اس ڈرامے کے اسکرپٹ کو سندھی ادبی بورڈ کے سہ ماہی جریدے ”مہران“ میں بھی باتصویر شائع کیا گیا۔
ٹیلی ویژن کے لیے ایاز عالم ابڑو کے لکھے ہوئے چند اہم ڈراموں میں سندھی ڈراما ”چنڈ گدرے پھارَ“ (چاند، خربوزے کا ٹکڑا) ، جسے بعد ازاں اردو میں ترجمہ کر کے ”عید کا چاند“ کے نام سے بھی نشر کیا گیا، ”پنہنجا پنہنجا سپنا“ (اپنے اپنے سپنے ) ، ”انت بحر“ (سمندر کی انتہا) جو معروف عالم علامہ آئی آئی قاضی کی زندگی پر مبنی تھا، ”گھایل مُرکَ“ (زخمی مسکراہٹ) ، ”اسکائی لیب“ اور مشہور سیریل ”کُنَ ائیں کنارا“ (بھنور اور کنارے ) شامل ہیں۔ تعمیر حسین کی آواز میں اس سیریل کا ٹائٹل گیت بھی اس ڈرامے کی طرح بے حد مقبول ہوا اور آج بھی اُس دور کے ٹی وی ناظرین کو یاد ہے۔
ایاز عالم کے بعض ڈرامے پی ٹی وی ایوارڈ کے لیے بھی نامزد کیے گئے، جن میں نیشنل نیٹ ورک پر نشر ہونے والا اردو ڈراما ”اچھوت“ (پروڈیوسر: ساحرہ کاظمی) اور سندھی سولو پلے ”موتیءَ جہڑو منُ“ (موتی جیسا دل) شامل ہیں، جسے ہارون رند نے پیش کیا تھا۔
1982 ء میں ایاز نے ایک تحقیقی دستاویزی فلم ”میر بحر“ تیار کی، جو منچھر جھیل کی ماحولیاتی تباہی کے بارے میں تھی، جو ان دنوں پی ٹی وی پر ٹیلی کاسٹ ہوئی۔ ایاز عالم نے اس فلم پر چھ مراحل میں کام کیا، جس میں تحقیق، فلم کی کہانی کا اسکرپٹ، بیانیہ، پسِ پردہ آواز کی ریکارڈنگ (وائس اوور) اور جھیل کے مناظر کی ساکن عکاسی (اسٹل فوٹوگرافی) شامل ہیں۔ اس دستاویزی فلم نے مغربی جرمنی کے شہر مغربی برلن میں 1982 ء کے ’پرنس فیوچر فیسٹیول‘ میں بین الاقوامی مقابلے میں بہترین اسکرپٹ کا پہلا انعام، ”ٹرانسٹیل پرائز“ جیتا۔ ایاز عالم ابڑو نے اس فلم میں مچھیرے کا مرکزی کردار بھی خود ادا کیا تھا۔
نومبر 1994 میں انہوں نے بحیثیت ہدایتکار اور مترجم، سندھی کے معروف شاعر شیخ ایاز کے تاریخی منظوم ڈرامہ (اوپیرا) ”دودے سومرے جو موت“ (دودو سومرو کی موت) کا اردو ترجمہ کر کے اسے اسلام آباد کے آبپارہ کمیونٹی سینٹر کے اسٹیج پر پیش کیا۔ ایاز عالم کے تحریر شدہ دستاویزی پروگرام ”ہمارے کھیل“ کا ایک سلسلہ پی ٹی وی پر ٹیلی کاسٹ کیا گیا، جس میں وہ قومی سطح پر سندھ کے بُھولے بسرے کھیلوں کو سامنے لائے۔ انہوں نے پی ٹی وی کراچی سنٹر کے شعبہ کرنٹ افیئرز کے لیے کئی دستاویزی پروگرام لکھ کر بھی اپنی پہچان بنائی۔ ان میں میرپورخاص سے کھوکھراپار تک جانے والی ریلوے لائن پر ایک دستاویزی فلم ’راجہ ریل‘ ، قائداعظم کے مزار اور انسٹی ٹیوٹ آف سندھیالوجی (انسٹی ٹیوشن اینڈ میوزیم) کے بارے میں ایک دستاویزی فلم، ”پانی متھے جھوپڑا“ (پانی کے اوپر جھونپڑے ) ، پیر پٹھو، حیدرآباد میں مِیروں کے مزار اور اس جیسی دیگر متعدد دستاویزی فلمیں بھی شامل ہیں۔
ایاز عالم ابڑو نے صحافت کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں اور مختلف اخبارات و رسائل میں اپنی صحافتی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ وہ مختلف ادوار میں ہفت روزہ ”ہلچل“ میگزین حیدرآباد کے اسسٹنٹ ایڈیٹر، ماہنامہ ”پرکھ“ کے آرٹ ڈائریکٹر، ماہنامہ ”نؤں دور“ کے ایڈیٹر، روزنامہ ”الکھ“ حیدرآباد کے تخلیقی شعبے کے سربراہ، اور 1976 ء تا 1978 ء روزنامہ ”عبرت“ حیدرآباد کے آرٹ ڈائریکٹر، کارٹونسٹ اور خطاط (کیلی گرافر) کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ 1977 ء سے 1981 ء تک ایاز عالم ہفت روزہ ”سرتاج“ میرپورخاص کے ایڈیٹر رہے، جہاں پر انہوں نے نومبر 1981 ء میں ”سندھی ساہت (ادب) نمبر“ شائع کیا، اس دستاویز میں انہوں نے سندھ کے تمام نمائندہ ادیبوں، شاعروں، کالم نگاروں، ڈرامہ نویسوں اور ادب کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والی شخصیات کے باتصویر تعارف شائع کیے۔ اس کے علاوہ، ایاز نے ”انڈس ویلی سولائزیشن آرگنائزیشن“ میں ڈائریکٹر، ایسٹرن فلم اسٹوڈیوز میں ’کانسیپٹ رائٹر‘ ، ”اوسون ایڈورٹائزرز انٹرنیشنل“ نامی ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں اسسٹنٹ میڈیا پلانر، آرٹسٹ اور فوٹوگرافر، جاوید جبار اور مہرین جبار کے ادارے ”ایم اینڈ جے کمیونیکیشن انٹرنیشنل“ میں ’کانسیپٹ رائٹر، فنکار اور مصور، اور انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی میں آڈیو ویژول ایڈز انچارج اور فوٹوگرافر کے طور پر بھی اپنی خدمات انجام دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایاز عالم نے سندھ یونیورسٹی جامشورو کے شعبۂ صحافت / ماس کمیونیکیشن میں میڈیا اور کمیونیکیشن کے وزیٹنگ فیکلٹی (مہمان استاد) کے طور پر بھی کچھ عرصہ تدریسی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے مختلف اخبارات کے لیے مختلف موضوعات پر کئی کالم، مضامین اور تحقیقی تحریریں لکھی ہیں، جن میں حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شخصیت اور شاعری پر مبنی تحقیقی مضامین کی بھی خاصی تعداد شامل ہے۔ انہوں نے تقسیم کے بعد لکھے گئے اسٹیج ڈراموں اور اسٹیج کی تکنیک کے موضوع پر ایک کتاب ”جدید سندھی ناٹک سونہوں“ لکھی جس کے کچھ ابواب روزنامہ ”ہلالِ پاکستان“ کے ہلال میگزین میں شائع ہوئے۔ ان کی سفارش پر 1980 ء میں ہند اور سندھ میں سندھی ڈرامے کی صد سالہ تقریبات منائی گئیں۔ 1980 ء کی دہائی کے دوران، انہوں نے موہنجوداڑو، منچھر جھیل اور اپنے شہر قنبر کے بارے میں ہائیکو بھی لکھے۔
ایاز عالم ابڑو کی شاعری میں وطن سے محبت، ثقافت سے لگاؤ اور سماجی مسائل کی عکاسی ملتی ہے۔ افسوس کہ اب تک ان کی نثر اور نظم کی کوئی کتاب شائع نہیں ہو سکی۔ ہم ان سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اپنی شعری اور نثری تحریروں کو مرتب کر کے جلد از جلد اپنے قارئین تک پہنچائیں، اور سرکاری ادبی و ثقافتی اداروں سے بھی درخواست ہے کہ ایسے انمول تخلیق کاروں کے کام کو شائع کر کے قارئین تک پہنچائیں اور تاریخ میں محفوظ کرنے کا اہم فریضہ انجام دیں۔ علاوہ ازیں ایاز عالم جیسے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے والے افراد کے لیے سرکاری سطح پر اعتراف کا اہتمام کریں اور انہیں سول ایوارڈ دے کر ان کی فنی، ادبی، صحافتی اور ثقافتی خدمات کا اعتراف کریں۔
آج سندھ کا یہ قابلِ فخر تخلیق کار اپنی زندگی کی 75 بہاریں مکمل کر رہا ہے۔ ہم ان کی صحتمند زندگی کے لیے دعاگو ہیں اور انہیں سالگرہ کی دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔


