پاک بھارت کشیدگی، امکانات اور انجام
موجودہ پاک بھارت کشیدگی اور اس میں بڑھتی گرما گرمی بھارت کی طرف سے کسی مہم جوئی کا قوی امکان رکھتی ہے تاہم بھارت زمینی یا فضائی جارحیت کا ”خطرہ“ ماضی قریب کے تجربات کی وجہ سے کبھی مول نہیں لے گا جس کے باعث امکان ہے کہ سمندری حدود پر کچھ ہو لیکن اس کی بھی تاحال بظاہر کوئی فوری صورت نظر نہیں آ رہی گو بھاتی بحریہ پورے شد و مد سے پاکستانی بحری حدود کے قریب مشق میں مصروف ہے۔ اس تناظر میں تناؤ میں اضافہ بھارتی میڈیا کی شروع کردہ ففتھ جنریشن وار میں واحد ”ہتھیار“ ہو سکتا ہے جسے بھارت آخر تک استعمال کرتا رہے گا تاوقتیکہ بھارت اپنے داخلی اور سیاسی مفادات حاصل نہیں کر لیتا اور بیرونی ثالثی ممکنہ طور پر کئی دنوں تک جاری رہنے والی کشیدگی میں کمی لانے کے لیے اپنا کردار ادا نہیں کرتی۔ اس تناؤ کے منفی اثرات بھارتی معیشت پر برابر مرتب ہو رہے ہیں جس میں ہیجانی کیفیت تادم تحریر نہیں البتہ تناؤ میں اضافہ اس کے قریب کر رہا ہے۔ جوں ہی معاشی اثرات ایک خاص حد تک پہنچیں گے وہی تناؤ میں کمی کا نکتہ آغاز ہو گا۔ اس کے برعکس پاکستانی معیشت کا دائرہ کار اتنا وسیع نہیں کہ کسی بڑے منفی اثر کو سہ سکے جبکہ کمزوری اسے جلد متاثر کرے گی اور یہی بھارت کی حکمت عملی ہے کہ تناؤ میں رکھ کر پاکستان کو چوٹ پر چوٹ ماری جائے۔
عسکری لحاظ سے پاکستان میں اضطرابی کیفیت نہیں نہ ہی کسی بھی سطح پر کوئی ابہام یا تضاد ہے جبکہ بھارت میں تینوں مسلح افواج میں کسی معرکہ کے لیے ذہنی تیاری نظر نہیں آ رہی جس کی مثال شمالی کمان کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل سچندرا کمار اور ڈپٹی ائرچیف، ائرمارشل ایس پی دھارکر کی برطرفیاں ہیں۔
جنرل کمار کو مبینہ طور پر پہلگام حملے کے تناظر میں سیکیورٹی کی ناکامی پر برطرف کیا گیا جبکہ موصولہ اطلاعات کے مطابق انہوں نے پاکستان میں پیش قدمی کو غیر حقیقت پسندی قرار دے کر اس کے لیے درکار تیاری نہ ہونے پر انکار کیا تھا۔ مزید یہ بھی اطلاعات ہیں کہ انہوں نے پہلگام سانحہ کو سرکاری موقف کے برعکس بھارت کے اندر سے ہونے والی کارروائی مانا۔ ان کی جگہ آنے والے لیفٹننٹ جنرل پراتِک شرما کو ماتحت افسران نے جنرل کمار کی بات کی تائید کرتے ہوئے کنٹرول لائن پار نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ڈپٹی ائرچیف، ائرمارشل ایس پی دھارکر نے بھی کسی مہم جوئی کے لیے فضائیہ کی تیاری کو نامکمل قرار دیا جبکہ پائلٹس کا رافیل طیاروں کا غیر تسلی بخش استعمال کرنے کی بھی نشان دہی کی جس پر انہیں بھی فارغ کیا جا چکا ہے۔ بحری محاذ پر بھی بھارت کے مقامی طور پر تیار کردہ طیارہ بردار بیڑے آئی این ایس وکرانت کی بحری سرحد پر تعیناتی اور واپسی بھی اسی طرف ہی اشارہ کر رہی ہے، گو سرکاری موقف کے مطابق اسے تکنیکی وجوہات کے باعث بندرگاہ واپس بلایا گیا جو ایک غیر منطقی موقف ہے۔ ایسا کیسے ممکن ہے کہ موجودہ حالات میں اسے بغیر تیاری آگے بھیجا جائے؟
ایک اور امکان جس کا بھارتی میڈیا میں بہت شد و مد سے چرچا کیا جا رہا ہے وہ پاکستان پر میزائل حملہ ہے۔ یہ امکان بھارتیوں کے لیے کتنا ہی خوش کن کیوں نا ہو مگر ردعمل کی سنگینی کے باعث اس کا امکان بہت معدوم ہے۔ اس جارحیت کے امکان کا اظہار دراصل دونوں طرف کی اس حوالے سے جارحانہ اور دفاعی صلاحیتوں کی پرکھنے کے لیے کیا جا رہا ہے جس میں بھارتی کامیابی جہاں انہیں اپنے عوام کی آنکھ کا تارہ بنا سکتی ہے وہیں ناکامی ان کی موجودہ مقبولیت زمیں بوس بھی کر سکتی ہے جبکہ ہولناک تنائج اضافی ہوں گے۔
ان تمام امور سے قطع نظر، موجودہ تناؤ کے باوجود منظرنامہ کسی محدود جنگ کا بھی پیش خیمہ نہیں لگ رہا لیکن اس امکان کو کلی طور پر مسترد بھی نہیں کیا جاسکتا۔ بظاہر حملے کے بعد کی کیفیت کسی سیاسی مفاد کے لیے ہو سکتی ہے جیسا کہ 2019 پلوامہ حملہ اور اس کے بعد پاکستانی حدود میں فضائی جارحیت کچھ ہی عرصہ بعد منعقدہ عام انتخابات سے تال میل رکھتے تھے کیونکہ دائیں بازو کے نظریات کی حامل برسراقتدار جماعت کی عوامی حمایت کا سرچشمہ مذہبیت اور پاکستان مخالف کارڈ ہیں۔
دوسری جانب پاکستانی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی اس تناؤ کے توسط سے اتنا فائدہ ضرور ہو رہا ہے کہ وہ فارم 47 اور حکومتی نا اہلی کے حوالے سے جس تنقید کا مسلسل نشانہ بن رہے تھے اس میں فی الحال کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ فریقین ہر قسم کے مفادات کو بالائے طاق رکھ کر صرف اور صرف ملکی سالمیت اور بقاء باہمی کو ہی مدنظر رکھیں۔ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں، خود مسائل کی جڑ ہے جسے کاٹ کر باہمی امور براہ راست بات چیت سے حل کیے جانے چاہئیں۔


