جنگ سہنا آسان نہیں ہے
ہر نئے چڑھتے سورج کے ساتھ جوہری ہتھیاروں سے لیس جنوبی ایشیا کے دو ہمسایہ ممالک انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دونوں جانب جنگ کے نتیجہ میں انتہائی جانی، مالی، معاشی، نفسیاتی اور ماحولیاتی نقصان کا گہرا خطرہ بھی موجود ہے۔ سوچنے اور سمجھنے کی بات ہے کہ معیشتوں، ماحولیاتی نظام اور معاشی تباہی دونوں جانب کی قوموں کو اس سے قطع نظر کہ کون سا فریق فتح کا دعویٰ کرتا ہے، مستقل طور پر داغدار کر دے گی۔ لہٰذا اب وقت ہے کہ دونوں ممالک بیان بازی کو کم کرنے کے طریقے تلاش کریں اور اپنے سمیت دنیا کو بحرانی کیفیت سے باہر نکالیں۔
یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے تصادم کی صورت ہوشربا اقتصادی نقصانات کا خدشہ ہے۔ 1999 کی کارگل کی محدود جنگ کے بعد بھارت اور پاکستان دنوں کو لامحدود مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ زندگی تو اگرچہ بحال ہو گئی لیکن جنگ ختم ہونے کے بعد بھی اقتصادی اثرات طویل عرصے تک برقرار رہے تھے۔
آج اگر (خدا نخواستہ) مکمل جنگ چھڑ جاتی ہے تو کارگل اور ماضی کی جنگوں سے کئی گنا زیادہ تباہ کن ہوگی۔ فارن افیئرز فورم کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے لیے فوجی کارروائیوں کی یومیہ لاگت 670 ملین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے اور وسیع تر اقتصادی نقصانات ممکنہ طور پر 17.8 بلین ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کی کمزور معیشت پہلے ہی کم ہوتے ہوئے ذخائر اور آئی ایم ایف پر انحصار کے ساتھ ڈولتی رہتی اور مستحکم ہونے کی جدوجہد کرتی رہتی ہے۔ ایسی صورتحال میں چھڑنے والی جنگ ممکنہ طور پر شدید مہنگائی اور ضروری اشیاء کی قلت کا باعث بنے گی۔ دونوں ممالک میں روپے کی قدر گر جائے گی اور تیل کی قیمتوں اور درآمدی اخراجات میں اضافے سے افراط زر کا دباؤ بڑھ جائے گا۔ تنازعہ عالمی اقتصادی ترقی کو سُست کر دے گا۔ آج اگر بھارت میں تقریباً 200 ملین اور پاکستان میں 40 ملین افراد پہلے ہی ناکافی غذائیت کا شکار ہیں تو جنگ یا جنگ کے بعد کا منظر نامہ کیا ہو گا یہ سوچنے سے تو دماغ بھی انکاری ہے۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ پاکستان اور بھارت کا مسلح تصادم شدید ماحولیاتی تباہی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اس ضمن میں معلوم ہونا چاہیے کہ یوکرین اور غزہ کے تنازعات مایوس کن نتائج فراہم کرتے ہیں۔ یوکرین میں فروری 2022 سے اب تک 70 لاکھ ایکڑ سے زیادہ جنگلات اور شہری علاقوں کو نقصان پہنچ چکا ہے۔ اندازہ لگائیں کہ فقط ایک ڈیم کی تباہی کے نتیجے میں وسیع علاقے سیلاب کی زد میں آئے اور اُس کی بحالی کے لیے 57 بلین ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا نیز تعمیراتی کام کے لئے درکار دہائیاں کہانی کا دوسرا رُخ ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان اور بھارت کے زرعی علاقوں کو طویل مدت تک شدید آلودگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے کروڑوں افراد کے لیے غذائی تحفظ خطرے میں پڑ جائے گا۔ نیز دونوں ممالک کے دُنیا سے کیے گئے موسمیاتی وعدے بھی پسِ پُشت چلے جائیں گے۔ تاریخی اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی پہلے ہی موسمیاتی مسائل پر پاکستان اور بھارت کے تعاون کو پیچیدہ بنا رہی ہے، لہٰذا جنگ مشترکہ موسمیاتی اقدامات کی جانب بڑھتی کسی بھی پیش رفت کو روک دے گی، جس سے علاقائی موسمیاتی عمل کی تاثیر کم ہو جائے گی یا کم از کم متاثر ضرور ہو گی۔
اعداد و شمار مسلح تنازعہ کے نتیجے میں ہونے والی انسانی مصائب کا مناسب اندازہ نہیں لگا سکتے۔ شہری ہلاکتیں، اپاہج و مفلوج انسان، نقل مکانی اور خاندانوں کی علیحدگی ایسے زخم پیدا کرتی ہے، جنہیں معاشیات ماپ ہی نہیں سکتی۔ جنگ کے نتائج پہلے سے کمزور اقلیتی آبادیوں اور پسماندہ طبقات کو مزید پسماندہ کر دیں گے۔
ان ممکنہ تباہ کن نتائج کے پیش نظر عالمی برادری کو آگے بڑھ کر فعال مداخلت کرنا ہو گی اور اسلام آباد اور نئی دہلی پر اپنا سفارتی اور اقتصادی اثر و رسوخ استعمال کرنا پڑے گا۔ امریکہ دونوں ممالک کے ساتھ گہرے اور منفرد تعلقات رکھتا ہے۔ چین پاکستان کا قریبی اتحادی اور بھارت کے لیے اہم اقتصادی شراکت دار کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے سفارتی چینلز کو استعمال کیا جانا چاہیے جو جنگی بیان بازی کو کم کرنے میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ دیگر بڑی طاقتوں کو بھی مہم جوئی کی حوصلہ شکنی کے لیے تمام دستیاب سفارتی ذرائع استعمال کرنے چاہئیں۔
درج بالا ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر دونوں ممالک کی سیاسی اور عسکری قیادت کو دانشمندانہ فیصلے کرنا ہوں گے، اس لئے کہ آئندہ نسلوں کے مستقبل کا انحصار آج کے فیصلوں پر ہے۔ سوچ لیں کہ دونوں ممالک کی مشترکہ خوشحالی کے امکانات کے ساتھ جڑی مسلسل ترقی، یا باہمی تباہی دونوں قوموں کو کئی دہائیاں پیچھے دھکیل دے گی۔ یہاں تک کہ ایک مختصر یا محدود مسلح تنازعہ بھی ترقی کے راستوں کو ڈرامائی طور پر بدل دے گا نیز یہ جنونی فیصلہ تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور انفراسٹرکچر کے وسائل کو فوجی اخراجات اور تعمیر نو کی طرف موڑ دے گا۔
یوکرین اور غزہ کی جنگوں سے حاصل ہونے والے اسباق سنگین نتائج کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں بین الاقوامی مداخلت بہت دیر سے ہوئی یا ناکافی تھی۔ اس معاملے کو معمول پر لانے کے لئے فوری بین الاقوامی مداخلت درکار ہے قبل اس کے کہ تہذیبوں کو نقصان پہنچے اور آج، کل کے لئے المناک مثال بن جائے۔ مضبوط بین الاقوامی کارروائی اور باہمی فائدے پر مبنی سفارتی روابط کے ذریعے جنگ کے ڈھول کو ابھی بھی خاموش کیا جا سکتا ہے، اس سے قبل کہ دیر ہو جائے۔ تحمل سے سوچ لیں کہ جنگ سہنا آسان نہیں ہے۔


