ملازمت کا آغاز
بی ایس سی کا امتحان دینے کے بعد میں گاؤں میں چلا آیا۔ ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ گاؤں میں گزارا۔ میں ذہنی طور پر گو مگو کی کیفیت میں تھا۔ کورس کی کتابیں پڑھنے کو دل نہ کرتا کیوں کہ میں تو امتحان دے چکا تھا لیکن فیل ہونے کا ڈر لگا رہتا۔ ایک ڈیڑھ ہفتے بعد میں اکتا کر دوبارہ بوریوالا چلا آیا۔ یہاں بازار میں مجھے بشیر شاہین مل گیا۔ پوچھنے لگا کہ آج کل کیا کر رہے ہو میں نے اُسے بتایا کہ بالکل فارغ ہوں لیکن سخت بے زار بھی ہوں۔ دریافت کیا کہ نوکری کرو گے میں نے جواباً کہا کہ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں، بولا سمجھو تمہیں نوکری مل گئی ہے۔ ابھی گاؤں واپس چلے جاؤ اور وہاں سے اپنا بستر اور کپڑے وغیرہ لے کر کل واپس آ جاؤ۔ میں کل لاہور جا رہا ہوں۔ جہاں میری ملازمت ہے تم بھی وہیں پر میرے ساتھ نوکری کرو گے میں نے ایسے ہی کیا۔
اگلے دن ہم دونوں لاہور شیخوپورہ روڈ پر واقع منڈھیالی پیپر ملز میں پہنچ گئے۔ وہ مجھے اپنے ساتھ لے کر فوراً ہی جنرل مینجر کے پاس پہنچ گیا۔ جنرل منیجر چھوٹے سے قد کے نہایت چست و چالاک اور چاق و چوبند دکھائی پڑتے تھے اور بشیر شاہین کے اُن کے ساتھ اچھے مراسم تھے۔ بشیر نے میرا تعارف کرایا اور اُسے بتایا کہ یہ بھی یہاں پر ملازمت کرنے کا خواہش مند ہے۔ انہوں نے مجھ سے چند ایک عام نوعیت کے سوالات کیے اور میری تعیناتی ٹرینی شفٹ کیمسٹ کے طور پر کر دی گئی۔ تین ماہ کا ٹریننگ پیریڈ تھا جس میں تنخواہ 385 روپے تھی اور ٹریننگ کے بعد اس میں ایک سو روپے کا اضافہ ہو جانا تھا۔
گو کہ یہاں پر تنخواہ تو کچھ خاص نہیں تھی لیکن سہولیات کافی تھیں۔ مل کے اندر ہی صاف ستھری رہائش تھی۔ کھانے کے لیے افسر میس موجود تھا۔ کینٹین موجود تھی۔ اگر کبھی لاہور جانا ہوتا تو دوچار لوگ مل کر پروگرام بنا لیتے اور آفس کار پر لاہور گھوم پھر آتے۔ اس کا مالک ہاشم بن سعید کراچی کا رہائشی تھا جو گاہے بگاہے یہاں چکر لگاتا رہتا۔ ہم چھ نوجوان ٹرینی شفٹ کیمسٹ بس یوں سمجھ لیں کہ کالج سے سیدھے ادھر ہی آ گئے تھے۔ یہ مل تین ہاؤسز پر مشتمل تھی۔ ڈائجسٹر ہاؤس، واشنگ ہاؤس اور مشین ہاؤس۔ یہاں پر کاغذ تیار کیا جاتا تھا۔ سب سے پہلے توڑی میں کاسٹک سوڈا ڈال کر اسے ایک بہت بڑے پریشر ککر میں سٹیم پریشر کی مدد سے پکایا جاتا۔ پھر پانی کی مدد سے اسے اچھی طرح دھو کر بلیج کیا جاتا اور آخر میں مشین ہاؤس میں اسے کا غذ کی شیٹ میں تبدیل کیا جاتا اور اس شیٹ کو رول کر کے اس کے بڑے بڑے رول تیار کر لیے جاتے۔ انہی رول کی مد د سے کاپیاں بھی تیار کی جاتیں اور یہ رول اسی حالت میں بھی فروخت کر دیے جاتے۔
ہر شفٹ کیمسٹ ایک ہاؤس کی ایک شفٹ میں کام کرنے والے تمام ملازمین کا انچارج ہوتا وہ نہ صرف یہاں پر استعمال ہونے والے کیمیکلز کا دھیان رکھتا بلکہ ہاؤس کے تمام انتظامی امور بھی اسی کے ذمہ ہوا کرتے تھے۔ یہاں پر میرا روم میٹ غلام علی ناگی گوجرانوالہ کے قریبی گاؤں بوپٹرہ کلاں کا رہائشی تھا۔ ناگی اپنے معاشقوں کی داستانیں سنایا کرتا تھا۔ جن میں میری دل چسپی نہ ہونے کے برابر تھی بلکہ مجھے اس سے سخت بے زاری ہوتی۔ اسی قبیلے سے تعلق رکھنے والا ہمارا ایک اکاؤنٹنٹ دلشاد بھی تھا۔ جو شیخوپورہ کا رہائشی تھا اور اس کے بقول شیخوپورہ کے تمام افسران کی بیویاں اس کی تلاش میں سرگرداں رہا کرتی تھیں۔ مجھے ایسے قصے کہانیوں سے گھن آتی۔
ایک دن دوپہر کو میس میں بیٹھے چائے رہے تھے کہ دلشاد نے اپنا من پسند موضوع چھیڑ دیا۔ اب مجھ سے رہا نہ گیا میں نے اُس سے کہا کہ تمہیں شرم نہیں آتی کہ ایک تو تم گناہ کا کام کرتے ہو اور اُوپر سے اس کی تشہیر بھی کرتے ہو۔ پھر میں نے اسے اس سے متعلقہ ایک حدیث مبارکہ بھی سنائی کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص زنا کرتا ہے اس کے ساتھ لازمی زنا کیا جائے گا۔ لوگوں نے پوچھا، کہ حضور اگر اس شخص کی بیٹی، بہن اور بیوی نہ ہو تو پھر بھی۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ خدا کی قسم اس کے گھر کی دیواروں کے ساتھ زنا کیا جائے گا۔ وہاں پر منیجمنٹ سے متعلقہ تین چار اور لوگ بھی موجود تھے۔ وہ سب دم سادھے خاموشی سے سنتے رہے۔ اس وقت میری عمر بیس سال کے لگ بھگ تھی اور میرا خیال تھا کہ عزت، عفت، عصمت صرف خاتون کے ساتھ ہی وابستہ نہیں ہے بلکہ مرد کو بھی ایک خاتون کی طرح اپنی عزت، اور عصمت کی حفاظت کرنا چاہیے۔
بہرحال اس واقعے کا مجھے ایک فائدہ تو ہوا کہ یہ لوگ میرے سامنے اس قسم کے فضول قصے کہانیاں سنانے سے گریز کرنے لگے۔ ایک بار ہم چھ نوجوان ٹرینی افسران کا لاہور جاکر فلم دیکھنے کا پروگرام بن گیا۔ آفس ویگن کا پتہ کروایا لیکن وہ موجود نہیں تھی۔ چار و ناچار ہم لوگوں نے بس پر جانے کا پروگرام بنا لیا۔ لاہور جانے والی بس میں سوار ہوئے ہمارے ساتھ رنگ محل کا ایک نوجوان کیمسٹ ظہیر بھی تھا۔ جو نہایت شرارتی اور چنچل تھا۔ بس میں بیٹھنے کے لیے سیٹ نہ ملی تو ہم لوگ کھڑے رہے۔ وہیں پر خواتین بھی موجود تھیں۔ ظہیر نے اپنے پاس کھڑی ہوئی ایک خاتون کو چھیڑا تو اس نے اُسے ایک زوردار تھپڑ اس طرح رسید کیا کہ اس کی گونج پوری بس میں سنائی دی۔ جواب آں غزل کے طور پر ظہیر نے بھی اُسے تھپڑ جڑ دیا۔ اب تو پوری بس میں شور مچ گیا۔ سبھی لوگ نہ صرف ظہیر بلکہ ہم سبھی لوگوں کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ غنڈے بد معاش اور نامعلوم کون کون سے ناموں سے پکار رہے تھے۔ ڈرائیور نے بس روک دی اور ہمیں بس سے اُتر جانے کو کہا، لیکن اس موقع پر ہم لوگوں کی مت ماری گئی کہ ہم نے نیچے اُترنے سے انکار کر دیا۔ کنڈکٹر نے ڈرائیور کے کان میں کچھ کھسر پھسر سی کی اور اس نے بس چلا دی۔ جونہی بس دوبارہ حرکت میں آئی تو مجھے حالات کی سنگینی کا احساس ہو گیا اور میں نے اپنے گروپ سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
سب سے پہلا کام میں نے یہ کیا کہ میری قمیض جو کہ پتلون کے اندر تھی۔ اس کو نکال کہ پتلون کے اوپر کر لیا اور اس طرح میں نے پتلون کو پاجامے کی شکل دے دی۔ اس کے بعد میں وہاں سے کھسک کر سب سے پچھلی سیٹ کے قریب آ گیا۔ بلکہ وہاں پر تھوڑی سی جگہ بنا کر نہایت مستعدی کے ساتھ بیٹھ گیا۔ ڈرائیور نے شاہدرہ تھا نے کے مین گیٹ کے بالکل سامنے جاکر بس روک دی اور وہاں پر کھڑے ہوئے پولیس اہل کاروں کو بس میں ہونے والی غنڈہ گردی کے بارے میں بتانے لگا۔ میں اسی اثناء میں گیٹ سے نیچے تھا اور آرام آرام سے چلتے ہوئے ایک گلی میں گھس گیا اور سیدھا چلتا ہی گیا۔ بس ڈرائیور کی رپورٹ پر بس میں موجود پانچوں نوجوان افسروں کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا گیا۔
ظہیر کے والد بابا فیاض اسی مل میں مکینکل انجنیئرتھے۔ میں وہاں سے سیدھا واپس مل پہنچا اور بابا جی کو ساری صورتِ حال سے آگاہ کیا۔ اگلے دن پولیس نے ان لوگوں کو عدالت میں پیش کر کے اُن کا ریمانڈ لینا تھا۔ میں بھی تھانے پہنچ کر اُن لوگوں سے ملا تو وہ میرے اس طرح بس سے رفوچکر ہو جانے سے ناراض ہونے کی بجائے خوش تھے کیوں کہ میں نے بر وقت ساری صورت حال کے بارے میں اطلاع کر دی تھی اور آج اُن کی ضمانتوں کا بندوبست ہو گیا تھا۔
انہی لوگوں میں شاہدرہ کا رہائشی اکرام بھی موجو دتھا۔ جو نہ صرف شادی شدہ بلکہ دو بچوں کا باپ بھی تھا۔ وہ اپنی اس تذلیل او ر بے عزتی پر باقاعدہ رو رہا تھا کہ میں اپنے گھر والوں کو کیا بتاؤں گا کہ میں کس جرم میں حوالات میں بند ہوا تھا۔ بہرحال ضمانت تو ان لوگوں کی اسی دن ہو گئی لیکن سالوں تک وہ اس کیس کی تاریخیں بھگتتے رہے۔
ہمیں یہاں پر کام کرتے ہوئے سال ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔ میرے ساتھیوں نے اپنے اپنے شعبے کے متعلق کافی کچھ جان لیا تھا لیکن میں ہنوز کورے کا کورا ہی تھا۔ بلکہ میں بڑی سنجیدگی کے ساتھ اس حقیقت کو محسوس کر رہا تھا کہ یہ شعبہ میرے لیے موزوں نہیں ہے۔ ایک تو میرا ذہن تکنیکی موشگافیوں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ اس قدر تجربے کے باوجود میں ابھی تک یہی نہیں جان سکا تھا کہ تمام والو اور سکریر گھڑی دار سمت میں کھلتے ہیں یا بند ہوتے ہیں۔ میرے ساتھی چلتی ہوئی موٹروں کو دیکھ کر تو ایک نظر میں ہی تبصرہ کر دیتے کہ اس کی شافٹ ڈھیلی ہے۔ اس کے پنکھے میں جھول ہے اس کے چکر کم ہیں لیکن مجھے ان باریکیوں کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا اور دوسرے میرے منیجمنٹ کے ساتھ تعلقات بھی کچھ ایسے بہتر نہ تھے۔ میں اگر کسی معاملے میں اپنے آپ کو درست سمجھتا تھا تو میں اپنی رائے کے برعکس اپنے کسی بھی سینئر کی رائے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا۔ اُن سے باقاعدہ بحث کرتا اور انہیں غلط ثابت کرنے کی کوشش بھی کرتا۔ اکثر اس میں کامیاب بھی ہو جاتا لیکن میرے افسر میری اس عادت پر مجھ سے شاکی نظر آیا کرتے تھے۔ اسی دوران بلا کسی عذر اور غلطی کے ہمارے پروڈکشن منیجر اسماعیل صاحب کو ملازمت سے اچانک ہی برخواست کر دیا گیا۔
وہ بہت بھلے آدمی تھے۔ اپنے شعبے میں مہارت رکھنے والے کم گو اور سنجیدہ انسان تھے جن کا رویہ اپنے ماتحتوں کے ساتھ مشفقانہ اور ہمدردانہ ہوا کرتا تھا۔ اُن کو اس طرح نکالے جانے پر مجھے بہت افسوس ہوا۔ ایک ڈیڑھ ماہ کے بعد میں اور بشیر شاہین ان سے ملنے کے لیے اُن کے گھر گئے۔ وہ شاہدرہ میں ایک چھوٹے سے گھر میں رہائش پذیر تھے۔ چالیس پینتالیس سال کے ایک عیال دار شخص تھے اور اپنی اس بے روزگاری کو لے کر سخت پریشان تھے۔ وہ تو ہمیں حصول ملازمت کے لیے اپنی طرف سے کی جانے والی کوششوں کا بتا رہے تھے اور میں اُن کی ذات میں اپنے مستقبل کو دیکھ رہا تھا۔
میں زندگی میں پہلی بار اپنے پیشے کو تبدیل کرنے کے لیے سنجیدگی سے سوچ رہا تھا۔ میں بار بار اپنی ذات کو اسماعیل صاحب کی جگہ پر رکھ کر اُن کی پریشانیوں اور تکالیف کو محسوس کر رہا تھا۔ جو ایسی حالت میں اُنہیں درپیش تھیں۔ قصہ مختصر یہ کہ واپس آتے ہوئے میں نے اپنی ملازمت کے شعبے کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے اپنے مستقبل کے بارے میں منصوبہ بنایا کہ اس سال لاہور میں ہی کسی کالج یا یونیورسٹی میں داخلہ لے کر ایم ایس سی کروں گا اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی ملازمت بھی جاری رکھوں گا۔ کیوں کہ ہم لوگ مارننگ، ایوننگ اور نائٹ باری باری سبھی شفٹوں میں ڈیوٹی کیا کرتے تھے۔ اس لیے ایسا ممکن تھا کہ مستقل طور پر نائٹ شفٹ لے کر رات کو یہاں پر نوکری کی جائے اور دن کو کالج یا یونیورسٹی میں جایا جائے۔ اس سلسلے میں فزکس کا مضمون ہی واحد مضمون تھا۔ جس میں ایم ایس سی کی جا سکتی تھی۔ کیوں کہ اسی مضمون میں میری سیکنڈ ڈویژن تھی۔ بہرحال داخلے شروع ہونے پر میں نے پنجاب یونیورسٹی، گورنمنٹ کالج اور سپیرئیر سائنس کالج سے داخلہ کے لیے رجوع کیا۔ پنجاب یونیورسٹی نے تو ہمیں پہلے دن ہی دوٹوک جواب دے ڈالا کیوں کہ وہاں پر نیا نیا سمیسٹر سسٹم رائج کیا جا رہا تھا اور یہاں پر صرف فریش سٹوڈنٹس کو داخلہ دیا جا رہا تھا۔ جب کہ میں نے دو سال پہلے بی ایس سی کا امتحان پاس کیا تھا۔
اس لیے پنجاب یونیورسٹی نے ہم جیسے باسی طالب علم کا داخلہ کیس لینے سے ہی صاف انکار کر دیا۔ اب گورنمنٹ کالج لاہور اور سپیریر سائنس کالج دونوں میں ہی داخلے کے لئے درخواست گزار دی لیکن وہاں سے بھی ہماری تعلیمی قابلیت کی پیشانی پر تھرڈ ڈویژن کے لگے ہوئے سیاہ داغ کی بدولت صاف انکار ہو گیا۔ اسی دوران گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن فار مین لوئر مال میں بی ایڈ میں داخلے کا اشتہار آ گیا۔ دیہی پس منظر ہونے کے حوالے سے یہ پروفیشن میرے لیے گوارا بھی نہیں تھا لیکن اب مستقبل میں میں نے مل میں ملازمت کرنے پر اس پیشے کو ترجیح دی اور یہاں پر داخلہ حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ میرا خیال ہے کہ یہی میری زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ تھا جو مجھ سے جانے ان جانے میں درست ہو گیا تھا۔ کیوں کہ یہی ایک ایسا واحد شعبہ تھا۔ جس نے مجھے نہ صرف اپنی تمام تر نالائقیوں، خامیوں، کوتاہیوں اور کج ادائیوں کے ساتھ قبول کر لیا بلکہ پوری عمران کی پردہ پوشی بھی کیے رکھی۔
اب حصول داخلہ کے لیے متعلقہ کالج سے رجوع کیا تو علم ہوا کہ یہاں پر داخلے کے لیے صرف لاہور کے باسیوں کو ہی ترجیح دی جاتی ہے اور غیر لاہوریوں کے لئے بہت ہی کم سیٹیں رکھی گئی ہیں۔ میں چوں کہ غیر لاہوری بھی تھا اور تعلیمی قابلیت کے ضمن میں بھی میں تہی دامنی بلکہ کسی حد تک دریدہ دامنی کی حالت میں تھا۔ اس لیے ایسی صورتِ حال میں داخلہ ملتا کافی مشکل نظر آ رہا تھا۔ صورتِ حال کی سنگینی کے پیشِ نظر میں نے سینگ کٹوا کر لاہوریوں میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
اس کام کے لیے لاہور کا ڈومیسائل درکار تھا۔ اس زمانے میں قانون یہ تھا کہ جس جگہ پر آپ کا قیام دو سال سے زائد ہو۔ آپ وہاں کا ڈومیسائل بنوا سکتے ہیں۔ جب کہ لاہور میں میرے قیام کا دورانیہ تقریباً اڑھائی تین سال کے قریب ہو چکا تھا۔ معلومات حاصل کرنے پر پتہ چلا کہ ڈومیسائل ضلع کچہری سے بنے گا۔ وہیں سے ہی فارم ملے گا جسے پُر کر کے اس کے ساتھ متعلقہ دستاویزات لگا کر اوتھ کمشنر سے تصدیق کروا کے ڈی سی آفس میں جمع کروایا جائے گا۔ جہاں سے ایک ہفتے کے بعد ڈومیسائل بن جائے گا۔ اس طریقہ کار میں باقی سب باتیں تو ٹھیک تھیں لیکن اوتھ کمشنر سے تصدیق کروانے والا کام مجھے خاصا دشوار نظر آ رہا تھا۔ کیوں کہ میں اوتھ کمشنر کو اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کے قبیلے کا ہی فرد قیاس کر رہا تھا لیکن میرے گائیڈ نے وضاحت کی کہ جب تم کچہری میں داخل ہو گے تو وہاں پر جگہ جگہ ٹوٹی پھوٹی میز کرسیوں پر بیٹھے ہوئے اوتھ کمشنر کو دیکھ کر تمہارے تمام خدشات دور ہو جائیں گے۔ بس انہیں چالیس پچاس روپے دے دینا وہ آپ کے سارے کاغذات کی تصدیق کریں گے۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ اس دن رمضان کا پہلا روزہ تھا جب میں ڈومیسائل بنوانے کے لئے کچہری گیا۔ میرے ذہن میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ اوتھ کمشنر کو تصدیق کے لیے دیے جانے والے پیسے رشوت کی مد میں آتے ہیں۔ فیس کی مد میں نہیں کیوں کہ مجھے اس بات کا علم نہیں تھا کہ یہ لوگ وکلاء کے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور وکلاء ہر کیس کی الگ سے فیس لیتے ہیں۔ اس لیے میں نے اوتھ کمشنر کو اس کی فیس دیے بغیر ہی کاغذات کی تصدیق کروانے کا فیصلہ کر لیا۔
میں پتلون قمیض میں ملبوس باؤ بنا ہوا تھا۔ اس دور میں یہ پہناوا عموماً کالج یا یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس کا خیال کیا جاتا تھا اور دفاتر اور تعلیمی اداروں میں ان لوگوں کو عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ میں نے بھی اسی حلیے میں کچہریوں سے فارم لے کر اس کے ساتھ متعلقہ دستاویزات لگا کر ڈومیسائل بنوانے کے لیے فائل تیار کر لی اور یہی فائل لے کر میں نے وہاں پر ایک چھپر کے نیچے بیٹھے ہوئے ایک اوتھ کمشنر کے سامنے بیٹھ کر اسے اپنی فائل پیش کر دی۔ اس نے پہلے غور سے میری طرف دیکھا پھر فائل کی طرف دیکھا۔ سر کھجایا، قلم کو دانتوں تلے دبا کر کچھ دیر سوچ بچار کی اس کے بعد فائل کھول کر متعلقہ جگہوں پر سائن کر کے وہاں پر ٹھک ٹھک کر کے مہریں لگا دیں اور فارم میرے حوالے کر دیا۔ میں نے نہایت احترام سے اُٹھ کر اُن سے مصافحہ کیا۔ شائستگی کے ساتھ اُن کا شکریہ ادا کیا اور فائل اٹھا کر واپسی کے لیے مڑا وہ میرے اس رویے پہ مجھے نہایت حیرانی سے دیکھ رہا تھا۔ مجھے یوں ہی نکلتے ہوئے دیکھ کر وہ بولا کہ فیس، تو میں نے اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا کہ وکیل صاحب آج یکم رمضان ہے اور میں روزے کی حالت میں ہوں اور ایسی حالت میں میں رشوت دینے کا گناہ نہیں کر سکتا اور آپ کے لیے بھی یہی بہتر ہے کہ آپ بھی اس برے کام سے اجتناب ہی کریں۔
یہ سنتے ہی اس کا منہ پھول گیا اور وہ اسی حالت میں بولا اسی لیے ہم مک مکا کیے بغیر کسی کا کام نہیں کرتے لیکن آپ کو شریف آدمی سمجھتے ہوئے ایسا کر ہی دیا ہے۔ تو آپ اب ایسے تو نہ کریں۔ اب میں نے اپنی شرافت کا بھرم رکھنے کے لئے پرس سے دس دس روپے کے دو نوٹ نکال کر اس کی خدمت میں پیش کر دیے۔ جو اس نے نہایت خاموشی سے اُٹھا کر اپنی جیب میں ڈال لیے۔ ڈومیسائل بنوانے کے بعد جب میں بی ایڈ میں داخل ہونے کے لیے کالج میں گیا تو وہاں پر میرا استقبال چشم ما روشن، دل ما شاد، وہ آئیں ہمارے گھر میں خدا کی قدرت ہے اور کیڑی کے گھر نارائن آئے جیسے استقبالی فقرات کے ساتھ نہایت عزت و احترام سے کیا گیا اور اُن کی عزت افزائی کے صلے میں مجھے یہاں پر داخلے کے ساتھ ساتھ سکالر شپ بھی دیا گیا۔ کیوں کہ سائنس طلباء کا بی ایڈ کی طرف رجحان بہت کم تھا اور سکولوں میں سائنس ٹیچرز کی بہت کمی ہوا کرتی تھی۔ اس لیے بی ایڈ میں داخلہ لینے والے ہر سائنس سٹوڈنٹ کو اُن کی حوصلہ افزائی کے لیے سکالر شپ دیا جاتا تھا۔


