درسی کتابیں، امتحان اور داخلہ مہم
سندھ میں نیا تعلیمی سال اپریل کے مہینے سے شروع ہو چکا ہے مگر بچوں کو نئے کتابیں نہیں مل سکیں، اور امید بھی نہیں تھی کہ بچوں کو اس سال کوئی نئی کتابیں وقت پر مل پائیں گی۔ سوشل میڈیا پر کسی دوست نے پچھلے سال پوسٹ کی تھی کہ اگلے سال بچوں کو نئی کتابیں مل جائیں گی، میں نے وہاں بھی اس دوست کو جواب دیا تھا کہ اگلے سال بھی نہیں ملیں گی اور میں اب بھی کہتا ہوں کہ 2026 میں بھی سندھ کے بچوں کو نئی درسی کتابیں وقت پر نہیں مل سکیں گی۔ کیونکہ جو دوست تعلیمی پالیسی اداروں میں کام کرتے ہیں انہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں کام کیسے ہوتا ہے۔
وقت پر کتابیں ملنے کے لئے تعلیم کے محکمے کو پورا سال پہلے تیاری کرنی چاہیے، جو کہ سندھ کے تعلیمی ادارے میں رواج نہیں ہے۔ کتابوں کی چھپائی کا مرحلہ انتہائی تھکا دینے والا اور وقت طلب کام ہے۔ سب سے پہلے تو جو سالانہ اسکولوں کی سینسز ہوتی ہے اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ہر اسکول میں بچے کتنے ہیں مگر ہمارے یہاں سندھ میں ابھی تک سالانہ گنتی درست نہیں ہو پائی ہے۔ جو لوگ سالانہ گنتی کرتے ہیں ان کا خاصا بجٹ ہوتا ہے مگر ساری گنتی موبائلوں پر ڈیٹا لے کر کی جاتی ہے، اسکولوں کا وزٹ کر کے حقیقی رپورٹ تیار نہیں کی جاتی، اندازوں پر کام چلایا جاتا ہے، کہیں 10 فیصد کہیں پر 5 فیصد بچے بڑھا کر رپورٹ تیار کر کے جمع کر دی جاتی ہے، اور بجٹ کچھ لوگوں کی جیب میں چلا جاتا ہے۔ تو جب تک بچوں کی حقیقی سالانہ گنتی نہیں کی جائے گی، یہ کیسے پتہ چلے گا کہ اسکولوں میں بچے کتنے ہیں اور کتنی کتابوں کی چھپائی کی جائے۔
دوسرا بڑا مرحلہ ہے سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کا جو کتابوں کی چھپائی کرتا ہے، جو اکثر انتشار کا شکار رہتا ہے، کیونکہ وہاں ملنے والی رقم ایمانداری سے سب کو نہیں ملتی۔ اگر چیئرمین کے اچھے تعلقات ہیں تو انہیں کام وقت پر مل جاتا ہے، اور اگر کسی کا چیئرمین سے تعلق بہتر نہیں ہے تو پھر کام میں دیر ہوتی ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ چیئرمین کی تبدیلی کی جائے اور پھر کام شروع ہو۔ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ والوں کے پاس پرنٹنگ کی مشینیں موجود ہیں مگر پھر بھی کتابیں چھاپنے کے لیے پرائیویٹ ٹھیکیداروں کو ٹھیکہ دیا جاتا ہے، اکثر ان میں اپنی مرضی کے ٹھیکیدار بھی ہوتے ہیں جو خاص کمیشن پر کام کرتے ہیں اور اس لیے انہیں اتنی جلدی نہیں ہوتی کہ کتابیں وقت پر دیں، کیونکہ ان کے ادارے سے انڈرسٹینڈنگ ہوتی ہے کہ کب کتابیں ملیں گی۔
یہ وہ اہم وجوہات ہیں جن کی وجہ سے کتابوں کی چھپائی میں دیر ہوتی ہے، مگر کبھی کبھار فنانس ڈیپارٹمنٹ بجٹ بھی دیر سے ریلیز کرتا ہے تاکہ کتابیں چھپائی جا سکیں اور اس وجہ سے بھی اکثر دیر ہو جاتی ہے۔ دوسرا اہم مرحلہ کتابوں کی اسکولوں تک فراہمی کا ہے جو کبھی بھی وقت پر نہیں ہو سکی، نہ ریجن میں کتابیں وقت پر آتی ہیں نہ ضلع یا تعلقہ ہیڈکوارٹرز پر کتابیں پہنچتی ہیں، اس کا صرف ایک سبب ہے اور وہ ہے تعلیم کے محکمے کی بدانتظامی۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ درسی کتابیں اسکولوں میں بچوں کی سالانہ گنتی کے مطابق ہونی چاہئیں مگر کچھ سالوں سے اسکولوں میں 30 سے 40 فیصد کتابیں کم دی جاتی ہیں اور اتنا کہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے اسکولوں میں 20 فیصد تک مشکل سے کتابیں دی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے اسکولوں میں سارا تعلیمی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، مگر حکومت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں، کیونکہ تعلیم حکمرانوں کی ترجیح ہی نہیں۔
درسی کتابوں کے حوالے سے ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ وزیر تعلیم کافی سالوں سے کہتے آرہے ہیں کہ ہندو بچوں کو اسلامیات اور عربی نہ پڑھائی جائے، اور اس نے کہا تھا کہ ہم اسکولوں میں گیتا پڑھائیں گے، جن کی وجہ سے وزیر صاحب کو داد بھی ملی، مگر آج بھی اسکولوں میں زبردستی اسلامیات اور عربی پڑھائی جا رہی ہے، جو غیر مسلم بچوں کے لیے بوجھ ہے، جو کہ ختم ہونا چاہیے۔
ایک تعلیمی ماہر نے بہترین تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ”ہم مسلمانوں کو اخلاقیات پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے اسلامیات کافی ہے مگر اگر غیر مسلم اخلاقیات پڑھنا چاہتے ہیں تو ان کو کیوں نہیں پڑھایا جاتا؟“
اسکولوں کو یہ ہدایات بھی دی گئی ہیں کہ اسکولوں میں بک بینک قائم کریں اور پرانی کتابیں اسکولوں میں جمع کریں اور نئے بچوں کو دیں۔ یہ خیال اچھا ہے مگر اس میں بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بچوں کی کتابیں سالوں کے بعد پھٹ جاتی ہیں اور بگڑ جاتی ہیں، نئی کتاب بچوں کے لیے ایک موٹیویشن ہوتی ہے، وہاں اگر پرانی کتاب دی جائے تو بچہ اس شوق سے نہیں پڑھے گا، ہاں جہاں کتابیں نئی ہیں، وہاں انہیں ضرور استعمال کیا جانا چاہیے۔
اس مضمون میں تھوڑی شکایت ڈکار والوں سے بھی کی جائے جو کتاب کا مواد تیار کرتے ہیں، کئی درسی کتابوں میں بہت بڑی غلطیاں ہیں جنہیں دور کرنا چاہیے اور اس کے علاوہ سندھ کے تاریخی کرداروں کے بارے میں غلط بیانی کی گئی ہے، جسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ سندھ کے عظیم کردار جو انسانیت کی خدمت کرتے رہے ہیں، ان کا کردار کم کر کے مسلمانوں تک محدود کیا گیا ہے۔ جیسے حسن علی آفندی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کی تعلیم کے لیے بڑا کام کیا، کیا اس وقت سندھ میں ہندو نہیں رہتے تھے اور کیا ان کے تعلیمی ادارے میں ہندو بچے نہیں پڑھتے تھے اور اس وقت تو سندھ میں بڑی تعداد میں ہندو رہتے تھے؟ اس کے علاوہ اگر دیکھا جائے تو عثمان ڈیپلائی جیسے فقیر منش انسان کو مسلمانوں کی خدمت تک محدود کیا گیا ہے، جب کہ ان کا تعلق تھر سے تھا جہاں 60 فیصد امن پسند ہندو رہتے ہیں۔ سندھ کا ایک اور کردار رئیس غلام محمد خان بھرگڑی ہے، جن کا تعلق میرے تعلقہ جیمس آباد سے تھا، جو بعد میں کوٹ غلام محمد کے نام سے منسوب کیا گیا، ان کے لیے بھی کچھ ایسی باتیں کی گئی ہیں کہ انہوں نے مسلمانوں کی بڑی خدمت کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تمام شخصیات انسان دوست تھیں اور انہوں نے انسانوں کی خدمت کی، اس لیے ان کا کردار مسلمانوں تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔
اس دفعہ آٹھویں درجے تک اسکولوں میں امتحان نہیں لیے گئے، وجہ نہیں معلوم، حالانکہ اسکولوں کو ہدایات دی گئی تھیں کہ جو بچے امتحان میں آئیں، انہیں کسی بھی صورت میں پاس کیا جائے۔ ایک استاد نے بتایا کہ ہم کاپیاں بھی نہیں چیک کرتے اور نمبر باٹا ریٹ کے حساب سے دیتے ہیں۔ جب بچے فیل نہیں ہونے ہیں اور نمبر بھی دینے ہیں، تو پھر امتحان کے لیے خرچہ کیوں کیا جا رہا ہے؟ ایسے ہی درجہ بدل دیا کریں۔ پہلے بچوں کی پوزیشنیں آتی تھیں جن سے بچوں کو خوشی ہوتی تھی اور پڑھنے کا شوق بڑھتا تھا۔ میں نے اپنے اسکول میں میٹرک میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی تھی، مجھے تین دن خوشی سے نیند نہیں آئی تھی اور اس خوشی سے میں نے کالج میں داخلہ لیا تھا اور اب بچوں کے ساتھ کیا ظلم ہو رہا ہے؟ امتحان سے پہلے بچوں کو پتا ہوتا ہے کہ وہ پاس ہو جائیں گے، تو پھر بچوں میں محنت اور پڑھائی کا شوق کیسے پیدا ہو گا؟
یہ وقت ہے اسکولوں میں داخلہ مہم کا، تاکہ نئے بچے اسکولوں میں داخل ہوں اور انہیں مکمل سکیم آف اسٹڈی پڑھائی جا سکے، مگر تعلیم کا محکمے داخلہ مہم دسمبر میں شروع کرتا ہے جب بچے سارا نصاب پڑھ چکے ہوتے ہیں اور نئے بچے کوئی کتاب نہیں پڑھ پاتے، جس سے ان کا شوق ختم ہو جاتا ہے اور وہ ڈراپ آؤٹ ہو جاتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ داخلہ مہم جلد سے جلد شروع کریں تاکہ نئے اور پرانے بچے بہتر طریقے سے تعلیم حاصل کر سکیں۔


