جرمن سیاسی جماعت، اے ایف ڈی کی موجودہ پوزیشن
بندہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ جرمنی کی دائیں بازو کی، اے ایف ڈی (ترجمہ: جرمنی کے لئے متبادل) ایک سیاسی جماعت، جسے اس ہفتے کے پول کے مطابق چوبیس فیصد لوگ (تقریباً بیس ملین باشندے ) ووٹ دے سکتے ہیں، جرمنی کے وفاقی ادارے برائے تحفظ آئین کی طرف سے، ”انتہا پسند دائیں بازو مشتبہ کیس“ سے ایک درجہ بڑھا کر ”سو فیصد انتہا پسند دائیں بازو“ کی پوزیشن دی گئی ہے۔ جرمنی کے مختلف سیاسی دانشوروں اور صحافیوں کی طرف سے اس سیاسی جماعت پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا پے۔ پابندی، صرف، جرمنی کے شہر کارل زروئے میں واقع، وفاقی آئینی عدالت، نہایت پیچیدہ طریقہ کار کے بعد ہی لگا سکتی ہے۔
جرمنی میں نازی جماعت کے خاتمے کے بعد اس کی، این ڈی پی نامی فالواپ سیاسی جماعت پر پابندی لگانے کی بہت سی کوششیں ناکام ہو گئیں۔ دو ہزار تین میں، این پی ڈی جماعت کے ارکان، وفاقی ادارے برائے تحفظ آئین کے لئے کام کر رہے تھے اس لئے این ڈی پی پر پابندی کی درخواست رد ہو گئی۔ دو ہزار سترہ میں ان کی عوام میں اہمیت نہ ہونے کی وجہ سے، حکومتی رد عمل سامنے نہیں آیا اور درخواستی عمل بالکل ختم ہو گیا تھا تاہم اب اے ایف ڈی پر پابندی لگنے کے بعد ان کے ارکان نئے نام سے نئی سیاسی جماعت تشکیل دے سکتے ہیں۔
وفاقی ادارے برائے تحفظ آئین کے نزدیک، اے ایف ڈی کے منشور میں یہ جملہ کہ ”اسلام جرمنی کا حصہ نہیں ہے“ جو ہر موقع پر ان کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے دہرایا گیا، سب سے زیادہ قابلِ اعتراض ہے۔ اس کے علاوہ، دو ہزار پندرہ میں سابقہ جرمن چانسلر میرکل کے پناہ گزینوں کے حق میں دیے گئے بیانات کے بعد اے ایف ڈی نے غیر ملکی مخالف بیانیہ اپنایا۔
ہٹلر کے دور میں بھی ”جرمنی صرف جرمن قوم کے لئے ہے“ اور ”جرمن سب سے اعلیٰ ہیں“ ایسے نعروں سے نازی جماعت کو جرمن لوگوں میں پذیرائی ملی تھی۔
اے ایف ڈی کے منشور میں سرحدیں بند کرنے کا لکھا ہوا ہے۔ اور یہ کہ مہاجرین اور پناہ گزینوں کی آمد سے جرمن ثقافت کو خطرہ لاحق ہے اور جرمن ثقافت کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
اے ایف ڈی کا یورپین کرنسی اور یورپین یونین مخالف بیانیہ ہے۔ اور اس جماعت کا قیام بھی جرمنی کے ان اقدامات پر تنقید پر دو ہزار تیرہ میں عمل میں آیا تھا۔
ان کے منشور کے مطابق جرمنی کو یورپین یونین سے نکلنے پر غور کرنا چاہیے اور قومی خود مختاری کو بحال کرنا چائیے۔
اس کے علاوہ جہاں تمام دنیا میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی مناسبت سے مثبت اقدامات کیے جا رہے ہیں اے ایف ڈی موسمیاتی تبدیلیوں اور گرہن پالیسیوں کے خلاف بیانیہ رکھے ہوئے ہے۔
وفاقی ادارے برائے تحفظ آئین کے مطابق اے ایف ڈی کے منشور میں لکھے گئے جملے اور ان کی اعلیٰ قیادت اور ارکان کی طرف سے گاہے بگاہے دیے گئے بیانات جرمنی کے بنیادی قوانین کے خلاف ہیں۔ اس لئے اس جماعت کو فی الفور دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت تصور کیا جائے گا جس کی موجودگی جرمنی کی موجودہ جمہوریت کے لئے ایک خطرناک ترین عمل ہو سکتا ہے۔


