رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے
ماہ اپریل پھولوں رنگوں اور خوشبوؤں سے عبارت ہے۔ اپریل کی آخری تاریخ تھی جب ہم صبح سویرے پشاور روانہ ہوئے موٹروے پر دو رویہ سرسبز درختوں نے نظروں کو تراوٹ بخشی تو نگاہوں کے ساتھ ساتھ دل میں بھی مسرت کی لہر دوڑ گئی کہ آج دو سال بعد کسی ادبی محفل میں شریک ہونے جا رہی تھی، دل میں مسرت کے پھول یوں کھلے کہ سب سے پہلے مجھے گندھارا ہندکو اکیڈمی جانا تھا جہاں اس کے ڈائریکٹر محمد ضیاء الدین اسلام آباد سے آئے ہوئے تھے محمد ضیاء الدین نے ہی مجھے ہندکو لکھنے کی ترغیب دلائی، ان کے کہنے پر میں نے عراق کے سفر نامے کو اپنی مادری زبان ہندکو میں بھی لکھا جسے انہوں نے گندھارا ہندکو اکیڈمی کے تحت چھاپا آج اپنی کتاب کے حوالے سے میں ان کا شکریہ بھی ادا کرنے جا رہی تھی۔ میرا بیٹا محمد اسد اور پوتی بھی میرے ہمراہ تھے۔ ضیا نے پرجوش سواگت کیا۔ میں نے اسد کا تعارف کروایا کہ یہ خان کھوئی گورنمنٹ ڈگری کالج کا پرنسپل ہے تو ضیاء کافی دیر تک اسد کے ساتھ بات چیت کرتے رہے، چائے پی، علی اویس نے ان لمحات کو کیمرے میں محفوظ کیا اور ہم نے ان سے اجازت چاہی، بھائی کے گھر آ کر تھوڑا سا آرام کیا اور پھر اکیڈمی ادبیات جانے کے لیے تیار ہوئے۔
پونے دو بجے اکیڈمی ادبیات پہنچے جہاں دو روزہ صوبائی کانفرنس اکیڈمی ادبیات کی چیئر پرسن نجیبہ عارف صاحبہ کی زیرِ نگرانی ہو رہی تھی۔ پہلے دن کے شاندار افتتاحی اجلاس میں بوجوہ شریک نہ ہو سکی۔
آج دو روزہ کانفرنس کے دوسرے روز اکیڈمی ادبیات پشاور میں صوبے بھر سے ادباء و شعراء جوق در جوق شامل تھے۔ شعر و ادب سے جڑے یہ لوگ رنگوں، خوشبو اور اجالوں کا استعارہ ہوتے ہیں جن کی سوچ کے دیپ اور لفظوں کی خوشبو صدیوں دل و دماغ کو معطر رکھتی ہے جن کی سوچ اور فکر کے اجیارے قوموں کی تقدیر بدلتے ہیں اور آج یہاں صوبے بھر کے خوبصورت ذہن شامل تھے۔ رنگوں اور خوشبوؤں کی بات مجازی اور حقیقی دونوں معنوں میں تھی کہ مرد حضرات کے ساتھ ساتھ خواتین بھی ہال میں موجود تھیں کہ جن کے ہونے سے تصویرِ کائنات میں رنگ بھرے رہتے ہیں۔
نجیبہ عارفہ کے یوں تو علمی و ادبی کافی کام ہیں لیکن ان کا سب سے اہم اور شاندار کام ”نواح کاظمہ“ ہے جس میں انہوں نے قصیدہ بردہ شریف کو منظوم کیا ہے اور کیا ہی خوب کیا۔ اس قصیدے کی خوشبو اس کے اثرات صدیوں پر محیط ہیں۔ اس عربی قصیدے کو اردو میں منظوم کرنا آسان نہ تھا۔ ایسے کام توفیقِ الٰہی سے انجام پاتے ہیں کہ
ایں سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشند خدائے بخشندہ
اکیڈمی کے اندر داخل ہوئے تو سامنے ہی روبینہ شاہین نظر آئیں انہیں دیکھ کر دل شاد ہو گیا ان کی چمکتی دمکتی رنگت میں باطن کا حسن بھی شامل ہے کہ دیکھ کر گل تر کا خیال آتا ہے فوراً ہی انہوں نے آگے بڑھ کر گاڑی کا دروازہ کھولا اور مجھے اترنے میں مدد دی۔ میرے بھتیجے نے کہا پھپھو واپسی کے لیے فون کر دینا۔ روبینہ نے فوراً کہا، نہیں نہیں بے فکر ہو جائیں میں خود ہی انہیں گھر چھوڑ دوں گی۔ پھر میرا ہاتھ پکڑ کر ہال میں داخل ہوئیں۔ سامنے ہی کاروانِ حوا کی ہماری ساتھی شاہدہ اور ناز بیٹھی تھیں جو مجھے دیکھ کے میرے پاس آئیں اور خوشی کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر سیما بھی موجود تھی ان سب نے مجھے اوپر چڑھنے میں مدد دی شکر ہے کرسی اونچی اور آرام دہ تھی۔ سب لوگ کھانا کھانے چلے گئے۔ سیما کا سیشن ختم ہو گیا تھا وہ جانا چاہ رہی تھی، پر میں نے اسے روک لیا اور میرے کہنے پر وہ رک گئی تھوڑی دیر بعد ہمارے لیے ادھر ہی کھانا لے آئے سیما کے ساتھ گپ شپ لگتی رہی اتنے میں ڈاکٹر فصیح الدین نظر آئے، پاس آئے حال احوال پوچھا۔ میں نے انہیں اپنا سفر نامہ کھلی آنکھوں کا خواب پیش کیا، کھانے کے بعد ناز اور شاہدہ نے اجازت چاہی، معذرت کی کہ وہ صبح سے آئی ہوئی تھیں مزید رک نہیں سکتیں۔ میں نے کہا کوئی بات نہیں، تھوڑی دیر بعد روبینہ شاہین آئیں اور کھانے کی بابت پوچھنے لگیں کہ میں نے بھجوایا تھا، میں نے کہا جی جی لے آئے تھے۔ وہ نجیبہ عارفہ صاحبہ کے پاس جاکر بیٹھ گئیں میرے لئے اٹھنا مشکل تھا تو نجیبہ عارفہ صاحبہ کو میری نشست کے پاس لے آئیں، میں نے انہیں اپنا سفر نامہ ”کھلی آنکھوں کا خواب“ دیا۔ اس منظر کو سیما نے اپنے کیمرے میں محفوظ کیا۔ سیما تصویر بنانے لگی تو انہوں نے بڑے پیار سے میری پوتی خدیجہ کو بھی تصویر کے لیے بلا لیا اور بڑے پیار سے اپنے ساتھ لپٹا کر تصویر بنوائی، بڑے لوگ ویسے ہی بڑے نہیں ہوتے ان کے بالا قد ہونے اور اعلیٰ منصب پر متمکن ہونے میں ان کی انکساری اور اعلیٰ اخلاق کا بھی عمل دخل ہوتا ہے۔ نجیبہ عارفہ صاحبہ نے جب سے اس منصب کو سنبھالا ہے وہ مسلسل بڑے خلوص اور بے غرضی کے ساتھ ادب و ادیبوں کی بہتری کے لیے قابل تحسین کام کر رہی ہیں۔ جنہیں پورے ملک کے ادیب اور شعرا سراہا اور تسلیم کر رہے ہیں۔ مردوں کے اس معاشرے میں پہلی دفعہ کسی خاتون کا اس اہم منصب پر ہونا اور کامیاب ہونا ہم سب خواتین کے لیے قابلِ فخر ہے۔
اکیڈمی ادبیات پشاور کے گلزار جلال صاحب کی تعریف سن رکھی تھی، انہیں تعریف سے بڑھ کے پایا سادہ اور منکسرالمزاج گلزار صاحب کو بھی اپنا سفر نامہ پیش کیا۔
تھوڑی دیر میں سیشن شروع ہو گیا۔ اس کے شرکا میں اور لوگوں کے علاوہ ڈاکٹر فصیح الدین اور روبینہ شاہین بھی شامل تھے۔ آج کا موضوع تھا غیر افسانوی ادب اور ادب اطفال، شرکا نے ادب اطفال پر سیر حاصل گفتگو کی اتنی طویل اور مفصل کہ غیر افسانوی ادب پر بات کرنے کے لیے وقت ہی نہیں بچا اور یہ ساری گفتگو ادب اطفال کے موضوع کے گرد ہی گھومتی رہی تمام شرکاء کے بعد میڈم روبینہ نے مختصر، جامع خطاب کیا اور اس موضوع پہ اٹھائے جانے سوالات کے جواب دینے کے علاوہ انہوں نے آخر میں چیئر پرسن کی پشاور آمد اور ناسازیٔ طبع کے باوجود ہر سیشن میں شامل رہنے اور ان کی ذاتی توجہ سے بہترین یادگار تقاریب منعقد کروانے پر ان کے کاموں کی تحسین کی اور حاضرین کو یقین دلایا کہ وہ اگر وعدہ کریں گی تو ہرحال میں پورا کریں گی پھر انہوں نے اپنی طرف سے اور تمام شرکاء کی جانب سے ان کا شکریہ ادا کیا اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ گروپ فوٹو کے بعد اگلا سیشن مادری زبانوں کے حوالے سے تھا جس میں گندھارا ہندکو اکیڈمی کے ڈائریکٹر محمد ضیاء الدین بھی شامل تھے جنہوں نے ہندکو کی ترقی اور ترویج کے لیے اکیڈمی کی کوششوں اور کاموں کی تفصیل سے آگاہ کیا، اور دعوت دی کہ وہ اکیڈمی کا دورہ کریں اور اپنی آنکھوں سے ادارے کی کار کردگی ملاحظہ کریں جنہوں نے اپنے محدود وسائل میں رہ کر 500 کتابیں شائع کی ہیں۔ اس سیشن کے دوران کاروان حوا کی چیئر پرسن بشریٰ فرخ اور ثمینہ قادر بھی تشریف لے آئیں۔ روبینہ شاہین میرے پاس آ کر بیٹھیں تو حسب ِمعمول اپنے موبائل سے سیلفی لی، میں نے چپکے سے کہا یہ تمہارے جادوئی کیمرے کا کمال ہے یا تمہاری سحر انگیز شخصیت کی کرنوں کا کہ تصویر کا سندر روپ من کو بھاتا ہے۔ وہ مسکرا دیں۔
اگلا سیشن ڈرامے کے حوالے سے تھا، اٹھنے کو دل تو نہیں چاہ رہا تھا لیکن مجھے واپس رسالپور جانا تھا میں بری طرح تھک گئی تھی۔ ڈاکٹر کی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے، دو گھنٹے مسلسل بیٹھنے کے بعد اٹھنا چاہا تو نہ اٹھ سکی روبینہ شاہین تو پہلے ہی میرا بازو تھامے سہارا دیے ہوئے تھیں، بندہ خود اٹھ کھڑا ہو تو اپنا آپ پھول سے بھی ہلکا لگتا ہے اور اگر دوسروں کے سہارے اٹھنا چاہے تو یہی وجود منوں وزنی ہو جاتا ہے کہ کئی لوگ مل کر بھی نہیں اٹھا پاتے بشریٰ فرخ نے بھی سہارا دیا سامنے کھڑے کسوٹی اخبار کے نوعمر فوٹوگرافر نے بھی ہاتھ بڑھایا اور الحمداللّہ میں اٹھ کھڑی ہوئی۔ ہال سے نکلنے لگی تو ہمارے گندھارا ہندکو گروپ کے ڈاکٹر خالد تپاک سے آگے بڑھے اور گاڑی تک چھوڑنے آئے۔
باہر ہی نجیبہ عارفہ صاحبہ مل گئیں، ہاتھ تھام کر بڑی گرم جوشی کے ساتھ بار دگر آنے کا شکریہ ادا کیا میں نے بھی تشکر کے ساتھ ان کے گراں مایہ کام ”نواح کاظمہ“ کی تعریف کی، اتنے میں روبینہ کا ڈرائیور گاڑی قریب لے آیا۔ روبینہ نے دروازہ کھول کر مجھے بیٹھنے میں مدد دی راستے میں ڈاکٹر صاحبہ کی محنت اور اخلاص پر بات کرتے رہے، روبینہ بتانے لگی کہ ان کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی مگر ناسازی طبع کے باوجود بہ نفس نفیس ہر سیشن میں موجود رہیں، میں نے بھی ان کے اخلاق، محنت اور حسن سلوک کی بات کی۔
حیات آباد بھائی کے گھر اترے میری بھتیجی فاطمہ نے لوازمات کے ساتھ چائے تیار کر رکھی تھی مگر روبینہ نے معذرت کی کہ وہ صبح سے نکلی ہیں اور بہت تھک چکی ہیں۔ مجھے بہت پیار سے اتارا، دعائیں دیں، اس خوشگوار ملاقات پر خوشی کا اظہار کیا۔ اچھے لوگوں، اچھے دوستوں سے ملنا، محبت کے رنگ میں رنگنا، کومل جذبوں اور لطیف احساسات کی مہک کو محسوس کرنا جو روح کو مہکا دے، یہ سب انمول ہے۔
اندر آئی تو بھابھی، بچے، بیٹا اور چائے منتظر تھی۔ بھتیجے علی اور حیدر نے پیار سے کہا پھپھو آپ بہت اچھا کرتی ہیں کہ ہمت کرتی ہیں باہر نکلتی ہیں۔ بھائی کے گھر سے محبتوں کی پھوار سے سرشار، آج کے دن کی مسرتوں سے نہال گاڑی میں بیٹھے تو اسد نے کہا امی آپ واکر کے ساتھ شرمائے بغیر اعتماد کے ساتھ تقریب میں شامل ہوئیں یہ اچھی بات ہے۔ مسرت و تشکر سے لبریز دل نے اللّہ سبحان و تعالیٰ کا شکر اور بیٹے کے لئے دعائیں کیں کہ جس کا ساتھ اور پیار میری طاقت ہے اور بہت انمول ہے۔ آج کے خوشگوار دن، رنگوں کی دھنک، پیار کی مہک بھری یادوں کے ساتھ موٹروے پر سفر کرتے درود شریف، اور رب کریم کی حمد و ثنا کرتی رہی۔


