ذیابیطس: وقت لبلبہ ہے


Dr Mahvish Safdar and Dr Lubna Mirza

لکھاری:
ڈاکٹر مہوش صفدر ایم بی بی ایس
ڈاکٹر لبنیٰ مرزا ایم ڈی، ایف اے سی ای

سائنس کی دنیا میں ایک صاحب نے سوال پوچھا ہے کہ ”کھانے کے کتنی دیر بعد لبلبہ انسولین خارج کرتا ہے؟ اور ایک ہی کھانے کے لیے کتنی دیر تک انسولین خارج کرتا رہتا ہے، 20 منٹ یا 6 گھنٹے تک؟“

جواب: انسولین ایک ہارمون ہے جو کہ لبلبے کے بیٹا خلیوں میں بنتی ہے اور خون میں شوگر کی مقدار کے لحاظ سے خارج ہوتی ہے۔ ایک نارمل انسان میں جس کو ذیابیطس کا مرض لاحق نہ ہو، اس میں یہ بیٹا خلیے مسلسل ایک یا دو یونٹ انسولین سارے 24 گھنٹے خارج کرتے رہتے ہیں جس سے خون میں شوگر کی مقدار نارمل لیول میں رہتی ہے۔ لیکن اگر کھانا کھایا جائے تو لبلبہ اس سے زیادہ انسولین خارج کرتا ہے۔ اس کھانے کے ردعمل سے شوگر کے بڑھنے سے انسولین کے اخراج کو دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ جس کو بائے فیزک یعنی کہ دو حصوں پر مبنی ردعمل کہتے ہیں۔

پہلا ردعمل فوری انسولین کی فراہمی ہوتا ہے۔ یہ وہ انسولین ہے جو پہلے سے بنی ہوئی جمع شدہ ہوتی ہے۔ اور دوسرا ردعمل آہستگی سے ہوتا ہے جو کہ انسولین بنانے اور پھر خارج کرنے کی وجہ سے آہستہ ہوتا ہے۔ اب یہ کتنی مقدار میں اور کتنی دیر تک ہو گا اس بات کا دار و مدار کئی عوامل پر ہوتا ہے۔ آپ نے کھانے میں کیا کھایا؟ اس میں کاربوہائڈریٹ کتنی مقدار میں تھے؟ پروٹین کی مقدار کیا تھی؟ کھانے میں کتنی چکنائی تھی؟ ہر طرح کے کھانے سے خون میں شوگر کی مقدار مختلف رفتار اور سطح تک بڑھتی ہے اور اسی سے یہ بات طے ہوگی کہ لبلبے نے کتنی انسولین بنائی اور کتنی دیر تک خارج کرتا رہا۔ لبلبے کے بیٹا سیل سب سے زیادہ ردعمل کاربوہائڈریٹ یعنی کہ روٹی، چاول یا آلو وغیرہ سے دکھاتے ہیں۔ پروٹین کا بھی اثر ہوتا ہے لیکن وہ کچھ دیر سے اور اگر کھانے میں چکنائی شامل ہو تو انسولین کی مقدار تو اتنی ہی ہوتی ہے جتنی کہ خون میں شوگر کو نارمل رکھنے کے لیے درکار ہو لیکن اس کی چوٹائی کم ہوجاتی ہے اور بننے کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے۔ عموماً ایک کھانے کے بعد یہ سارا پروسس تقریباً دو تین گھنٹے تک چلتا ہے۔ اس کے بعد انسولین کا بننا پھر سے ایک یا دو یونٹ فی گھنٹہ ہونے لگتا ہے۔

ایک نارمل انسان میں جس کو ذیابیطس نہ ہو، اس کی شوگر صبح ناشتے سے پہلے سو ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم ہوتی ہے۔ نارمل ہیموگلوبن اے ون سی پانچ اعشاریہ چھ تک ہوتی ہے۔

صبح، دوپہر اور شام کے کھانے کا رواج جدید دور کے انسانوں نے مرتب دیا ہے۔ قدیم زمانے کے انسانوں کے پاس اس قدر خوراک نہیں ہوتی تھی۔ تین وقت کے کھانوں کے علاوہ ان کے درمیان میں کچھ نہ کچھ اسنیک کھاتے رہنے سے لبلبہ مستقل انسولین بنانے میں لگا رہتا ہے اور اس کو آرام کرنے کا وقت نہیں ملتا۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس آنے جانے کے لیے آرام دہ سواریاں موجود ہیں اور ہمیں زیادہ چلنے پھرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہی وجوہات ہیں جن کے باعث دنیا میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 800 ملین سے تجاوز کر گئی ہے۔

جن لوگوں میں مٹاپے کی بیماری ہو، ان میں انسولین کے خلاف جسم میں مزاحمت پیدا ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے خون میں شوگر کو نارمل رکھنے کے لیے مزید انسولین بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آخرکار زیادہ کام کر کے جب لبلبے کے انسولین بنانے والے خلیے مرنے لگتے ہیں تو پھر ذیابیطس ٹائپ ٹو کا مرض تشخیص کیا جاتا ہے۔ جب ٹائپ ٹو کا مرض تشخیص ہوتا ہے تو اس وقت انسولین بنانے والے بیٹا سیل میں سے 80 فیصد تباہ ہوچکے ہوتے ہیں۔

ہم جنوبی ایشیائی ہیں اور جنوبی ایشیائی افراد میں ذیابیطس کا خطرہ دیگر اقوام سے زیادہ پایا گیا ہے۔ ہم اکثر سنتے ہیں کہ ٹائم از منی، یعنی کہ وقت قیمتی ہے۔ اینڈوکرنالوجی کے مطابق وقت لبلبہ ہے۔ ایک صحت مند پھلوں اور سبزیوں پر مشتمل خوراک، باقاعدہ ورزش، پانی پینے، زیادہ نمک اور چکنائی سے پرہیز کرنے، اپنے وزن کو قابو میں رکھنے اور رات میں آٹھ گھنٹے آرام کی نیند حاصل کرنے سے ہم اپنے لبلبے کو زیادہ دیر تک کارآمد رکھ سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS