گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج (میاں چنوں) زبوں حالی کا شکار کیوں ہوا؟
ہماری اکیڈمی دی ویژن میں ایک اسٹوڈنٹ جو اے ڈی اے کی کوچنگ لے رہا ہے، اس نے پوسٹ گریجوایٹ کالج کے متعلق بڑی دلچسپ بات بتائی، 2021 میں 10 ویں جماعت نمایاں نمبروں سے پاس کر لینے کے بعد مزید تعلیم کے حصول کے لیے اس نے گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج کا رخ کیا۔ غریب گھر کا بچہ تھا، ایلیٹ مافیا جو اس ملک کے زیادہ تر وسائل پر قابض ہے اب پرائیویٹ کالجز کی ”چین“ بھی انہی کی دسترس میں ہے۔ خیر بچے کی پہنچ یا دوڑ تو صرف گورنمنٹ کالج کی حد تک تھی، غریبوں کے حصے میں ائرکنڈیشنڈ اور لگژری کلاس روم کہاں؟
بچہ چونکہ ذہین تھا اور پڑھائی کے معاملے میں خاصا فکر مند بھی، انہی چکروں میں اس نے گورنمنٹ کالج تقریباً 9 بار وزٹ کیا کہ شاید اس کالج کی کوئی قابلِ ذکر خوبی سامنے آ جائے اور وہ ایڈمیشن کروا لے۔ لیکن ہر بار مایوسی ہوئی، کلاس روم سے اساتذہ غائب ہیں اور بچے خوش گپیوں میں مصروف ہیں جبکہ اساتذہ اسٹاف روم میں چائے کے ساتھ اخبار کی سہولت سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔ کینٹین، راہداریاں اور گراؤنڈ آباد ہیں جبکہ کلاس روم ویران، بادل نخواستہ اس نے ایک ایسے کالج میں داخلہ لیا جو کوئی این جی او چلا رہی تھی، فیس مناسب، ڈسپلن اور پڑھائی گورنمنٹ کالج سے کہیں بہتر تھی، کم از کم جواب دہی کا ایک میکنزم موجود تھا۔ گورنمنٹ کے اداروں میں اس میکنزم کا خاصا فقدان پایا جاتا ہے، اسکولوں میں تو پھر بھی باز پرس یا استفسار کا تھوڑا بہت کوئی چلن ہوتا ہے کالج کی سطح پر یہ تکلف بھلا کہاں میسر ہوتا ہے؟ اب 19 ویں یا 20 گریڈ کے بندے کو بھلا کون لائن حاضر کرنے کا خطرہ مول لے سکتا ہے؟
سب سے بڑی المیہ والی بات یہ ہے کہ پبلک کالج کی حدود میں پروفیسرز ڈھونڈے سے نہیں ملتے لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ان کے ٹیوشن سینٹرز آباد رہا کرتے تھے، جہاں یہ بڑی محنت اور جانفشانی سے طلباء کو گیان بانٹتے تھے، اب تو خیر پرائیویٹ مافیا نے ان کی دکانوں پر تالا ڈال دیا ہے۔
مطلب سرکار کی تنخواہ پر چند گھنٹوں پڑھانا وہ بھی نیم دلی سے جبکہ کوچنگ سینٹر میں اسٹوڈنٹس کے نذرانوں کی بدولت کئی گھنٹوں بڑی دلجمعی اور توجہ کے ساتھ پڑھانا، ایک طرح سے سرکاری اور پرائیویٹ کلینک ایسا شعار اپنا رکھا تھا۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب پورے کا پورا کالج دو یا تین ٹیوشن سینٹرز پر اکٹھا ہوتا تھا جہاں کالج کے پروفیسر اپنی خدمات سر انجام دیا کرتے تھے، ایک وقت میں اسی کالج کے کچھ پروفیسر کا ایک گروہ ایسا بھی تھا جو ”کاپی پیسٹ“ کی بنیاد پر کتابیں چھپواتے اور اپنی کالج کی شہرت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف اداروں میں وہی کتابیں ریکمنڈ کیا کرتے تھے اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی یہ لوگ انہی کتابوں کے فیض سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
جب صورت حال یہاں تک پہنچ جائے تو کالج کی حیثیت تو پھر داخلے بھیجنے کی حد تک رہ جاتی ہے۔ رہا یہ سوال کہ کیا مہنگے ترین پرائیویٹ تعلیمی ادارے گورنمنٹ اداروں کی نسبت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں یا محض پروپیگنڈا ہے؟ میری نظر میں اس سوال کی بجائے یہ پوچھا جانا چاہیے کہ اتنے مہنگے ترین پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے کمر توڑ مہنگائی کے باوجود سرکاری تعلیمی ادارے دنوں میں خالی کر دیے کیوں؟ پرائیویٹ مافیا نے اسی خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی ہے جسے سرکاری اداروں کے منتظمین نجانے کب سے نظر انداز کر رہے تھے، پرائیویٹ اداروں نے وہ سارے پروٹوکول ایک ہی جگہ مہیا کر دیے جن سے غریب اور متوسط طبقے کے اسٹوڈنٹس محروم تھے اور اچھے مارکس کے حصول کے لیے جگہ جگہ خجل ہوتے تھے۔
اس وقت ہماری عظیم درسگاہ زبوں حالی کا ایک بھیانک منظر پیش کر رہی ہے، کلاس روم خالی ہو چکے ہیں، جہاں کبھی بچے بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے وہاں اب بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی برانچ قائم ہو چکی ہے۔
بی اے، بی ایس سی کی جگہ بی ایس پروگرام کا آغاز تو کر دیا گیا لیکن پورا اسٹاف اور میکنزم مہیا نہیں کیا گیا، جو پروفیسر ادارے میں پہلے سے موجود ہیں انہی کے کندھوں پر یہ اضافی ذمہ داری بھی ڈال دی گئی، ایسا تھوڑے ہوتا ہے بہتر نظام لانے کے لیے باقاعدہ ہوم ورک ہوتا ہے اور سارے لوازمات پورے ہونے کے بعد ہی سرا اٹھایا جاتا ہے۔ دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ کیا بی اے اور بی ایس سی کے خاتمے کے بعد جو متبادل نظام دیا گیا ہے وہ پرانے نظام سے کس حد تک بہتر ہے؟ اگر نیا نظام بہتر ہے تو اس کو ایک ذمہ داری کے ساتھ لانچ کرنے میں اس قدر کوتاہی کیوں؟
حکومت وقت سے گزارش ہے کہ تعلیمی اداروں کا اس قدر استحصال تو نہ کیجیے، تعلیمی ادارے کی اس قدر حرمت تو پامال نہ کیجیے، ہو سکے تو اس کی بحالی کے لیے کچھ کیجیے، یہ بہت سارے غریبوں کے لیے امید کی ایک کرن ہے، خدارا اس کی لو کو بجھنے مت دیجیے۔



