جنگی جنون سے بچا جائے، ہیجان کم ہونا چاہیے


پہلگام سانحہ کو دو ہفتے ہونے کو آئے ہیں لیکن برصغیر میں ہیجان اور جنگ کا ماحول پیدا کر کے خوف و ہراس کی شدید کیفیت پیدا کی گئی ہے۔ بھارتی حکومت مسلسل ’پاکستان کو سزا‘ دینے کے اشارے دے رہی ہے جبکہ میڈیا کے ذریعے کوئی سوال اٹھائے بغیر یہ موقف راسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ حملہ پاکستان نے ہی کروایا تھا۔

حیرت انگیز طور پر بھارتی حکام یہ پالیسی اختیار کرتے ہوئے پہلگام میں سکیورٹی کی ناکامی کے علاوہ اس وقوعہ کی تحقیقات کے بارے میں بھی کوئی معلومات سامنے لانے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ شروع میں تحقیقات کا اعلان کرنے کے بعد نہ حکومت نے بتایا اور نہ ہی میڈیا نے پوچھا کہ ایک ایسے سنگین سانحہ کی تحقیقات کہاں تک پہنچیں جس میں 26 بے گناہ سیاح اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ حالانکہ پاکستان پر الزام لگانے سے پہلے مودی حکومت کو ہوم ورک کے طور پر اس دہشت گردی کی تفصیلی اور حقائق پر مبنی معلومات سامنے لانی چاہئیں تھیں۔ لیکن بنیادی باتوں کو نظر انداز کر کے حکومتی عہدیدار اور میڈیا بیک زبان پاکستان کو قصور وار قرار دے کر اسے سزا دینے کی بات کر رہا ہے۔ حالانکہ ایسی باتیں کرنے والوں کو جنگ کی ہولناکی اور تباہی و بربادی کا ہرگز کوئی اندازہ نہیں ہے۔ یہ ممکن نہیں ہو سکتا کہ بھارت کسی قسم کی عسکری کارروائی کرے اور پاکستان خاموشی سے اسے برداشت کر لے۔

ایک طرف جنگ جوئی کا یہ ماحول ہے تو دوسری طرف پاکستان میں جنگ کا خوف محسوس کرنے کی بجائے پوری قوت سے یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اب بھارت کے ساتھ جو بھی جنگ ہوگی، وہ ایٹمی جنگ ہی ہوگی۔ بھارت سمیت دنیا میں کسی سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور اس کے پاس ایسے میزائل بھی موجود ہیں جو بھارت میں مختلف اہداف تک یہ ہتھیار پھینک سکتے ہیں۔ اس کے باوجود جب سیاسی و سفارتی سطح پر اس پیغام کو کھل کر بیان کرنے کی کوشش کی جائے گی تو اسے بنیادی طور پر جنگی ہیجان میں اضافہ ہی کا ایک طریقہ سمجھنا چاہیے۔ اس ماحول میں وزیر اعظم شہباز شریف کا یہ بیان حقیقت حال سے برعکس ہے کہ پاکستان نے بھارتی حکومت کی شدت پسندی اور سخت رویہ کے باوجود تحمل اور متوازن طرز عمل اختیار کیا ہے۔ اس وقت دونوں طرف سے جو بھی ’لڑائی‘ ہو رہی ہے وہ لفظوں کی جنگ ہے۔ دونوں طرف سے شدید بیان دینے اور ایک دوسرے کو تباہ کردینے کے غیر حقیقی اور ناعاقبت اندیشانہ بیانات جاری کیے جا رہے ہیں۔ بھارت میں میڈیا، تجزیہ نگار، سیاسی لیڈر اور سابق فوجی افسر اگر پاکستان کے ساتھ معاملہ ’آر یا پار‘ کرنے جیسے افسوسناک اور اشتعال انگیز بیان دے رہے ہیں۔ تو دوسری طرف پاکستانی لیڈر اور میڈیا نمائندے ایٹمی ہتھیار سے بھارت کو تباہ کردینے کے احمقانہ اور جذباتی بیان دے کر ہیجان میں اضافہ کر رہے ہیں۔

پاکستان کی طرف سے پہلگام واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیش کش اس ہیجان کو کم کرنے میں معاون ہو سکتی تھی لیکن نریندر مودی کی حکومت ہی نہیں بلکہ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے بھی اس تجویز کو مسئلہ کا فوری حل سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ امریکی حکومت کا سارا فوکس اس وقت کسی بھی طرح چین کی تجارتی اور اسٹریٹیجک وسعت کے خلاف بند باندھنا ہے اور اس مقصد سے وہ بھارت کو اس علاقے میں اپنا سب سے اہم اور قابل اعتبار شراکت دار سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی نمائندوں نے ابھی تک اس نکتہ پر غور نہیں کیا کہ ایٹمی صلاحیت کی حامل دو طاقتوں کے درمیان جب روایتی جنگی وسائل میں وسیع عدم توازن موجود ہے تو جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ حقیقی ہو سکتا ہے۔ یہی موقع تھا کہ واشنگٹن ذمہ دارانہ سفارتی رویہ اپناتے ہوئے ایک طرف نئی دہلی کو صورت حال کا حقیقی ادراک کرنے پر آمادہ کرتا اور دوسری طرف پاکستان کی اس تجویز کو عملی شکل دینے کی کوشش کی جاتی کہ پہلگام واقعہ کی کسی غیر جانبدار ملک یا ادارے سے تحقیقات کرا لی جائیں۔ امریکی حکومت اگر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی تو اس سوال پر خود بھی فریقین کو کسی اتفاق رائے پر آمادہ کر سکتی تھی کیوں کہ نئی دہلی اور اسلام آباد میں اسے وسیع سفارتی اثر و رسوخ حاصل ہے۔ یا پھر سلامتی کونسل سے کوئی ایسی قرارداد منظور کروا لی جاتی کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں پہلگام سانحہ کی تحقیقات ہوں تاکہ دو ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کو للکارنے کا ماحول ختم کریں۔

بدقسمتی سے واشنگٹن کے بااختیار لوگ یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ جنگ کی صورت میں جو تباہی آئے گی، اس کے بعد بھارت اس قابل نہیں رہے گا کہ وہ چین کے خلاف امریکی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کرنے کے قابل ہو۔ اس طرح یہ جنگ صرف برصغیر کے پرامن لوگوں کے لیے ہی تشویش کا سبب نہیں ہونی چاہیے بلکہ امریکی حکومت کو بھی اسے اپنے مفادات کے برعکس سمجھنا چاہیے۔ البتہ اس وقت ٹرمپ کے قریب ترین مشیر یہی باور کر رہے ہیں کہ بیانات میں بھارت سے ہمدردی اور سفارتی رابطوں میں پاکستان سے رعایت لینے کی کوشش کی جائے۔ چند دن پہلے نائب صدر جے ڈی وینس کا بیان اسی امریکی رویہ کا پرتو محسوس ہوتا ہے۔

جے ڈی وینس نے فوکس نیوز کے ساتھ انٹرویو میں بھارت کو تحمل اور پاکستان کو تعاون کا مشورہ نہیں دیا بلکہ ان کا کہنا تھا کہ بھارت، پاکستان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے یہ خیال رکھے کہ اس سے تنازعہ بے قابو نہ ہو جائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پاکستان کو مشورہ دیا تھا کہ اس دہشت گردی میں جس حد تک اس کی سرزمین سے کارروائی ہوئی ہے، وہ ذمہ داری قبول کرے اور ایسے عناصر کا پیچھا کر کے ان کا خاتمہ کیا جائے۔ یہ بیان سفارتی آداب کے برعکس اور تنازعہ میں امریکہ کی نام نہاد غیر جانبدار پوزیشن کو متاثر کرتا ہے۔ کسی ٹی وی انٹرویو میں بھارت کو پاکستان کے خلاف عسکری کارروائی کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے درحقیقت وینس خطے میں وسیع جنگ کو دعوت دینے کا سبب بنے ہیں۔ کیوں کہ ایک بار عسکری طاقت بروئے کار لانے کے بعد اسے پھیلانے یا محدود کرنے کا انحصار صرف جنگ شروع کرنے والے کے ہاتھ میں نہیں رہتا۔

پاکستان کی طرف سے کسی بیان میں وینس کے انٹرویو پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا لیکن یہ بات حیرت انگیز ہوگی اگر پاکستانی حکومت نے سفارتی ذرائع سے امریکی حکومت سے دریافت نہ کیا ہو کہ وہ اپنی پوزیشن واضح کرے۔ پاکستان متعدد معاملات میں امریکہ پر انحصار کی وجہ سے شاید کھلم کھلا واشنگٹن سے اختلاف کرنے میں محتاط ہو لیکن اس کے ساتھ ہی اگر امریکی نائب صدر یہ باور کر کے بھارت کو پاکستان کے خلاف کوئی چھوٹی کارروائی کا اشارہ دے رہے ہیں کہ پاکستان خاموش رہے گا یا امریکی حکومت اسے دباؤ میں لاکر جواب نہ دینے پر آمادہ کر لے گی تو موجودہ حالات میں یہ غیر حقیقت پسندانہ رویہ ہو گا۔ امریکی حکام کو برصغیر میں پیدا ہونے والی صورت حال کا زیادہ گہرائی سے جائزہ لے کر کوئی ایسا ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرنا چاہیے جس سے مسئلہ بھی حل ہو جائے اور دونوں ملکوں کے درمیان کسی عسکری تصادم کی نوبت بھی نہ آئے۔ کیوں کہ بھارتی حکومت نے سیاسی بیان بازی اور میڈیا کے ذریعے جو جنگی ماحول پیدا کیا ہے اور پاکستان کے خلاف جو بے بنیاد اشتعال انگیزی پھیلائی ہے، اس کے تناظر میں بھارت اگر کوئی چھوٹا حملہ کر کے ’فیس سیونگ‘ کا راستہ اختیار کرنا چاہے بھی تو موجودہ جنگجویانہ ماحول میں اس کا امکان ختم ہو چکا ہے۔ پاکستان کے لیے کسی بھی عسکری کارروائی کا جواب دینا لازم ہو گیا ہے۔ اس لیے نریندر مودی کے علاوہ امریکہ کو بھی سوچ لینا چاہیے کہ کیا وہ ایک بار پھر ایسے کسی نقصان یا ہزیمت کا بوجھ اٹھانے پر تیار ہیں۔ یوں بھی اب پاکستانی قیادت اور حالات 2019 سے مختلف ہیں۔

یہ معاملہ یوں بھی زیادہ سنگین اور تشویشناک ہو چکا ہے کہ کسی جنگ کی صورت میں پاکستان کی طرف سے صرف سیاسی بیانات یا میڈیا تبصروں ہی میں ایٹمی آپشن کا حوالہ نہیں دیا جا رہا بلکہ واشنگٹن اور ماسکو میں پاکستانی سفیروں نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے۔ گزشتہ روز فوکس نیوز کو انٹرویو میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے صدر ٹرمپ سے کہا تھا کہ وہ اپنی ڈیل میکر کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر پاک بھارت تنازعہ ختم کرائیں کیوں کہ یہ خطہ ’نیوکلیئر فلیش پوائنٹ‘ ہے۔ یہ درحقیقت جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا اشارہ ہی تھا۔ البتہ اب ماسکو میں پاکستانی سفیر محمد خالد جمالی نے روسی میڈیا سے بات کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے پاس انٹیلی جنس شواہد موجود ہیں، جن سے پتا چلتا ہے کہ بھارت کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے پاکستان پر حملے کی کوئی کوشش کی تو اسے ایٹمی ہتھیاروں سمیت پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔ مخصوص علاقوں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، محسوس ہو رہا ہے کہ یہ حملہ قریب ہے اور اس کا خطرہ حقیقی نوعیت کا ہے ’۔

کسی ملک کی طرف سے جنگ کی صورت میں خطرے کے بارے میں اس سے واضح اور واشگاف انتباہ ممکن نہیں ہو سکتا ۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں ہونے والا کوئی جوہری تصادم صرف ان ممالک یا خطے کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہی کا پیغام ہو گا۔ امریکہ سمیت پوری دنیا کو اس حقیقی خطرے کو محسوس کر کے لاتعلقی اختیار کرنے کی بجائے پاک بھارت تعلقات کو معمول پر لانے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس وقت جنگی جنون سے بچنے اور ہیجان کم کرنے کی شدید ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali