پہلی گولی چلانے سے پہلے


ہم نے سُن رکھا ہے کہ ’محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے‘ مگر ہمارا ماننا ہے کہ جنگ بذاتِ خود انسانی تکریم و وقار کے منافی اور انکاری ہے تو یہ جائز کیسے ہو سکتی ہے؟ جنگیں کبھی بھی قابلِ فخر نہیں رہیں۔ یہ انسانی تاریخ کا المناک حصہ رہی ہیں۔ ان کے نقصانات صرف میدان جنگ تک محدود نہیں بلکہ یہ بنی نوعِ انسان، چرند پرند، نباتات، ہوا، پانی، فضا غرض کُل کائنات پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب کرتی ہیں۔ جنگ نفرت، انسانی توہین، دُوری، انکار، غربت، عدم استحکام، کائنات کی تباہی اور تاریک مستقبل کا نام ہے۔

گزشتہ چند ہفتوں سے پاکستان اور بھارت کے مابین جاری کشیدگی اور اُس میں بڑھتا اضافہ انسان دشمنی کے سوا کچھ نہیں۔ سرحد کے دونوں پار جوشیلی اور جذباتی تقریروں، نعروں اور دعووں سے عوام کو جنگی جنون کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جس سے ماضی کے تجربوں کی طرح حاصل حصول صفر ہی ہونا ہے، مگر معاشی، تعلیمی، ماحولیاتی اور انسانی نقصان اس قدر وسیع پیمانے پر ہو گا کہ کوئی بھی پیمانہ اسے ماپنے سے قاصر ہے۔ بڑھکیں محض اشتعال دلاتی ہیں، جوشیلی تقریریں ہوش گنوا دیتی ہیں، نعرے اور دعوے فقط خواب اور خیال ہوتے ہیں۔ جنگ جیتنے کی باتیں دیوانگی ہے۔ کسی بھی جنگ میں کبھی بھی کسی کی بھی جیت نہیں ہوا کرتی۔ جنگ سراسر ہار ہی ہار ہے۔ نقصان ہی نقصان ہے، گھاٹا ہی گھاٹا ہے۔ جنگ انسانیت کی ہار ہے، انسانی بقا کی ہار ہے، محبت اور قبولیت کی ہار ہے۔ جنگ میں کوئی بھی فریق اگر کچھ بھی جیتتا ہے تو وہ ہے گہری تباہی، گھپ اندھیرا، مفلوج معاشرہ، انگنت نعشیں، جنازے، قبریں اور ترقی کے خوابوں کی چِتا۔ اس کے سوا بخدا جنگ اپنے پیچھے کچھ بھی چھوڑ کر نہیں جاتی۔

دنیا کی تاریخ میں چھوٹی یا بڑی جنگوں میں جس کسی نے پہلی گولی چلائی اُس نے پلٹ کر بانجھ زمینوں، انسانی نعشوں پر منڈلاتے گدھوں، تہذیبوں کو کھنڈرات میں بدلتے اور کائنات کے وسائل کی بے توقیری ہوتی ہی دیکھی۔ پہلی گولی چلانے والا یہ بات ذہن میں رکھے کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر انسانی تباہی، نسل کشی اور جوہری ہتھیاروں کا استعمال ہوا تھا جس کے اثرات کہیں نہ کہیں آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ پہلی گولی نفرت اور انتقام کے جذبات کو بھڑکاتی ہے جس سے مزید تشدد اور انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ پہلی گولی امن اور مذاکرات کے تمام راستے بند کر دیتی ہے جس سے تنازعات بڑھتے ہیں اور معاشی سرگرمیاں رُک جاتی ہیں۔ پہلی گولی خوف اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا کرتی ہے جس سے معاشرتی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ پہلی گولی مہلک ہتھیاروں کے استعمال کا جواز فراہم کرتی ہے جس سے انسانیت اور ماحولیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔

پہلی گولی چلانے سے پہلے اس بات پر غور ضروری ہے کہ ماضی قریب کی جنگوں میں لاکھوں کروڑوں انسان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ان میں فوجی اور عام شہری دونوں شامل ہیں۔ ہر ایک جان اور خاندان، ایک کہانی اور انسانیت کا ایک قیمتی حصہ تھی۔ اُن جنگوں میں زخمی ہونے والے لاکھوں افراد مستقل جسمانی معذوری کا شکار ہو چکے ہیں۔ وہ اب خاندان اور معاشرے کے لئے بوجھ بن چکے ہیں۔ جنگوں کے ہولناک مناظر نے شہریوں پر گہرے نفسیاتی اثرات چھوڑے ہیں۔ پہلی گولی چلانے سے پہلے سوچ لیا جائے کہ جنگوں کے نتیجے میں لاکھوں خاندان اپنے گھر بار چھوڑ کر پناہ گزینی کا تجربہ کر چکے ہیں۔ انہیں اپنی شناخت، اپنی جڑیں اور اپنی معمول کی زندگی ترک کرنا پڑی۔ جنگیں خوراک کی قلت اور طبی سہولیات کے فقدان کا باعث بن چکی ہیں۔ جنگ زدہ علاقوں میں تعلیم کا نظام تباہ ہوا اور بچوں کا مستقبل تاریک ہوا۔ تاریخ میں کسی کی پہلی گولی نے ایسی جنگوں کو جنم دیا جن میں منظم طریقے سے نسلی کشی کی گئی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں۔ یاد رہے ان واقعات پر انسانیت آج بھی شرمسار ہے۔

اس بات کو ’پلے باندھ‘ لینا لازم ہے کہ پہلی گولی کسی بڑی جنگ کو دعوت دے سکتی ہے جس کے نتیجہ میں ماحولیات پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ہتھیاروں کے استعمال سے آلودگی پھیلے گی، جنگلات تباہ ہوجائیں گے، قدرتی وسائل کی لوٹ مار ہو گی اور زمینی و آبی حیات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔ جنگ زدہ علاقوں میں جنگلی حیات اور ان کے مسکن تباہ ہو جائیں گے نیز جنگ نہ صرف موجودہ نسل کے لیے نقصان دہ ہو گی بلکہ مستقبل کی نسلوں کا جینا بھی اجیرن کر دے گی۔ جنگوں میں تاریخی مقامات، آثار قدیمہ اور ثقافتی ورثے کو بھی نقصان پہنچے گا جو کہ انسانی تہذیب کی مشترکہ ملکیت ہیں۔
المختصر، جنگیں انسانوں کے لیے ناقابل تصور مصائب اور کائنات کے لیے گہرے اور دیرپا نقصانات کا باعث بنتی ہیں کہ جن کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے، کیونکہ ان کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں بلکہ خود ایک سنگین مسئلہ ہے۔ لہٰذا انسانیت کی بقا کے لیے خُدارا پہلی گولی چلانے سے اجتناب کیا جائے۔

Facebook Comments HS