دیوی دیوتاؤں سے وزرا تک: مذہبی عقائد کا ارتقا


Muhammad Salman Rao

تاریخِ انسانی کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ مختلف تہذیبوں نے اپنے مذہبی عقائد اور معبودوں کو فطرت اور روزمرہ زندگی کے مختلف پہلوؤں سے جوڑا ہے۔ یونانی تہذیب، وادی دجلہ و فرات کی تہذیب اور دیگر قدیم معاشروں میں لوگوں نے ہر قدرتی قوت اور سماجی ضرورت کے لیے الگ دیوی دیوتا متعارف کرائے۔ آج یہ تہذیبیں اور ان کے عقائد تو ختم ہو چکے ہیں، لیکن اگر غور کیا جائے تو جدید دور میں بھی ان دیوی دیوتاؤں کی علامتی شکلیں ہمارے اردگرد موجود ہیں۔ خاص طور پر حکومتی نظام میں وزراء کی صورت میں۔

! قدیم تہذیبوں کے مذہبی عقائد

قدیم یونان اور میسوپوٹیمیا (وادی دجلہ و فرات) کی تہذیبوں میں لوگ مختلف دیوی دیوتاؤں کی پوجا کرتے تھے، جو ان کی روزمرہ زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق تھے۔ مثال کے طور پر :

اگ، پانی اور ہوا کے دیوتا: یونانیوں کے لیے زیوس آسمان اور بجلی کا دیوتا تھا، جبکہ پوسیڈون سمندر اور زلزلوں کا مالک تھا۔ میسوپوٹیمیا میں انلیل ہوا اور طوفانوں کا دیوتا تھا۔

پیدائش اور زراعت کی دیوی: یونانی تہذیب میں ڈیمیٹر فصلوں اور زراعت کی دیوی تھی، جبکہ میسوپوٹیمیا میں اننا (ایشتار) محبت اور زرخیزی کی دیوی تھی۔

سفر اور جنگ کے دیوتا: ہرمیز یونانیوں کا پیغام رساں اور مسافروں کا محافظ تھا، جبکہ مارس (یا ایرس) جنگ کا دیوتا تھا۔

موت اور زیرِ زمین دنیا کی دیوی: ہیڈیز (یونانی) اور ارشکیگل (میسوپوٹیمیا) موت اور عالمِ ارواح کے حکمران تھے۔

ان دیوی دیوتاؤں کی پوجا کا مقصد یہ تھا کہ انسان اپنی زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیابی اور حفاظت کے لیے ان سے مدد مانگ سکے۔

جدید دور میں وزراء کی حیثیت

آج کے دور میں مذہبی دیوی دیوتا تو نہیں ہیں، لیکن اگر دیکھا جائے تو جدید ریاستی نظام میں مختلف وزراء کا کردار بھی کچھ اسی طرح کا ہے۔ ہر وزیر کسی خاص شعبے کا ذمہ دار ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے قدیم زمانے میں ہر دیوتا کسی خاص قوت یا سرگرمی کا نگران تھا۔ مثال کے طور پر :

وزیرِ توانائی جدید دور کا ”آگ اور پانی کا دیوتا“ جو بجلی، تیل اور پانی کے وسائل کو کنٹرول کرتا ہے۔
وزیرِ صحت: ”شفا اور پیدائش کی دیوی“ کی طرح، جو عوام کی صحت اور آبادی کے معاملات دیکھتا ہے۔
وزیرِ دفاع: قدیم ”جنگ کے دیوتا“ کی جدید شکل، جو ملک کی حفاظت اور فوجی طاقت کا ذمہ دار ہے۔
وزیرِ زراعت: ”فصلوں اور کھیتی باڑی کی دیوی“ کا جدید متبادل، جو خوراک اور زرعی ترقی کو کنٹرول کرتا ہے۔
وزیرِ داخلہ یا انصاف: ”موت اور قانون کی دیوی“ کی طرح، جو امن و امان اور عدالتی نظام کو چلاتا ہے۔

موازنہ اور تجزیہ

قدیم اور جدید نظام میں بنیادی فرق یہ ہے کہ پہلے لوگ ان قوتوں کو مافوق الفطرت سمجھ کر ان کی پرستش کرتے تھے، جبکہ آج یہی کام ریاستی ادارے اور وزراء سائنسی بنیادوں پر انجام دیتے ہیں۔ تاہم، دونوں نظاموں کا مقصد ایک ہی ہے۔ انسان کی بنیادی ضروریات اور خوف کو کنٹرول کرنا۔

تاریخ گواہ ہے کہ انسان ہمیشہ سے اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو منظم کرنے کے لیے کسی نہ کسی مرکزِ قوت کی تلاش میں رہا ہے۔ پہلے یہ کام دیوی دیوتاؤں کے ذریعے ہوتا تھا، اب یہی کام حکومتی وزراء انجام دیتے ہیں۔ دونوں ادوار میں فرق صرف عقیدے اور طریقۂ کار کا ہے، بنیادی تصور ایک جیسا ہے۔ لہٰذا، کہا جا سکتا ہے کہ جدید وزراء درحقیقت قدیم دیوی دیوتاؤں کی ہی معاصر شکلیں ہیں۔

Facebook Comments HS

محمد سلمان راؤ

محمد سلمان راؤ شعبہ انٹرپولوجی (انسانیات) میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں لیکچرر ہیں۔ ان کے پاس ہیومن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ موجود ہے، نیز وہ ایک ماہرِ سکّہ شناسی (نمیزمیٹسٹ) بھی ہیں۔

muhammad-salman-rao has 7 posts and counting.See all posts by muhammad-salman-rao