کتاب ”رب سے جڑنے کا سفر“: (2)

4۔ ہدایت و تبلیغ کے نام پر شدت پسندی کا فروغ
یہ ناول اتنا شدت پسندانہ انداز سے تحریر کیا گیا ہے کہ مجھے محسوس ہوا القاعدہ اور داعش جیسی گم راہ تنظیموں کے نظریات کو عین دین حق سمجھ کر پھیلایا گیا ہے۔ ابنِ قیم اور ابن تیمیہ جیسوں کی کتب کے حوالے اس کا ثبوت ہیں۔
ذیل میں مختلف جہتوں سے شدت پسندانہ نظریات کی نشان دہی کی ہے ان نکات پر غور کریں۔
1۔ احساسِ گناہ کو خوفناک حد تک بڑھا دینا
”اللہ کیسے معاف نہیں کریں گے چندا؟ وہ بہت غفور الرحیم ہے۔ مگر قرت! میرے گناہ کوئی چھوٹے گناہ تو نہیں نا؟“ (صفحہ 8 )
یہاں فاطمہ کو توبہ کی طرف لانے کے لیے بار بار یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اس کی زندگی گناہوں سے بھرپور ہے، جس کا فطری نتیجہ ”سخت شرمندگی“ اور ”خوف“ ہے۔ روحانی تبدیلی کا آغاز خوف سے کرانا بجائے اللہ کی محبت یا اس کی ذات کے فہم کے ایک نفسیاتی شدت کی علامت ہے۔
2۔ ”ہدایت“ کا محدود تصور اور فکس، جامد معیارات
”ہدایت نہیں ملے گی، فاطمہ! تمھیں دکھانا ہو گا اپنی تڑپ۔ گڑگڑانا ہو گا کہ اللہ مجھے ہدایت دے دیں، مجھے اپنی محبت کے لیے چن لیں!“ (صفحہ 5 )
یہاں ہدایت کو ایک مخصوص جذباتی مظاہرے سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ ہدایت کو عقل، مطالعہ، مشاہدہ یا تدبر سے نہیں، بلکہ شدید ذہنی اذیت اور جذباتی فریاد سے مشروط کرنا، ایک تنگ نظری پر مبنی دینی تصور کو ظاہر کرتا ہے کہ جیسے بس اللہ کو اپنے بندوں کا رونا تڑپنا ہی تو اچھا لگتا ہے۔ اسے خوش اور شاداب دل اور روحیں نا پسند ہیں۔
3۔ نیکی کے واحد معیار کا تعین (نقاب، قرآن، پردہ)
”وہ مکمل سیاہ عبایہ میں آتی تھی، آنکھیں بھی اکثر جھکی ہوتی تھیں۔ کچھ نے تو اس کا نام ’کالا کوا‘ رکھ دیا تھا۔“ (صفحہ 11 )
قرة العین کی نیکی کو صرف ظاہری پردے اور خاموشی سے نتھی کیا گیا ہے۔ اس سے قاری کے ذہن میں یہ تاثر جمتا ہے کہ دین داری کا واحد مظہر مکمل پردہ، خاموش مزاج، اور ظاہری پرہیزگاری ہے۔ یہ جامد معیارات شدت پسندی کے بنیادی پتھر ہیں۔ اس سے تاثر بھی جنم لیتا ہے کہ جو اس راستے سے الگ ہے وہ بھٹکا ہوا ہے، یعنی عبایہ اور چہرے کا نقاب نہ لینے والی لڑکی گم راہ ہی تو ہے۔ وہ کیا جانے پارسائی کیا ہے! نیکی کسے کہتے ہیں!
4۔ دنیاوی محبت کو مکمل طور پر حرام اور تباہ کن دکھانا
”سفیان کی طرف سے ملنے والے میسجز اس کے نفس کو موٹا کرتے تھے۔ وہ گناہوں کی گہری کھائی میں گر رہی تھی۔“ (صفحہ 25 )
محبت، پسندیدگی یا تعلق کو سراسر ”نفس پرستی“ ، ”گناہ“ ، اور ”تباہی“ سے جوڑنا شدت پسندی کی وہ شکل ہے جو انسانی جذبات کی فطری بناوٹ کو رد کرتی، بلکہ اسے شر قرار دیتی ہے۔ جیسے اس کی تمام صورتیں تباہی ہیں۔
5۔ مخالف یا مختلف طرزِ زندگی کو مکمل گمراہی قرار دینا
”اس کے خواب، اس کا لباس، اس کی موسیقی۔ سب کچھ اس کو جہنم کی طرف لے جا رہا تھا، اور وہ سمجھی ہی نہیں!“ (یہ مفہوم کئی مقامات پر بار بار دہرایا گیا ہے۔ حتیٰ کہ ماں باپ کو بھی نہیں بخشا گیا انہیں بھی راستے سے بھٹکا ہوا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی)
یہ بیانیہ دوسرے نظریات، زندگی کے متنوع انداز، یا ثقافتی تنوع کو رد کرتا ہے۔ گویا جو ان جیسے نہ ہوں، وہ سب راہِ ہلاکت پر ہیں اور یہ سوچ فکری شدت پسندی کا واضح نمونہ ہے۔ ایسے رائٹرز یہ بھی چاہتے ہیں انسان اپنے خواب تک ترک کر دے یا ان کو ہتھ کڑیاں پہنا دے۔
6۔ ہدایت کو محض ایک مخصوص شخصیت (قرة العین) سے مشروط کرنا
”وہ واقعی اللہ کی پلاننگ تھی، فاطمہ! تمھیں میرے پاس اللہ نے خود بھیجا۔“ (صفحہ 14 )
ایسا رویہ کہ صرف ایک کردار (قرة العین) ہی حق پر ہے اور باقی سب جہالت میں۔ یہ ایک روحانی اجارہ داری کا احساس پیدا کرتا ہے، جو شدت پسندی کو جنم دیتا ہے کہ ”حق صرف ہمارے پاس ہے، باقی سب غلط ہیں۔“ ان کے اپنے نفس متکبرانہ انداز میں پھولے ہوتے اس زعم میں کہ ہم سیدھے رستے پر اور باقی غلط راہ پر ہیں۔
7۔ امید کی جگہ عذاب کو مرکز بنانا
”وہ کیسے پلٹے! کس منہ سے جائے کہ جس تھالی میں کھائے اسی میں چھید کرتی رہی۔“ (صفحہ 6 )
روحانی بیداری کو دہشت، گناہوں کی مکافات، اور شدید احساسِ ندامت میں ڈھال کر پیش کرنا، قاری کو نرمی، تسلی، اور درجہ بہ درجہ تبدیلی کے بجائے ڈرا کر تابع کرنے کا حربہ ہے۔
علوم بشریات اور تاریخ کے عالم کہتے ہیں کہ زوال زدہ معاشروں اور مفتوح اقوام کا تصورِ خدا، تصور دین ہمیشہ خدا کو وہ نہیں دکھاتا جو کہ خدا اصل میں ہے۔ وہ خدا کو ناراض رہنے والا، حساب کرنے والا اور قہر بھیجنے والا ہی دکھاتا ہے۔ یہی اس معاشرے کی عمومی نفسیات بن جاتی ہے۔ ایک نظر اپنے معاشرے کو دیکھیں اور دوسری نظر اس ناول کے مواد پر ڈالیں، اور سوچیں کہ کہنے والے کتنی بڑی بات کہہ گئے ہیں۔
8۔ چہرے کی بے نقابی کو عریانیت ثابت کرنا
”اس کا چمکتا ہوا چہرہ ننگا تھا۔“
یہ کہہ کر رائٹر اپنا تعصب بھی ظاہر کر رہی ہے اور اسے ”ننگے پن“ جیسے الفاظ سے بتا رہی ہے۔ چہرے کے حجاب کو اتنا اہم دکھایا ہے کہ اس کی عدم موجودگی کو عریانیت سے جوڑ دیا ہے۔
علاوہ ازیں :
9۔ ناول میں بار بار خوابوں کا ذکر اور کرداروں کا ان خوابوں پر بھروسا دکھانا کہانی کے تھیم میں ایک بڑی کمزوری ہے۔ دلیل کی جگہ خوابوں کا سہارا لیا گیا ہے۔ جو نہ ثابت ہو سکیں نہ جھٹلائے جا سکیں۔ جب کہ حقیقت یہ کہ بہت کم خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں زیادہ تر انسان کی دبی ہوئی خواہشات اور پوری نہ ہونے والی آرزو کا عکس ہوتے ہیں۔ جب کہ بیماری کی حالت کے خواب خواب بھی نہیں ہوتے ”ہیلوسی نیشنز“ ہوتی ہیں یا پھر ”ڈے ڈریمنگ۔“
10۔ خاندان اور گھر کے بڑوں کو ایسے روپ میں دکھایا گیا ہے جیسے وہ روحانی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہیں ”ولن“ کی طرح پروجیکٹ کیا گیا۔ بالخصوص فاطمہ کے بھائی اور والدین۔
11۔ اس کے ساتھ ہی فاطمہ کے خاندان کا طبقاتی رتبہ ان کے کیے گئے فیصلوں سے میل نہیں کھاتا۔ ایک طرف خاندان نے فاطمہ بی بی کو یہ آزادی دے رکھی ہے کہ وہ ڈرائیور لے کر جہاں مرضی جائے، دوسری جانب یہ برداشت نہیں کہ وہ کسی سے معمولی گفٹس قبول کر لے۔ ایک طرف ماں اپنی بیٹی کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنا رہی ہے کہ وہ انہیں بدنام کر رہی ہے، ساتھ ہی وہ اس کے چادر لینے پر اعتراض اٹھانے لگ جاتی ہیں۔ یہ آخر چل کیا رہا ہے بھائی؟ ان کرداروں کے حالات اور نفسیات کا تقاضا تو کچھ اور ہے مگر کیا کیجے کہ پلاٹ کا تقاضا، سکرپٹ ڈیمانڈ کچھ الگ ہے۔
12۔ امیر لوگ گم راہ ہوتے ہیں، بھٹکے ہوئے ہوتے ہیں۔ غریب ”بائے ڈیفالٹ“ نیک اور دین دار ہوتے ہیں۔ مختلف زاویوں سے یہ بات بار بار ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو عقل اور مشاہدے میں آنے سے انکار کرتی ہے۔
13۔ ناول کا سب سے بڑا فراڈ جو مجھے محسوس ہوا وہ تھا انسان اور رب کے تعلق کو خالق و مخلوق کے خوب صورت تعلق سے نکال کر محض ”غلام اور آقا“ کے خوف صورت تعلق میں تبدیل کر کے دکھانا۔ بار بار غلام اور غلامی جیسے الفاظ سے اللہ اور بندے کے ”آزاد، محبت پر مبنی اور بائے چوائس“ تعلق کو نکال کر ایک جابرانہ اور محکومانہ نکتے کو ذہن میں انڈیلا گیا ہے۔
14۔ عصری تعلیم، یونیورسٹی اور اس کے ماحول کو کئی بار زیر عتاب لایا گیا ہے۔ جیسے یونیورسٹی جانے والی لڑکیاں دین سے دور ہیں۔ اور جو کوئی یونیورسٹی جاتا ہے اس کا ایمان خطرے میں ہے اور وہ برائیوں میں مبتلا رہتا ہے۔ کو ایجوکیشن سسٹم کو نشانہ بنا کر اسے فتنہ کہا گیا۔ حالانکہ فتنہ سسٹم نہیں ذہنیت ہے، اخلاقی پسماندگی ہے۔
15۔ بکلیٹس اور پمفلٹس کی تقسیم کاری کو تبلیغ کا واحد طریقہ سمجھ کر اختیار کیا گیا ہے۔ جب کہ اسلام کی حقیقی تبلیغ لکھے ہوئے مواد کی اشاعت و ترویج نہیں، مسلمانوں کے اخلاق اور کردار کی بہتری میں ہے۔ تھیوری سے کوئی کتنا متاثر ہو گا اور کتنے دن؟ دنیا کی آنکھیں بند ہیں جو ایک ذہنی فرسودہ اور اخلاقی اعتبار سے رو بہ زوال معاشرے کے خدا کی طرف لپکے گی؟
16۔ اسلام 360 ایپ کی فری پرموشن کی گئی ہے۔ ادب میں اس طرح کے اقدام قابل قبول نہیں ہوتے۔ یہ ناول ہے یا یوٹیوب کے مونیٹائز ہوئے چینل کی ویڈیو جہاں پرموشنل ایڈ چل رہے ہیں؟
17۔ مصنفہ نے مرکزی کردار کو کینیڈا کا خوشہ چیں دکھایا اور پھر اسی کے ماحول کو ظاہر پرست بھی کہا۔ فاطمہ کو علاج کینیڈا سے کروانا ہے، جہاں کی میڈیکل سروس تو حلال ہے لیکِن وہاں کی سماجی و سیاسی زندگی حرام ہے۔ یہ کردار کی کمال درجے کی منافقت ہے۔
18۔ فاطمہ کی سسٹر لیزا کے ساتھ وہ گفتگو جس میں وہ قرآن کا تعارف کرواتی ہے لیزا کے مذہبی اعتقاد پر حملہ ہے۔ انتہائی غیر ذمہ داری اور غیر حساسیت سے اس نے لیزا کو جتایا کہ اس کا عقیدہ باطل ہے۔ کسی کے مذہبی جذبات کو ایسے ٹھیس پہنچا کر آپ کیا دکھانا چاہتے ہیں کہ آپ ہی سچے ہیں؟ یا پھر یہ کہ عقیدے کو لے کر آپ ایک نارسسٹ ہیں؟ اپنے مذہب کا تعارف اس کی اخلاقی اقدار اور اس کے آفاقی پیغامات کو پہنچا کر کیا جاتا ہے نہ کہ دوسرے کو یہ بتا کر کہ وہ تو اصلاً نسلاً غلط راہ پر ہے۔
19۔ ناول میں شیطان کا وہی روایتی تصور پیش کیا گیا ہے جو ایسی تحاریر کی خاص بات ہے۔ اپنے ہاتھوں کا کیا دھرا شیطان کے سر تھوپنے، اس کے خود کو بہکا دینے والا تصور۔ کردار اپنے عمل کی ذمہ داری خود لینے کے بجائے شیطان پر ڈالتے دکھائی دیتے ہیں۔ شیطان کا وجود حقیقی ہے مگر سوچ سمجھ کر اور اپنی مرضی سے لیے گئے فیصلوں کو شیطان کے سر منڈھتے رہنا کس قسم کی اخلاقی پاکیزگی ہے؟
20۔ مذہبی تاریخی واقعات کو من گھڑت پیرائے میں بیان کر کے من مانے نتائج اخذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انبیاء کے وہ اعمال جو ایمان نہ لانے والوں کے لیے برتے گئے یہاں اپنے خاندان کے لیے برتنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
21۔ ایک طرف فاطمہ اپنی کلاس فیلو کے برقعے، نقاب، خاموشی اور آنکھوں کے حلقوں سے متاثر ہے تو دوسری جانب شہریار نامی کردار مسجد میں نظر آ جانے والے لڑکے معاذ کی داڑھی، ٹخنوں سے اونچی شلوار، سر کی ٹوپی اور سجدوں میں بھری جانے والی ہچکیوں سے مات کھا گیا ہے۔ وہ اس کے لیے آئیڈیل بن گیا ہے۔ ایک انسان کے اچھا ہونے کا بس یہی معیار ہے؟ اور سچائی، ایفائے عہد، وفاداری، حقوق و فرائض کی ادائیگی، قول کی پاسداری، دوسرے انسانوں کے لیے بے ضرر ہونے جیسی اقدار فالتو اور ثانوی ہیں؟
22۔ شہریار کا اپنی بہن نائلہ کے رشتے اور شادی کی تقریبات پر خیالات اِنتہائی ذلت آمیز ہیں۔ یہ جاننے کے بعد کہ لڑکا انشورنس کمپنی میں کام کرتا ہے تو اس کی سوچ میں در آنے والی بات ملاحظہ کریں : ”وہ اس کے لیے اچھا رشتہ کہاں سے ڈھونڈتا، نہ اس کا سوشل سرکل وسیع، نہ اس کی بہن دین دار۔“ اس نے اپنی بہن میں کون سی بے دینی دیکھی؟ صرف یہ کہ اس کے لیے آنے والا رشتہ ایک انشورنس کمپنی سے منسلک ہے، اور اس نے وہ رد نہیں کیا لہٰذا وہ دین کے دائرے سے خارج ہے؟ اور اس کی دین داری ختم ہو گئی؟ اتنی شدت پسندی! اس کے بعد شادی کے دوران ہونے والے فوٹو شوٹ پر اس کی ناگواری اور سوچ اپنی حدود سے باہر جانا نہیں تھا تو اور کیا تھا؟ اس نے یہ تو جھٹ سے سوال کر لیا کہ: ”عورت دلہن بن کر نمائش کی دکان بن جاتی ہے؟“ لیکن اس کے محرکات پر سوچتے ہوئے اسے تکلیف ہوتی ہے کہ آخر لڑکیاں شادی پر اتنا بنتی سنورتی کیوں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ساری زندگی انہوں نے گھٹ گھٹ کر جی ہوتی ہے۔ وہ کیا پہننا چاہتی ہیں، کون سا رنگ اوڑھنا چاہتی ہیں، کیا پڑھنا چاہتی ہیں اور کیا بننا چاہتی ہیں۔ یہ سب جاننا، سمجھنا اور اس کی آزادی دینا ممنوع ہوتا ہے تو ایسی لڑکیوں نے اپنے ارمان صرف شادی پر ہی نکالنے ہیں۔ ایک یہی موقع آتا ہے جب انہیں ذرا سی اہمیت اور توجہ ملتی ہے۔ اس سے پہلے وہ کچھ بھی کہیں تو کہہ دیتے ہو شادی کے بعد کرنا! کبھی توجہ دی اسے، اس کی رائے اور مرضی کو؟
23۔ پھر اسی موقع پر شہریار کا خدا کو مخاطب کرتے ہوئے یہ سوچنا کہ ”مجھے معاف کر دے، میری بے غیرتی اور بزدلی کی وجہ سے تیرے دین پر نام آ گیا۔“ یہاں مذہبی احکامات کے نفاذ میں ناکامی کو ”بے غیرت پن“ سے جوڑا گیا ہے۔ جو لوگوں کو مذہبی نارسس ازم سکھاتا ہے۔ مذہب کو ذاتی معاملے سے ہٹا کر ایک اجتماعی مقصد میں ڈھالنے اور اس کے لیے تشدد اور جبر کے استعمال کی راہ ہموار کرتا ہے۔ لوگوں کو سکھانا کہ تمہارے گھر والے دین پر تُمہارے والے طریقے کے مطابق عمل نہ کریں تو یہ تمہارے بے غیرت ہونے کی دلیل ہے۔ نتیجتاً لوگ خود کو غیرت مند ثابت کرنے کے لیے کسی بھی حد سے گزر جاتے ہیں۔
24۔ سب سے اہم نکتہ جس پر غور کریں تو رائٹر کی کل محنت پر پانی پھر جاتا ہے۔ کیوں کہ اس کا ایجنڈا ضائع ہو جاتا ہے۔ وہ ایسے کہ اس نے بار بار عبایہ کی اہمیت ایسے بیان کی کہ اس سے عورت ڈھک چھپ جاتی ہے، بری نظر سے دور رہتی ہے اور مومن مرد بے پردہ عورت کو دیکھنے کے فتنے میں مبتلا ہونے سے بچ جاتے ہیں۔ یہ بات درست لگتی ہے مگر صرف تب تک جب تک شہریار کو قرۃ العین دکھائی نہیں دیتی۔ رائٹر سے سوال ہے کہ قرۃ العین تو مکمل چھپی ہوئی تھی تب بھی شہریار نے اسے دیکھا تو وہ اس کی طرف متوجہ ہوا، اس سے اٹریکٹ بھی ہوا؟ وجہ؟ وجہ مجھے معلوم ہے لیکن بہتر ہے میں وہ بیان نہ کروں، آپ خود سوچ لیں یا رائٹر ہی بتا دے۔ یقیناً وہ یہی کہے گی کہ یہ حلال اٹریکشن ہے۔ ”حلال اٹریکشن تھیوری“ بنا فتنے کے۔
ان تمام حوالہ جات سے واضح ہوتا ہے کہ ”رب سے جڑنے کا سفر“ میں شدت پسندی کا اظہار:
فکر میں سختی
ظاہر پرستی
اندھے عقیدے
مخالف رویوں کی تذلیل
اور خوف پر مبنی روحانیت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ایسے ناول تخلیقی نہیں بلکہ نظریاتی ایجنڈا کی تبلیغ کا ذریعہ ہیں، جو ادب کی وسعت اور تنوع (ورائٹی) کو محدود کرتے ہیں۔
5۔ تحریر یا Manoeuvering؟
اس ناول کو نہ تخلیقی ادب کہا جا سکتا ہے، نہ ہی فکری یا نظریاتی ادب۔ اس کی بنیاد درحقیقت جذباتی چالاکی (manoeuvering) اور نفسیاتی اثر اندازی (manipulation) پر ہے۔
ان چند نکات پر دھیان دیں :
1۔ تخلیق نہیں، چالاک ترتیب ہے :
ادب تخلیق ہوتا ہے وہ زندگی کی پیچیدگیوں کو علامتی پیرائے میں تجربے، مشاہدے اور سوال کے ساتھ برتتا ہے۔ یہاں معاملہ الٹا ہے۔ کردار ایک ایجنڈے کے تحت بُنے گئے ہیں، نہ کہ اندرونی کشمکش یا انسانی تضاد کے ساتھ۔
مکالمے برجستہ یا فطری نہیں بلکہ جیسے پہلے سے لکھے گئے خطبات ہیں۔
پلاٹ ایک تبلیغی مہم کی طرح سیدھا، سطحی اور مقصدی ہے، جس میں قاری کے لیے کوئی مفہوم اخذ کرنے کی آزادی نہیں چھوڑی گئی۔
2۔ نظریہ نہیں، ذہنی قابو پانے کی کوشش ہے :
نظریاتی ادب فکری دباؤ نہیں ڈالتا، بلکہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہاں قاری کو جذباتی بلیک میل کیا جاتا ہے (مثلاً: آنسو، خواب، لرزتے ہاتھ، توبہ کے مناظر) پڑھنے والے کو بار بار کہا جاتا ہے : اگر تم نے یہ نہ کیا تو اللہ ناراض ہو جائے گا، تم نافرمان ہو، تم جہنم کی طرف جا رہے ہو۔
کرداروں کی ایک قطار قاری کو شعوری نہیں، بلکہ نادم اور محکوم بنا دیتی ہے۔ یہ دراصل manipulative religiosity ہے جس میں رب سے تعلق دل سے نہیں، دباؤ اور شرمندگی سے جڑتا ہے۔
3۔ آزادی نہیں، جذباتی گرفت:
ادب کا کمال یہ ہے کہ وہ قاری کو سوچنے، اختلاف کرنے، اور خود کچھ اخذ کرنے کا موقع دے۔ مگر یہاں قاری کے لیے صرف ایک راستہ ہے : وہی جو قرة العین نے دکھایا۔ فاطمہ کی ہر نجات، ہر سکون، صرف نقاب، قرآن، اور جذباتی ٹوٹ پھوٹ سے وابستہ ہے۔ جس قاری کی زندگی اس سانچے میں نہیں آتی، وہ لاشعوری طور پر احساسِ گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
یہ ادب نہیں، ذہنی گرفت ہے جیسے قاری کو ’کنڈیشن‘ کیا جا رہا ہو۔
4۔ مانوس دکھا کر ذہن بدلنے کی چال:
ناول کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ روزمرہ زندگی، یونیورسٹی، رشتے، فیشن، جذبات، اور دوستی جیسے موضوعات سے قاری کو قریب لاتا ہے۔ اور پھر آہستہ آہستہ اس پر ایک سخت دینی سانچہ مسلط کر دیتا ہے بغیر اس کے کہ وہ اس سانچے کو پرکھے یا سوال کرے۔ یہ manoeuvering ہے آہستہ سے قاری کے فہم کو ہائی جیک کر لینا۔
یہ ایک خاص ذہنی سانچے کی مارکیٹنگ ہے۔
”رب سے جڑنے کا سفر“ جیسی تحریریں اصل میں وہ ہوتی ہیں جو خوف اور جذبات کے امتزاج سے قاری کو ڈھالتے ہیں، نہ کہ اس کی فکری نشوونما کرتے ہیں۔ یہ:
بیانیے کی اجارہ داری
توبہ کی تجارتی ترسیل
روحانیت کی ریڈی میڈ پیکجنگ ہے۔
اور اسے ادب کہنا ادب کے ساتھ نا انصافی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ایسی کتابیں کیوں لکھی اور پڑھی جاتی ہیں؟
کیوں کہ اس معاشرے میں مذہب ایک کاسمیٹک ہے اور اسے ثقافت، سیاست، معیشت، تاریخ اور ادب سمیت جہاں بھی جوڑتے ہیں تو مانگ اور قدر بڑھ جاتی ہے لہٰذا ایسے ناول دھڑا دھڑا لکھے جاتے ہیں۔
بہت سے قارئین، خاص طور پر نوجوان خواتین، جنھیں زندگی میں خالی پن، بے سکونی، بے مقصدیت یا اخلاقی کشمکش کا سامنا ہوتا ہے، وہ ایسے ”ہدایت نامے“ کو کشش کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ مذہب سے قربت ان کی محرومیوں کا علاج بھی ہے اور انعام بھی۔
دوسری جانب ہمارا مزاج تحقیق، تلاش اور جستجو سے خالی ہے تو اس کمی کو ہم مذہبی ٹچ سے پورا کرتے ہیں۔ سائنسی نظریات پر سوچ بچار ہمیں جنت نہیں دلائے گی، چوری مواد کے غلط تشریحات پر مبنی اسلامی ناولز لکھنا، خریدنا اور پڑھنا ہمیں ثواب جاریہ کا حق دار بنائے گا۔
تیسری ممکنہ وجہ روحانیت کی طلب ہے۔ جو کم فہمی میں ایسی تحریروں کے مطالعے کی طرف لے جاتی ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے انہیں پڑھنے سے روحانی ترقی نصیب ہوگی۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا جیسا کہ یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بک پر موجود ”اسلامی فکشن“ صفحات اور چینلز پر ان ناولوں کو مسلسل فروغ ملتا ہے۔
ایسی تحریریں پڑھنے والے کو تنقیدی سوچ سے دور کرتی ہیں۔ یہ ایک فکس قسم کے تصورِ دین کو فروغ دیتی ہیں، جس میں متنوع اسلامی فکر (ورائٹی آف تھاٹ) ، ثقافت اور بنیادی و فطری انسانی کمزوریوں کو تسلیم کرنے سے قاصر ہے۔ قاری یہ سمجھ لیتا ہے کہ ہدایت صرف ایک ہی طرزِ زندگی میں ممکن ہے، اور دیگر تمام راستے گمراہی ہیں جو تعصب اور عدم برداشت کو جنم دیتا ہے۔
یہ ناول قاری کو خود احتسابی کے بجائے ظاہری تبدیلیوں پر زور دیتا ہے، جو وقتی اثر رکھتا ہے مگر دیرپا شعور نہیں دیتا۔
