کیا ہم مستقبل کی ضروریات کے مطابق تعلیم فراہم کر رہے ہیں؟


اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلیم حاصل کرنا بہت ضروری ہے مگر اس بات کا خیال رکھنا بھی نہایت اہم ہے کہ تعلیم ایسی دی جائے جو موجودہ دور کی ترقی کی بہترین انداز میں عکاسی کرتی ہو۔ اگر ہم فقط ماضی کی ترقی، ادب و سائنس پڑھتے رہیں تو یقیناً ہم ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہونے سے قاصر ہی رہیں گے۔ ہمارا حال ماضی سے بہت بدل چکا ہے۔ ہم اس دور میں رہ رہے ہیں جہاں انسانوں کی مشقت کم اور مشینری کا کام زیادہ ہے۔

پاکستان جیسے معاشرے کا نظامِ تعلیم ہمیشہ سے ایک سوالیہ نشان ہی رہا ہے۔ اگر میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی تعلیم کی بات کی جائے تو یہاں دہائیوں سے ایک ہی نصاب چلتا آ رہا ہے۔ جبکہ ہر دن نئی سے نئی ٹیکنالوجی منظر عام پر آ رہی ہے۔ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ تک کے عرصے میں ہر ایک طالب علم کو زبردستی کچھ مضامین ایسے پڑھائے جاتے ہیں جو طالب علم کی ذہنی سوچ کو مفلوج کر دیتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کے نظام تعلیم پر اگر ایک طائرانہ نظر دوڑائی جائے تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ وہ پانچوں جماعت تک طالب علم کی نفسیات اور دلچسپی کو بھانپ کر اسے وہیں لے جاتے ہیں جہاں اس کے خوابوں کی تعبیر ممکن ہوتی ہے۔ ہمارے یہاں انٹر میڈیٹ پاس طالب علم کو یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اس کے پاس اپنے مستقبل کے انتخاب کے لیے کون کون سے راستے میسر ہیں۔

حکومت پنجاب کی جانب سے ابھی ایک کوشش تو کئی گئی ہے کہ میٹرک کے نصاب میں طلباء کے لیے اپنا مستقبل کے بہتر انتخاب کے لیے نئے مضامین متعارف کروائے گئے ہیں۔ یہ کاوش تو قابلِ صد تحسین ہے کہ چلیں کچھ نیا دیکھنے کو ملا ہے مگر یہ نیا نصاب اور مضامین پڑھانے والے وہی لوگ ہیں جو ماضی کے تعلیم یافتہ ہیں اور انہیں ان نئے مضامین کے متعلق آگاہی ہی نہیں ہے تو ایسے میں کیا خاک وہ طلباء کے مستقبل کی بہتر بنیاد رکھ پائیں گے۔ حکومت نے جیسے نصاب میں تبدیلی لائی ہے وہیں اسے نئے اساتذہ بھی رکھنے چاہیے تھے جو بہتر طریقے سے اور جدید تقاضوں کے عین مطابق طلباء کو رہنمائی فراہم کرتے۔ اس کی مثال کچھ یوں ہے کہ جیسے گاڑی کی باڈی تو تبدیل کر دی گئی ہے مگر انجن وہی پرانا ہے۔

موجودہ دور میں کچھ علوم ایسے ہیں جن کا حاصل کرنا نہایت ضروری ہے۔ جیسا کہ کمپیوٹر۔ ترقی اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں اکثر طلباء سولہ سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی کمپیوٹر چلانے میں ناکام ہیں۔ دنیا اتنی تیزی سے جدت کی جانب گامزن ہے کہ ہر چیز اور ہر کام کمپیوٹر سے لیا جا رہا ہے اور یہاں طلباء اسی سے نا آشنا ہیں۔ ہمیں ایسا نصاب لانے کی ضرورت ہے جہاں اول دن سے ہی بچوں کو چھوٹے پیمانے پر کمپیوٹر کی اہمیت و افادیت سے روشناس کروایا جا سکے۔

آج جس دور میں ہم رہ رہے ہیں وہ مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کا دور ہے۔ اور یہ مصنوعی ذہانت اس قدر حیرت انگیز اور جدید ہے کہ ہسپتالوں میں روبوٹ انسانوں کی سرجری کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دیگر کئی جگہوں پر انسانوں کی جگہ روبوٹ لے چکے ہیں۔ جبکہ ہمارا نظام تعلیم اور سوچ دہائیوں پرانی ہے۔ ہمارے اکثر طلباء دنیا کی اس ترقی اور ٹیکنالوجی سے بالکل نا آشنا ہیں۔ یہاں طلباء ابھی ترقی کی دوڑ میں شامل ہی نہیں ہوئے جنہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ کمپیوٹر کیسے چلانا ہے اور اے آئی کو کیسے استعمال کرنا ہے وہ کیسے ترقی کی دوڑ جیتنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

دوسرا اہم مسئلہ اس ملک میں یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اگر کسی مضمون میں بی ایس، ایم فل یا پی ایچ ڈی کر بھی جاتا ہے تو آگے اس کے پاس کوئی روزگار کا راستہ نہیں ہے۔ آج لوگ اچھی اچھی ڈگریاں ہاتھوں میں اٹھائے دس پندرہ ہزار کی پرائیویٹ نوکری کرنے پہ مجبور ہیں۔ حکومت ایسے پڑھے لکھے طبقے کے بہتر روزگار کے لیے کوشاں نظر نہیں آتی۔ ایک شخص جو لاکھوں روپے خرچ کر کے سائنس کے کسی مضمون میں اپنی ڈگری مکمل کرتا ہے اور اس کے بعد اس کے متعلقہ شعبے میں اسے کوئی نوکری ملنے کی امید نظر نہیں آتی تو وہ آخر کس جانب جائے گا۔

ہمارے یہاں زیادہ تر تعلیم نوکری کے حصول کے لیے حاصل کی جاتی ہے تاکہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد کسی اچھی جگہ نوکری مل جائے اور زندگی کو آسائش و آرام کے ساتھ گزارا جا سکے اور اگر اعلیٰ تعلیم یا ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی اس کے لیے روزگار کے دروازے بند ہوں اور اسے کوئی ٹھیلہ لگا کر اپنا پیٹ پالنا پڑے تو پھر عین ممکن ہے کہ مستقبل قریب میں کوئی بھی شخص اعلیٰ تعلیم اور ڈگریوں کی ضرورت محسوس کیے بغیر اول روز سے ہی کسی ہنر یا کاروبار کے چکر میں پڑ جائے تو پھر یہ المیہ ہو گا کہ اس ملک کا مستقبل نا جانے کن ہاتھوں میں جائے گا اور اس کی باگ ڈور کون سنبھالنے میں کامیاب ہو گا۔

اگر زبان دانی پر طلباء ڈگریاں حاصل کرتے ہیں تو مستقبل ان کا بالکل تاریک نظر آتا ہے۔ آج اردو زبان جو کہ ہماری قومی زبان ہے میں کوئی ایم فل یا پی ایچ ڈی کر چکا ہے تو وہ آگے کیا کرے گا سوائے لیکچرر بننے کے۔ اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی راستہ ہی نظر نہیں آتا۔ اور دوسری جانب اردو ادب اور قومی زبان کی آبیاری اور ترویج کے لیے کوئی خاص کام ہوتا بھی نظر نہیں آتا بلکہ قومی زبان سے محبت کرنے والوں کے لیے مزید مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔

قومی زبان اردو میں پی ایچ ڈی کرنے والے شخص پر طعن و تشنیع کی جاتی ہے کہ وہ بین الاقوامی زبان انگریزی سے ناواقف ہے سو اس لیے ہمارے یہ کسی کام کا نہیں ہے۔ قومی زبان میں پی ایچ ڈی کرنے والے کا یہ ہولناک مستقبل دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ کہیں اردو ادب وفات ہی نہ پا جائے اور مستقبل قریب میں ہماری قومی زبان کا انتقال بھی نہ ہو جائے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اردو یا انگریزی ادب کو ایک مقام حاصل ہے مگر حالات حاضرہ دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ مستقبل میں زبانوں اور سوشل سائنسز کی ڈگریاں لینے والے لوگ کس جانب جائیں گے۔ ترقی یافتہ ممالک نے ہمیشہ اپنے ادب کو ترقی دینے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ ہماری حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ بھی عالمی معیار کا نصاب یہاں متعارف کروائے اور ہر مضمون میں مہارت حاصل کرنے والے طالب علم کے نصاب میں وہ کچھ ایسے مضامین شامل کرے جن سے ان کا مستقبل تاریک ہونے کی بجائے روشن دکھائی دے اور وہ مستقبل میں آنے والے ہمہ قسم کے حالات میں خود کو ڈھال کر اپنی زندگی کو بآسانی جی سکیں۔ وگرنہ ہم ترقی کی دوڑ میں تو پہلے ہی شامل نہیں ہیں اور مزید یہ کہ مستقبل میں آنے والے ٹیکنالوجی کے مزید انقلاب میں ہمارا جینا دو بھر ہو جائے گا۔

Facebook Comments HS