تنہا: سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول (3)
آواز اب پھر تیز او ر اونچی ہو رہی تھی۔
برہم پتر اور جمونا میرے پرانے ساتھی۔ وہ ڈوبا، ابھرا اور پھر ڈوبا۔ باریسال کے ساحل تو اسے عشق تھا۔ صاحب رائے سے نوکے (کشتی) کو روز کھے کر ساحل تک لانے میں اسے کبھی دقت محسوس نہ ہوئی تھی۔ اور جزیروں کی اس چھوٹی سی بستی میں جہاں پانی نسبتاً کم گہرا ہوتا وہ مچھلیاں پکڑا کرتا اور ان کے جال میں پھنس جانے پر نوکے میں اچھلا کرتا۔
عجیب سی بے چینی اس پر طاری ہوئی۔ دل کی دھڑکنوں کے بہت قریب بسنے والا کوئی یاد آیا۔
”باریسال پہنچے ہو کیا؟“ محسن اسے کمرے کے وسط میں یوں اضطراری حالت میں کھڑے دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ اسے گھر یاد آ رہا ہے۔
”کبھی کبھی یہ دوری بہت کھلنے لگتی ہے۔ “ وہ اُداسی سے مسکرایا۔ تب محسن نے بھتیجی کو آواز دی۔ وہ اس کی اداسی کم کرنا چاہتا تھا۔
وہ رکی۔ نگاہیں اٹھا کر دروازے کی طرف دیکھا جہاں سے آواز اندر داخل ہوئی تھی۔ محسن چچا ڈیوٹی سے آ گئے ہیں۔ وہ خود سے بولی اور باہر کی طرف بھاگی۔
”نذرل چچا“ ۔
اس لڑکی کی آنکھیں خوشی سے چمکیں۔ وہ سیدھی آئی اور اس کے پھیلے بازوؤں میں گر گئی۔ اس کی براق سی پیشانی پر اس نے شفقت سے بوسہ دیا اور مسکراتے ہوئے بولا:
”تم تو پاگلوں کی طرح سبق رٹتی ہو۔“
اور وہ بھی بڑی ڈھٹائی سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔
”نذرل چچا! یہ تاریخ جغرافیہ اللہ قسم زہر لگتا ہے ہمیں۔ بس جی چاہتا ہے کتاب پھاڑ دوں۔“
”نیک کام کرنا چاہتی ہو۔“ وہ بھی مسکرایا۔
بی بی جان اندر آئیں۔ اس کے شانوں پر محبت بھرا ہاتھ پھیرا۔ گھر سے خط کے بارے میں استفسار کیا۔ ماں بھائی بھاوج اور بھتیجوں کی خیریت دریافت کی اور اتنے دنوں سے نہ آنے کا گلہ کیا۔
وہ دھیمے دھیمے ان سے باتیں کرتا رہا۔ ان سے باتیں کرنے میں اسے بہت اپنائیت محسوس ہوتی۔ اگرچہ ان کے درمیان سب سے اہم مسئلہ زبان کا تھا۔ وہ پنجابی اتنی ہی سمجھ سکتا جتنا محسن کی یہ بھاوج اُردو۔ بہت سی باتوں کی وضاحت محسن کرتا۔ پھر بھی یہ اسے اپنی بھاوج ہی کی طرح نظر آتی، مشفق اور مخلص سی۔ انہوں نے کچھ کہا تھا۔ سومی اور محسن ان کی غلط اُردو بولنے پر ہنس رہے تھے۔ وہ جھینپتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔
”ارے کیا کروں نگوڑی بولنی جو نہیں آتی۔“
تب اس نے سوچا۔ محبت کی کوئی زبان نہیں۔ یہ سب پر ارفع ہے اسے اپنے
اظہار کے لئے کسی بھی وسیلے کی ضرورت نہیں۔ یہ اگر ہو تو ظاہر ضرور ہوتی ہے۔ آدمی اسے دیکھتا، محسوس کرتا اور پہچانتا ہے۔ اور پورے یقین سے اسے کے وجود کو تسلیم کرتا ہے۔
تب وہ کھانے کے کمرے میں آئے۔ وہیں وہ بھی تھی۔ سرمئی دوپٹے کے ہالے میں گندمی چہرہ لپیٹے۔ اس نے پہلے اسے دیکھا اور پھر محسن کو۔ مستقبل کے اس جوڑے کو اس کے دل نے آنکھوں کے ساتھ سراہا۔ اور ان کی کامیاب زندگی کے لئے دعاگو ہوا۔ اس نے جب اس سنجیدہ سے لڑکے کو جو اس نٹ کھٹ شیطان لڑکی کا اکلوتا بھائی تھا۔ وہاں نہ دیکھا تو پوچھا کہ
”غزالی کدھر ہے؟“ اور محسن نے بتایا کہ وہ آج کل گاؤں گیا ہوا ہے۔
گھریلو ماحول میں اس نے خوب سیر ہو کر کھایا۔ کتنے دنوں بعد کھانے میں ہاتھ کا استعمال کیا تھا۔ طبیعت مطمئن ہو گئی تھی۔
”اچھا تو تم مجھے اپنا سبق سناؤ اب۔“ وہ اطمینان سے کرسی پر بیٹھ گیا اور بولا۔
اور اس نے سبق اٹک اٹک کر سنا ہی دیا۔
” نقشہ دیکھنا آتا ہے۔“ اُس نے پوچھا۔
”ہاں۔“ وہ بہت فخر سے بولی تھی۔
”تو لاؤ دیکھتے ہیں تمہیں کتنا کچھ آتا ہے۔“
وہ بھاگ کر اپنی الماری سے اٹلس نکال لائی اور پھر چٹکی پھٹکی میں اس نے تینوں بڑے دریا مشرقی پاکستان کے نقشے پر دکھا دیے۔
”اچھا ذرا اسے پڑھو۔“ نذرل اسلام نے نقشے پر ایک جگہ انگلی رکھی۔
وہ جھکی اور کچھ دیر بعد گردن اوپر اٹھائی اور قدرے ہچکچاتے ہوئے بولی:
”باریسال۔“
” تم نے شیر بنگال کا نام سنا ہے؟“
ہونٹوں کو اس نے دانتوں سے کاٹا۔ نذرل چچا کو ایک نظر دیکھا اور قدرے تذبذب سے بولی۔
”نہیں تو۔“
”مولانا محمد علی جوہر کے متعلق کچھ جانتی ہو؟“
وہ مسکرائی اور اس بار بھی گردن نفی میں ہلا دی۔
”یہ ہمارے بچے ہیں جو اپنے قومی ہیروز کے متعلق کچھ جانتے ہی نہیں۔ کل ان سے نظریہ پاکستان کے متعلق پوچھا جائے گا تو انہیں کیا معلوم ہو گا۔“ اس نے دور بیٹھے محسن
کو مخاطب کیا۔
پھر اس نے اُسے اے کے فضل الحق، علی برادراں، علامہ اقبال، ناظم الدین اور قائداعظم کے بارے میں ڈھیر ساری باتیں بتائیں۔ چھوٹی چھوٹی دلچسپ باتیں جنہیں سن کر اسے یوں محسوس ہوا کہ تاریخ بہت دلچسپ مضمون ہے۔
”سومی! باریسال فضل الحق کا شہر ہے اور میں بھی یہیں کا رہنے والا ہوں۔“
اپنے نذرل چچا کا گھر دیکھنے کے لئے وہ دلچسپی سے نقشے پر جھکی، پر اس کے اردگرد نیلی لکیریں دیکھ کر گھبراتے ہوئے بولی۔
”نذرل چچا! آپ یہاں کیسے رہتے ہیں یہاں تو دریا ہی دریا ہیں۔“
وہ بہت حیران ہوئی یہ جان کر کہ ان کے گھر جانے کے لئے کوئی ریلوے لائن اور سڑک نہیں۔ وہ بس دریا سے آتے جاتے ہیں۔
” اللہ کیسے آتے جاتے ہوں گے اور جو ڈوب جائیں تو۔“ اسے بہت ڈر لگا۔
اور محسن اس سے کچھ پرے بیٹھا تازہ ڈاک کا ایک خط بہت غور سے دیکھ رہا تھا اور گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہ اس کے مزارع کا خط تھا جس نے اسے لگان اور مالیہ کی ادائیگی کے لئے پیسے بھیجنے کو کہا تھا۔
اب وہ نذرل سے کہہ رہا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اتنی رقم کا بندوبست کہاں سے کروں۔ ”ہاں یہ ٹھیک ہی تو کہتا ہے۔“
اس نے سوچا۔ اس گھر کا سربراہ ہونے کی وجہ سے اس کی اور بھی تو بہت ساری
ذمے داریاں ہیں۔ پچیس سالہ اس لاپروا سے نوجوان کو جو اس حالت میں بہت ہی ذمہ دار نظر آ رہا تھا۔ اس نے دکھ اور ہمدردی سے دیکھ اور سوچا۔ متوسط طبقے کے مسائل ہر جگہ ایک جیسے ہیں۔ یہ لمبا چوڑا گھرانا تو اس کا اور بھی شکار ہے۔ جہاں رشتہ داریاں آپس میں بہت الجھی الجھائی ہیں۔ تقسیم میں جہاں یہ اپنا سب کچھ لٹا آئے ہیں۔ وہاں اپنے خاندان کے سربراہ سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔
غزالی اور سومی کے یتیم ہونے کے ساتھ ساتھ محسن، احسن، ان کی بہنیں اور ماں بھی ایک طرح سے یتیم ہو گئی ہیں۔ پر ان کی بھاوج بہت حوصلہ مند خاتون ہے۔ ان کے بھائی جو محسن اور احسن کے پھوپھی زاد ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی دو عدد بہنوں کے شوہر بھی ہیں۔ پاک فضائیہ میں اونچے عہدوں پر ہیں۔ ان کی معاونت نے اس خاندان کو تباہ ہونے سے بچا لیا ہے۔ محسن اپنی بھاوج سے بہت مانوس ہے اور اپنی ماں سے بھی بڑھ کر پیار کرتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے ہی ان سب بہن بھائیوں کو پرورش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ غزالی اور سمیعہ ان سب بہن بھائیوں کو بہت پیارے ہیں اور ان کے مستقبل کے متعلق ان کے عزائم بہت اونچے ہیں۔
جاری ہے۔


