لکھنوی معاشرت اور طوائفیں
ہندوستان میں لکھنو ایک انتہائی دل فریب تہذیب کا مرکز رہا اس تہذیب میں نواب، امیر و غریب لوگ، محل، طوائفیں، مغلانیوں، اناؤں، مرغ بازی بٹیر بازی وغیرہ شامل ہیں تاریخی طور پر اس تہذیب کو شاہان اودھ کے دور میں بسایا گیا۔ لکھنو میں طوائفوں کو ایک خاص مقام حاصل تھا جو ان کے ہاں ایک تہذیبی علامت بھی سمجھی جاتی اس کا کوٹھا ایک مکمل تہذیب کو اپنے ہاں جگہ دیتا ہے طوائف بازی کا لفظ بعد میں رائج ہوا جبکہ لکھنو میں جنسی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے تماش بینی جیسے لفظ استعمال ہوتے تھے اور انھیں پیشہ ور عورتوں میں بلند مقام و مرتبہ رکھنے والیوں کو طوائف کہا جاتا ان طبقوں میں ایک طبقہ زنان خانگیوں کا بھی تھا غدر کی تباہی کے بعد کئی شرفا کے گھر تباہ ہوئے تو ان میں سے بہت سی عورتوں کو جسم فروشی کا پیشہ اختیار کرنا پڑا اور طبقاتی نظام کے دور میں یہ باقاعدہ ایک صنف کی حیثیت حاصل ہو گئی خانگیاں گھروں کے اندر ہی چھپے سے کام کرتی اور کسی بھی تماش بین کو دس یا پندرہ منٹ سے زیادہ وہاں ٹھہرنے کی اجازت نہ ہوتی اسی طرح ان میں دوسری قسم زنان بازاری یعنی رنڈیوں کا وجود ہے ان کی خصوصیت یہ تھی کہ عورتوں لکھنو میں آ کر بس گئی اور یہاں کی زبان کو بھی (Adopt) کیا ان کے گھر صاف ستھرے تھے شام کو نہا دھو کر قیمتی اور خوشنما لباس پہن کر اپنے کوٹھوں پر آ جاتیں شرفا ان کے پاس بلا تکلف چلے جاتے رسم زمانہ کے مطابق یہاں تہذیب کا مکمل خیال رکھا جاتا تھا ہر آنے والا اجازت طلب کر کے ہی اندر آتا انھیں میں کئی ایسی تھیں جنھیں فن موسیقی میں مہارت تھی اور انھیں خصوصیت کی بدولت انھیں امرا و عمائدین کے ہاں مجروں پر بلایا جاتا تھا جنسی تعلقات بہرحال متعدد ملاقاتوں کے بعد قائم ہوتے اور وہ معقول مدت معینہ کے لیے مقرر تنخواہ پر ہوا کرتے تھے کسی بھی نئی اور معروف رنڈی کو دلالوں کی مدد سے اپنے ہاں بلا لیا کرتے تھے راہ و رسم پیدا ہونے کے بعد ہی جنسی تعلق پیدا ہوتے ان میں پست درجے والی عورتوں کو ٹکابیوں کے نام سے پہچانا جاتا جو رنڈیوں اور بالخصوص ڈیرے دار طوائفوں سے علیحدہ رہتیں ان عورتوں کا واسطہ پست کاروباری لوگوں سے پڑتا تھا
ڈیرے دار طوائفیں ان میں خاص اہمیت رکھتی تھیں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے مورث خیمے ڈیرے ہمراہ لائے تھے اور انھوں نے اپنی علیحدہ چھاؤنی قائم کی اور لکھنو میں سکونت اختیار کر لی اور جسم فروشی کا پیشہ اختیار کر لیا ایسی عورتیں کو ڈیرہ دار کہلانے لگیں بلکہ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ طوائفیں اجتماعات مثال کے طور پر محرم، چہلم اور متعدد میلوں میں شرکت کرنے جاتیں تو کسی قریبی میدان میں اپنا ڈیرہ نصب کر کے وہیں اپنی نشست گاہ بنا لیتی تھیں یہ طوائفیں بہت مہذب اور سلیقہ مند تھیں ان میں سے بعض رقص و موسیقی اور شاعری پر بھی دسترس رکھتیں ان کا زندگی گزارنے کا طریقہ رہن سہن شریفانہ تھا گھروں سے باہر نکلنا گھومنا اور بالا خانوں پر بیٹھنا فعل قبیح تھا جنسی تعلقات میں یہ طوائفیں ضرورت سے زیادہ محتاط تھیں یہ طوائفیں کسی ایک رئیس یا زیادہ سے دو تین رئیسوں کی ملازمت کر کے اپنی زندگی بسر کرتی تھیں اور آخری عمر میں کسی شریف سے عقد کر کے باقی زندگی گزار لیتیں روسا اور عمائدین کی علاوہ شہر کے تمام معززین سے ان طوائفوں کی ملاقات ہوتی ان کی خاص بات یہ تھی کہ یہ خود کسی کے پاس نہیں جاتی تھیں روسا اور شرفا حسن اخلاق کی تعلیم کے لیے اپنے بچوں کو ان کے گھروں میں بھیجتے بقول مرزا جعفر حسین ”چودھرائن کا محلہ شرفا و روسا کے لڑکوں کے لیے ایک اچھا خاصا مکتب تھا“ ان بچوں کو یہاں اٹھنے بیٹھنے گفتار و تہذیب کے سارے رموز سکھائے جاتے یہ ساری تربیت مذہبی عصبیت اور تنگ نظری سے بالکل پاک تھی لیکن بدلتے سماج اور نئی تہذیب نے ان کی شناخت کو مسخ کر دیا اور یہ پیشہ آہستہ آہستہ ختم تو ہوا مگر آج بھی معاشرے میں کسی اور شکل میں موجود ہے-


