پاکستان بھر میں بچھائے گئے نیرو گیج اور میٹر گیج ٹریکس کی کہانی
4) ماڑی انڈس۔ لکی مروت برانچ لائن ؛
92 کلومیٹر لمبی یہ ٹرانس انڈس ریلوے لائن ویسے تو ضلع میانوالی کے داؤد خیل جنکشن سے پختونخوا کے ضلع لکی مروت تک جاتی تھی لیکن چونکہ داؤد خیل جنکشن سے ماڑی انڈس تک کا ٹریک براڈ گیج ہے سو ہم آگے کے ٹریک کا ذکر کریں گے۔ ماڑی سے چھوٹی ریل کالا باغ کا پل پار کر کے کالاباغ اسٹیشن پہنچتی تھی۔ اِس پُل کی بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ جب خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع لکی مروت، ٹانک اور بنوں کو ریلوے لائن کے ذریعے پنجاب کے علاقوں سے منسلک کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تو کالاباغ کے مقام پر ایک پُل کی ضرورت محسوس کی گئی جس پر سے ریل گزاری جا سکے۔
نارتھ ویسٹ ریلوے کے افسر ڈبلیو۔ ڈی کروکشینک کی 1929 میں مرتب شدہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس پُل کے لیے 1888 سے سروے شروع کر دیے گئے۔ جبکہ 1919 سے 1924 تک تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے۔ آخر کار 1927 میں اس منصوبے کی منظوری دے کر کام شروع کر دیا گیا۔ یہ پل صرف ریل کے گزرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا جس پر پیدل چلنے والوں کے لیے کوئی انتظام نہ تھا۔ اِس نے سندھ کے مشرق میں چوڑے گیج کی لائن کو مغرب میں واقع 2 فٹ 6 انچ کی تنگ لائن سے منسلک کرنا تھا۔ پل کا بنیادی مقصد ریل کو لاہور سے آگے بنوں اور کوہاٹ سے لے کر وزیرستان تک پہنچانا تھا تاکہ برطانوی افواج کو رسد مہیا کی جا سکے۔
مگر ہماری بدقسمتی کہ 1990 میں ریل کے نظام پر اسی پل کے مقام پر ”پُل اسٹاپ“ لگا دیا گیا یعنی ماڑی سٹیشن جو عین اس پل کے مشرقی حصے پر واقع ہے وہاں تک ریل کا سفر محدود ہو گیا۔ اس پل کو ٹھیک اس جگہ بنایا گیا ہے جہاں سے دریائے سندھ پہاڑیوں سے نکل کر میدانی علاقے میں داخل ہوتا ہے۔ 1929 کے سیلاب کے بعد پل کا ڈیزائن بدلا گیا اور اسے ماڑی انڈس کی طرف سے خشکی پر اور لمبا کر دیا گیا۔ ماڑی اور کالاباغ کو ملانے والا یہ پل ایوب خان کے دور تک پختونخوا اور پنجاب کی سرحد پر تھا مگر بعد میں بنوں کی ایک تحصیل عیسیٰ خیل کو میانوالی کے ساتھ ملا دیا گیا اور یہ صوبہ پنجاب کی جھولی میں آ گیا۔ جو ٹریک ماڑی سے لکی مروت تک بچھایا گیا تھا اس کی چوڑائی صرف اڑھائی فٹ تھی اور اس پل کی تعمیر بھی ٹریک کے مطابق ہی کی گئی تھی۔ 1995 تک یہاں سے مسافر ٹرین لکی مروت اور بنوں تک جاتی رہی جسے بعد ازاں مستقل طور پر بند کر دیا گیا۔ عیسیٰ خیل سے آگے درہ تنگ کے مقام پر دریائے کرم پر ایک خوبصورت پل بنایا گیا تھا جس سے کچھ آگے پختونخوا کا بارڈر شروع ہو جاتا ہے۔ 2018 میں جب میں یہاں گیا تو یہ پُل پہاڑوں کے بیچ قدرے بہتر حالت میں موجود تھا اب نجانے اس کا کیا حشر ہوا ہو گا۔
داؤد خیل سے ماڑی انڈس تک کا دس کلومیٹر ٹریک اب بھی فعال ہے جبکہ اس سے آگے کا تمام نیرو گیج ٹریک اکھاڑ دیا گیا ہے۔ اس برانچ لائن پر داؤد خیل جنکشن، ماڑی انڈس، کالاباغ، کمرمشانی، تراگ، عیسیٰ خیل، ارسالا خان اور لکی مروت جنکشن کے اسٹیشن آتے تھے۔ 2019 میں جب کالاباغ کا اسٹیشن ڈھونڈتے ڈھونڈتے میں وہاں پہنچا تو دل درد سے پھٹ گیا۔ ایک بند پڑی عمارت جس کا رنگ اڑ چکا تھا لیکن اس کے ماتھے پر ہلکے رنگ سے لکھا کالاباغ اب بھی دیکھا جا سکتا تھا۔ اس اسٹیشن کا علاقہ بچوں کے کھیلنے کا میدان بن چکا ہے لیکن تنگ گیج کی پٹڑی نے کہیں کہیں اپنا وجود برقرار رکھا ہے۔
5) ژوب ویلی ریلوے ؛
یوں تو بلوچستان کی ہر لائن اور اسٹیشن دلچسپ اور عجیب ہے لیکن ژوب وادی ریلوے لائن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر یہ آج بھی چل رہی ہوتی تو بلاشبہ کسی عجوبے سے کم نہ ہوتی۔
762 ملی میٹر (یعنی 2 فٹ 6 انچ) چوڑائی کے ساتھ یہ پاکستان کا طویل ترین نیرو گیج نظام تھا۔ موجودہ شمالی بلوچستان کے اضلاع ژوب، قلعہ عبداللہ اور پشین کو کوئٹہ سے ملانے والی ژوب ویلی ریلوے 298 کلومیٹر تک پھیلی تھی جس پہ بوستان، خانائی، خانوزئی، زرغون، چورمیاں، کان مہتر زئی، مسلم باغ، قلعہ عبداللہ، آلوزئی، شمزئی، مسافر پور اور ژوب کے اسٹیشن واقع تھے۔ یہ اس خطے کا سب سے طویل نیرو گیج ٹریک تھا جو جسے 1985 میں بند کر دیا۔ 2008 تک اسے مکمل طور پہ اکھاڑ دیا گیا تھا البتہ کہیں کہیں کچھ متروک شدہ اسٹیشن دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ پاکستان کے ان چند ریلوے ٹریکس میں سے تھا جہاں ندی نالے، وادیاں، پہاڑ اور برف باری دیکھی جا سکتی تھی۔ اس ٹریک کے بارے میں مصنف رضا علی عابدی اپنی کتاب ریل کہانی میں لکھتے ہیں کہ ؛
”کوئٹہ کے شمال میں بوستان سے ژوب تک تقریباً 296 کلومیٹر لمبی یہ لائن صحیح سلامت ہوتی تو ریلوے کے عجائبات عالم میں شمار ہوتی۔ دنیا میں ڈھائی فٹ چوڑی یہ سب سے لمبی لائن تھی۔ اس کے راستے میں کان مہتر زئی کا سٹیشن آتا تھا جو سمندر کی سطح سے 7221 فٹ اونچائی پر ہے اور یہ نارتھ ویسٹرن ریلوے کا سب سے اونچا اسٹیشن تھا۔ برصغیر کی تقسیم سے پہلے 499 اَپ سہ پہر کو بوستان سے چلتی تھی اور رات بھر پہاڑوں، دریاؤں اور وادیوں کا سفر طے کر کے اگلی دوپہر سے ذرا پہلے فورٹ سنڈیمن پہنچتی۔ پھر وہاں سے 500 ڈاؤن شام پانچ بجے کے تھوڑی دیر بعد روانہ ہوتی اور اگلی دوپہر بوستان پہنچتی۔ کبھی کبھی برفانی طوفان آ جاتے تو گاڑی راستے میں پھنس جاتی اور ٹرین کا سارا پانی جم جاتا۔ جاڑوں میں ڈبے گرم رکھنے کا کوئی بندوبست نہیں تھا صرف ریلوے کے افسر اپنے ڈبوں میں تیل کے چولہے جلاتے تھے۔ 1970 میں اس لائن پر اتنی زیادہ برف گری کہ اس کی مثال نہیں ملتی اس وقت بوستان اور ژوب کے درمیان ہفتے میں صرف ایک مسافر گاڑی چلا کرتی تھی۔
برف باری کے دوران ایک ٹرین چلی جا رہی تھی جو کان مہتر زئی کے قریب برف میں دھنس گئی۔ ڈرائیور اور فائرمین نے لاکھ چاہا کہ گاڑی کو نکال لے جائیں مگر بے سود۔ اخر وہ تھک ہار کر بیٹھ گئے اور مدد کا انتظار کرنے لگے۔ اب تصور کیا جا سکتا ہے کہ اسٹیشن ماسٹروں نے تار بھیجنے کے لیے اپنے قدیم آلات پر کس طرح جھنجھلا کر اپنے سر پٹخے ہوں گے۔ یہ تو معلوم نہیں کہ امداد کا پیغام کوئٹہ یا چمن پہنچ سکا یا نہیں البتہ یہ ضرور معلوم ہے کہ امداد نہ پہنچ سکی۔ برف میں دھنسی ہوئی ٹرین وہیں کھڑی رہی۔ مسافر نکل کر کسی طرح سڑک تک پہنچے اور جیسے بھی بنا اِدھر اُدھر چلے گئے۔ سنا ہے کہ بوستان سے ایک امدادی انجن چلا تھا وہ بھی کہیں برف میں دھنس کر رہ گیا۔ کہتے ہیں کہ آسمان کو چھونے والی یہ ریلوے لائن کئی روز بعد کھلی تھی۔
پھر یہ ہوا کہ ماہ مئی 1985 میں ہفتہ وار گاڑی ژوب سے بوستان پہنچی۔ اسے دھویا گیا اور سنوارا گیا کیونکہ اگلے ہفتے اسے واپس جانا تھا مگر وہ اگلا ہفتہ پھر کبھی نہیں آیا۔ بظاہر چھوٹی سی مگر انجینئری کی یہ شاہکار ریلوے لائن اجڑ کر رہ گئی۔ یا یوں کہیے کہ اسے اجڑنے کے لیے قدرت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا کہتے ہیں کہ آج کے جدید زمانے میں کوئی مصر کے اہرام دوبارہ بنانا چاہے، نہیں بنا سکتا۔ بالکل وہی حال اس بے یار و مددگار پڑی ہوئی ریلوے لائن کا ہے۔ اب شاید کوئی اس میں نئی روح پھونک نہ سکے۔ نہ ہوتی تو رنج بھی نہ ہوتا۔ تھی، اور اسے مر جانے دیا گیا۔ کتنا بڑا خسارہ ہوا، کتنا بڑا خسارہ۔
یہ لائن ہندو باغ سے معدنیات لانے کے لیے ڈالی گئی تھی بعد میں کسی کو اس سے دلچسپی نہیں رہی غالباً اسے ٹھیک ٹھاک رکھنے پر بھاری خرچا آنے لگا، فالتو پرزے ملنے بند ہو گئے، علاقے کے لوگوں نے ٹکٹ خریدنے کی زحمت ترک کر دی لہذا اس پوری لائن کو زنگ کھانے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ اب اس کے پل گر چکے ہیں پٹریوں کے نیچے سے مٹی بہہ گئی ہے اور خود پٹڑیاں نشیبوں میں جھول رہی ہیں (اب مکمل اکھاڑ لی گئی ہیں)۔ ”
جاری ہے۔





