خواب رنگ اور شہزاد رائے


Writing and Outlining

 

چند دن قبل معروف سماجی کارکن اور گلوکار شہزاد رائے نے میرے والد کی ایک غزل کو اپنی آواز دی۔ آج اسی نسبت سے میں اور میرا چھوٹا بھائی سید ذریون ایلیا شہزاد رائے کی دعوت پر زندگی ٹرسٹ کے زیرِ انتظام اسکول گئے۔ ہم نے وہاں نہ صرف ایک ادارہ دیکھا بلکہ خوابوں کی تعبیر کی ایک روشن جھلک بھی دیکھی۔

زندگی ٹرسٹ ایک غیر منافع بخش فلاحی تنظیم ہے جو پاکستان میں تعلیم کے فروغ بالخصوص بچیوں کی تعلیم پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ ہم جب اسکول پہنچے تو چھٹی ہو چکی تھی بچیاں ہنستی مسکراتی ایک دوسرے سے باتیں کرتی ہوئی اپنے گھروں کو لوٹ رہی تھیں۔ ہمیں دیکھ کر کئی ننھی طالبات نے تہذیب سے سلام کیا۔ ان کے چہروں پر جو اعتماد اور خوشی تھی وہ کسی ترقی یافتہ معاشرے کی تصویر پیش کر رہی تھی۔

زندگی ٹرسٹ کی ایک ہمدرد اور پرخلوص رکن طوبیٰ ہمارے ساتھ تھیں۔ ان کی رہنمائی میں ہم نے اسکول کے مختلف حصوں کا دورہ کیا۔ ایک کلاس میں داخل ہوئے تو بچیوں نے نہ صرف ہمیں پرجوش انداز میں خوش آمدید کہا بلکہ بتایا کہ آج انہوں نے کون سا سبق پڑھا۔ یہ کوئی رسمی ملاقات نہ تھی۔ آنکھوں میں چمک لیے یہ بچیاں ہمیں بتا رہی تھیں کہ علم صرف الفاظ کا ذخیرہ نہیں بلکہ روشنی ہے طاقت ہے پہچان ہے۔

اس کے بعد ہم آرٹ روم میں گئے۔ یہ ایک ایسی دنیا تھی جو خوابوں اور سوالوں سے بھری ہوئی تھی۔ بچیوں نے اپنی محنت سے خوب صورت فن پارے تخلیق کیے تھے۔ دیواروں پر مونالیزا اور فریدا کہلو کی پینٹنگز نے جہاں ایک عالمی تناظر کا رنگ بکھیر رکھا تھا وہیں بچیوں کی تخلیقی سوچ کو بھی اجاگر کیا تھا۔ جو چیز سب سے زیادہ دل کو چھو گئی وہ ایک خاص بورڈ تھا جس پر بچیوں نے وہ باتیں وہ جذبات تصویروں کے ذریعے بیان کیے تھے جو وہ کسی سے کہہ نہیں پاتیں۔ کسی نے اپنے خواب اور کسی نے خاموشی کی زبان میں اپنے اندر کی گونج کو صفحے پر اتارا تھا۔ یہ تخلیق یہ جرات زندگی کے اس سبق کا حصہ ہے جو کتابوں سے نہیں احساس سے پڑھایا جاتا ہے۔

زندگی ٹرسٹ کے اسکول میں صرف تعلیم ہی نہیں ذہنی صحت پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے۔ بچیوں کے ساتھ ذہنی صحت پہ گفتگو کی جاتی ہے ان کے جذبات کو سنا جاتا ہے سمجھا جاتا ہے۔ آرٹ اور موسیقی کے ذریعے انہیں خود کو اظہار کا موقع دیا جاتا ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ صبح کا ناشتہ بھی ایک nutritionist کی نگرانی میں فراہم کیا جاتا ہے تاکہ جسمانی صحت کے ساتھ ذہنی توانائی بھی بحال رہے۔ یہ چھوٹا سا عمل دراصل ایک بڑے خواب کی تکمیل ہے ایک متوازن انسان کی پرورش۔

میوزک روم میں بچیاں موسیقی سیکھتی ہیں ساز بجاتی ہیں۔ یہ ذہنی نشوونما کا وہ پہلو ہے جو روایتی اسکولوں سے غائب ہو چکا ہے۔

زندگی ٹرسٹ نے اپنے اسکول میں جو فضا قائم کی ہے وہ کسی انقلاب سے کم نہیں۔ شہزاد رائے اور ان کی ٹیم نے بہت عمدہ کام کیا ہے۔ جہاں تعلیم فن صحت اور خودی کی تعمیر ایک ساتھ ہوتی ہے۔ ان کے کام کو صرف سراہا نہیں جا سکتا بلکہ اس پر فخر کیا جانا چاہیے۔

جب ہم اسکول سے نکلے تو یہ دل چاہا کہ ایسے ادارے ایسی سوچ اور ایسے خواب دیہات اور بستیوں میں عام ہو جائیں تو وہ دن دور نہیں جب علم و فن کی روشنی ہر گھر میں جگمگائے گی۔

Facebook Comments HS