جادوئی تھر کا سفر: سندھ کے چھپے ہوئے خزانوں کی کھوج قسط (2)


ہمارا سفر نئے جوش کے ساتھ شروع ہوا جب کراچی سے مزید مہمان ہمارے قافلے میں شامل ہوئے۔ ہماری اگلی منزل پاکستان ہندوستان سرحد کے قریب واقع گوگاسر، ایک پوشیدہ جواہر۔ کیا خوبصورت منظر تھے بارش کے بعد صحرا سبزے سے بھرپور تھا۔ ہر طرف ناچتے مور ریت پر بھاگتے اونٹ صحرا کی وسعت سبزہ اور کہیں کہیں آبادی کے آثار۔ سانپ کی طرح چلتی سڑک ہمیں صحرا کے بیچ و بیچ گوگا سر لیے جا رہی تھی۔ آنکھیں اس خوبصورت منظر کو ہمیشہ کے لئے جذب کر لینا چاہتی تھیں۔ لیکن منزل تک پہنچنے سے پہلے، ہمیں قاسبوکے گاؤں میں ایک انوکھا تجربہ درپیش تھا۔ راستے میں ہم نے قاسبوکے گاؤں میں پاؤں رکھا۔ یہاں کا منظر کسی لوک کہانی جیسا تھا گاؤں کے تمام مردوں نے ہمارا استقبال کیا اور ہمیں ایک بڑے ہال کمرے میں بٹھایا جہاں بزرگوں نے گرم چائے، بسکٹ اور خشک میوے پیش کیے۔ یہ محض مہمان نوازی نہیں بلکہ ایک رسم تھی۔ جب ہم روانہ ہوئے تو گاؤں کے تمام بزرگوں نے ہماری گاڑیوں کے ساتھ کھڑے ہو کر ہمیں رخصت کیا ان کی محبت ناقابل بیان ہے۔

شام تک ہم گاؤں مہربانو کے قریب پہنچے، جہاں پر ہماری گاڑیاں کھڑی کر کے ہمیں جیپوں کے ذریعے گوگا سر لے جایا گیا۔ مہمان نواز حاجی عطا نے ہمیں انتہائی پر تکلف روایتی انداز میں رات کا کھانا پیش کیا۔ شام کی خاص بات سرحد کا دورہ تھا جہاں پر سرحد پار سے سیکیورٹی کے لئے لگائی گئی بہت بڑی بڑی خار دار تار اور اس پر ایک لمبی قطار میں روشنیوں کے جھرمٹ نے ریت کو جگمگا دیا۔ واپسی پر نرم بستر ہمارے انتظار میں تھے اور اوپر سے گائے کے گھنٹوں کی آواز نے ہمیں فوراً نیند کی آغوش میں ڈال دیا۔ شکیل بوبرہ سیاست اور جہانزیب شاہ اور شوکت بھائی کاروبار پر بہت دیر تک میزبانوں کے ساتھ گپ شپ میں محو رہے۔ صبح صبح ہمیں موروں کی آواز نے جگایا۔ رات کے پرتکلف کھانے کی طرح ہی پرتکلف ناشتے نے ہمیں نئی توانائی دی۔ روانگی سے پہلے میزبانوں نے ہر مسافر کو اجرک اور رلی تحفے میں دے کر رخصت کیا۔

اگلا غیر متوقع پڑاؤ چھاچھرو تھا، جہاں ہمارے میزبان حاجی رزاق سومرو کی صحت کی خبر لینے کے لئے رکے حاجی صاحب نے اوطاق میں ہمیں بٹھایا اور کھانا لگوا کر ہی ملنے آئے تاکہ مہمان کھانے سے انکار نہ کر سکیں۔ سومرو ہاؤس کا دوپہر کا کھانا لذیز روایتی پکوانوں پر مشتمل تھا۔ اس کے بعد سفر دوبارہ شروع کیا اور ہم نے تھر کول پروجیکٹ راستے میں جاتے جاتے دیکھا۔ ریگستان میں اتنا بڑا کوئلے سے بجلی کا منصوبہ جو باہر سے آنے والوں کو خواب محسوس ہوتا اب جاگتی آنکھوں اسے دیکھ کر سب حیران تھے۔ اس منصوبہ نے تھر کی قسمت ہی بدل دی ہے تھر کی سڑکیں، ہسپتال، عجائب گھر، اور تاریخی عمارتوں کی نگہداشت قابل ستائش ہیں۔

ڈھلتی دوپہر کو ہم نے گوری کا مندر دیکھا یہ منظر بھی کسی تصویری خاکے کی طرح محسوس ہوئے، گوری کا مندر ہی وہ مقام تھا جہاں مقامی موسیقاروں نے بھجن گائے۔ میں نے میاں شعیب اور تنویر درانی نے اس روایتی موسیقی پر خوب رقص کیا۔ پھر ہم ماروی کے کنویں پر گئے، جہاں کنویں اور اس سے منسلک عجائب گھر میں سندھ کی ثقافت کی جھلک دیکھی۔

شام کو ہم تھکاوٹ سے چور نگر گیسٹ ہاؤس پہنچے، جہاں بہترین بریانی، بار بی کیو نے ہمارا استقبال کیا اور ہمُ نے بستر سنبھالا اور اگلے دن نگر پارکر اور تھرپارکر کے گاؤں کے سفر کی تیاریوں کی بات چیت کے ساتھ دن کا اختتام ہوا۔

قسط 3 میں ہم نگر پارکر کے گاؤں، مٹھی کے شہر، رات کی محفلوں اور ریگستان کے رازوں سے ملیں گے تب تک کے لیے سفر جاری ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر معظم خان درانی

ڈاکٹر معظم خان درانی شعبہ بشریات، اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور میں استاد ہیں اور نور محل میوزیم کی تزئین و آرائش میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ یونیورسٹی آف کیمریج کے ماہسا پرجیکٹ ساتھ مل کر تاریخ کو جدید تناظر جمع کرنے پر کام کر رہے ہیں

moazzam-khan-durrani has 9 posts and counting.See all posts by moazzam-khan-durrani