بیٹے مانگے جاتے ہیں


یقین تو نہیں آتا لیکن 2025 میں بھی پاکستان میں اور شاید جنوبی ایشیا میں وہ لوگ موجود ہیں جو بیٹیوں پر بیٹوں کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں کہ اللہ تعالی ان کو بیٹے سے ہی نوازے اور اس ضمن میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھا جاتا کہ بھئی کوئی کمی رہ جائے دعا میں عمل میں کہ بیٹا پیدا نہ ہو اور بیٹی پیدا ہو جائے۔ جس گھر میں بیٹیاں پیدا ہوتی ہیں تو وہاں پہ اللہ تعالی کا کرم ہوتا ہے یوں کہ وہ پروردگار کے حکم سے پیدا ہوتی ہیں اور بیٹے مانگے جاتے ہیں اپنی جبیں متعدد آستانوں پر رگڑی جاتی ہیں تب کہیں جا کے بیٹے پیدا ہوتے ہیں اور جب یہ بیٹے پیدا ہو جاتے ہیں۔ تو بھی صورتحال تبدیل نہیں ہوتی بیٹیوں کو نظر انداز کر کے ان کو کسی بھی طرح سے کم ثابت کر کے بیٹوں کے گرد چکر کاٹے جاتے ہیں ان کی بہتری کے لیے اور ان سے جڑے اپنے نادیدہ روشن مستقبل کے لیے ہر ممکن کوششیں کی جاتی ہیں۔

گزشتہ دنوں ماضی کی ایک مشہور اداکارہ زیبا شہناز کے انٹرویو کا ایک چھوٹا سا کلپ نظروں سے گزرا جس میں وہ یہ بتا رہی ہیں کہ ان کے گھر میں ان کی والدہ مرغی کے سالن میں سے مرغی کی ٹانگ ہمیشہ اپنے بیٹے کی پلیٹ میں ہی رکھتی تھیں اور ان کو مرغی کی ٹانگ نہیں ملتی تھی اس وقت مذکورہ اداکارہ کی عمر 60 سال سے اوپر ہوگی اور اس واقعے کو بھی بہت طویل عرصہ گزر چکا ہے لیکن اس واقعے کو دہراتے ہوئے ان کی انکھوں میں سے آج بھی آنسو رواں ہو گئے اور وہ باقاعدہ رو پڑیں کہ میرے دل سے یہ تکلیف نہیں جاتی کہ میری والدہ نے میرے ساتھ اس درجے کی نا انصافی کی، اس درجے کا غیر انسانی سلوک کیا۔ ہمارے معاشرے میں انگنت لڑکیاں، میں سب نہیں کہہ رہی مگر ان کی تعداد پھر بھی خاصی زیادہ ہے جو اسی قسم کی صورتحال سے گزرتی ہیں اس میں خاص طور پہ یہی صورتحال نہیں ہوتی کہ مرغی کی ٹانگ نہیں دی جاتی بس بیٹیوں کو کہیں نہ کہیں جانے انجانے نا انصافی کا سامنا ضرور کرنا پڑتا ہے جس سے ان کی شخصیت میں ان کے اعتماد میں ہمیشہ کے لیے ایک دراڑ پڑ جاتی ہے اور اس پہلو سے والدین بھی واقف ہوتے ہیں لیکن وہ اس حقیقت سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کی جو تربیت اور ایک طریقہ رہا ہے جہاں پہ ہمیشہ سے ہی بیٹیوں کو کم تر گردانا جاتا رہا اور بیٹیوں کی اہمیت کو کم سمجھا جاتا تھا اس کے برعکس بیٹوں کو اہم سمجھا جاتا ہے اور بیٹی پر بیٹوں کو فوقیت دی جاتی ہے۔

اب زمانہ بہت بدل رہا ہے تیزی سے بدل رہا ہے اقدار بدل رہی ہیں کچھ لوگوں کی سوچ میں بھی تبدیلی آ رہی ہے لیکن اس سب کے باوجود بیٹوں کی اہمیت میں کہیں کمی نہیں آ رہی لوگ آج بھی بیٹوں کو ترجیح دیتے ہیں اور بیٹیوں کی بہ نسبت بیٹے مانگتے ہیں کہ پروردگار ہمیں بیٹے سے نواز دے ایسی صورتحال میں بہت ساری ایسی باتیں سننے کو ملتی ہیں جو کہ بہت تکلیف دہ ہوتی ہے اور ان کی تکلیف لمحاتی نہیں ہوتی بلکہ ان کی تکلیف ایسی ہوتی ہے جو تمام عمر محیط رہتی ہے اور اس سے گزرنے والی شخصیت اور فرد کبھی بھی اس کے اثرات سے نہیں نکل پاتا وہ کہیں نہ کہیں اسی ٹراما میں رہتا ہے کہ اس نے اتنی شدید تکلیف اٹھائی یہ تکلیف جسمانی نہیں ہوتی، یہ تکلیف ذہنی ہوتی ہے، یہ تکلیف نفسیاتی ہوتی ہے اور اس لیے اس تکلیف کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں ایسے بھی لوگ پائے جاتے ہیں جو بیٹوں اور بیٹیوں کی باقی تمام چیزوں میں تو فرق کرتے ہی ہیں لیکن یہ لوگ بیٹوں اور بیٹیوں کو دعا دینے میں بھی فرق کرتے ہیں کہ بیٹوں کے لیے دعا کے الفاظ یکسر مختلف ہوتے ہیں اور جو دعا بیٹی کو دی جاتی ہے اس کے الفاظ یکسر مختلف ہوتے ہیں تو جب تضاد اس حد تک موجود ہو کہ آپ کے والدین دعا دینے میں بھی انتخاب کریں کہ یہ دعا بیٹی کو دے رہے ہیں اور یہ دعا بیٹے کو دے رہے ہیں تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ والدین دیگر معاملات میں کس نوعیت کا انصاف کر رہے ہوں گے۔

ہمارے معاشرے کا المیہ تو یہ ہے کہ یہاں پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ بیٹیاں آج یا کل بیاہ کر چلی جائیں گی اور اپنے نئے گھر کو بسائیں گی اپنی نئی فیملی کا خیال رکھیں گی اور پیچھے جو ان کے والدین رہ جائیں گے وہ ان کا خیال نہیں رکھیں گی لہذا اس بنیاد پر بیٹے کی تعلیم و تربیت پرورش پر پیسہ خرچ کرنے والے والدین یہ سمجھتے ہیں کہ اس پیسے کا نعم البدل ان کو مل جائے گا لیکن جو پیسہ وہ بیٹی پہ خرچ کریں گے وہ ضائع ہو جائے گا کیونکہ وہ دوسرے گھر چلی جائے گی اور اپنے وجود سے اپنے تعلیم سے جو فائدہ پہنچائے گی وہ دوسرے گھر والوں کو ہو گا وقت نے اس سوچ کو بھی غلط ثابت کر دیا اب بہت ساری بیٹیاں ایسی ہیں جو والدین کو نہ صرف مالی طور پر سپورٹ کر رہی ہیں بلکہ بیٹوں کے ہوتے ہوئے بھی والدین بیٹیوں کے پاس ہی رہتے ہیں، بیٹیوں کے ساتھ ہی رہنا پسند کرتے ہیں اب ہمارے معاشرے میں جو اچھے پڑھے لکھے کوالیفائیڈ لڑکے ہیں اگر ان کی بیرون ملک ڈیمانڈ ہے تو ان میں سے اکثریت ملک سے باہر جا کے ہی رہنا پسند کرتی ہے اس طرح سے وہ بہت سارے خاندانی مسائل، الجھنوں، لڑائی جھگڑوں سے بھی دور ہو جاتے ہیں اور علیحدہ گھر بھی مل جاتا ہے اور اپنے ذمہ داریوں سے بھی بچے رہتے ہیں اور اس صورت میں بھی بیٹوں کے ہونے کے باوجود بیٹیوں کی ہی ذمہ داری ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے والدین کا خیال رکھیں جہاں ان کو ضرورت ہو وہ موجود رہیں۔ اس پہلو سے اگر ہم دیکھیں تو اس وقت ہمارے معاشرے میں بہت سارے ایسے والدین ہیں جو یا تو تنہا رہ رہے ہیں یا بیٹیوں کے ساتھ رہ رہے ہیں کیونکہ ان کے بیٹے بیرون ملک منتقل ہو چکے ہیں۔ ان میں اگر کوئی اچھے بیٹے ہیں تو وہ اپنے والدین کو فائنینشلی سپورٹ کر دیتے ہیں ورنہ دیگر مسائل کو بیان کرتے ہوئے اس ذمہ داری سے بھی بہ آسانی عہدہ برا ہو جاتے ہیں۔

بات سمجھنے کی ہے کہ ہم اولاد میں بیٹے بیٹی کی تفریق کر کے ایک ننھی سی کلی کو کھلنے سے پہلے مرجھانے پہ مجبور کر دیتے ہیں اور یہ کلی جب ایک دفعہ مرجھا جاتی ہے پھر کوئی بہار اس میں رنگ و خوشبو نہیں پیدا کر سکتی۔ کوشش کریں کہ اپنی اولاد میں تفریق نہ کریں، اللہ نے جو ذمہ داری اپ کے اوپر ڈالی ہے اس کو پوری ذمہ داری سے اور انصاف سے پورا کریں کیونکہ آپ سے قیامت کے روز اس کی بابت سوال کیا جائے گا۔

Facebook Comments HS