موجودہ سیاسی و عسکری صورتحال
پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس کے اثرات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے اور عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
22 اپریل 2025 کو بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر ہندو سیاح شامل تھے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جسے پاکستان نے مسترد کر دیا۔ اس کے بعد بھارت نے ”آپریشن سندور“ کے تحت پاکستان اور آزاد کشمیر میں نو مقامات پر فضائی حملے کیے، جن میں بھارت کے مطابق دہشت گردی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ پاکستان کے مطابق ان حملوں میں 26 شہری ہلاک اور 46 زخمی ہوئے۔ پاکستان نے جوابی کارروائی میں پانچ بھارتی جنگی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ بھارت کے بزدلانہ حملے میں 26 معصوم شہری شہید اور 46 زخمی ہوئے ہیں۔ بھارت کی غلط فہمی کو ٹھیک کر دیا جائے گا۔
ایک بیان میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت نے 6 اور 7 مئی کی تاریکی میں پاکستان پر بزدلانہ حملہ کیا، بھارت نے 6 مقامات پر حملے کیے۔
انہوں نے کہا کہ احمد پور شرقیہ میں مسجد سبحان اللّٰہ کو نشانہ بنایا گیا، حملے میں 13 شہری شہید ہوئے، مریدکے مسجد کو نشانہ بنایا گیا جس میں 3 افراد شہید اور ایک زخمی ہوا جبکہ مظفرآباد پر حملے کے نتیجے میں 3 شہری شہید ہوئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ اور شکر گڑھ میں جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔ مساجد اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا بھارتی تنگ نظری کی عکاسی کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب تک افواج پاکستان نے بھارت کے حملہ کرنے والے 5 طیارے مار گرائے ہیں، افواج پاکستان نے 3 رافیل اور ایک مگ طیارہ مار گرایا ہے، پاکستان نے بھارتی طیاروں کو اس وقت مار گرایا جب وہ حملہ کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ بھٹنڈا، جموں، سری نگر سمیت مختلف علاقوں میں بھارتی طیارے تباہ کیے، بھارت کا ایک کمبیٹ ڈرون بھی مار گرایا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بھارت رات سے ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ کر رہا ہے، بھارتی جارحیت کا جواب دیا جا رہا ہے اور دیا جاتا رہا ہے، بھارتی حملے میں پاک فضائیہ کے تمام طیارے اور اثاثے محفوظ ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ گزشتہ روز میڈیا کو ایل او سی کا دورہ کروایا گیا، بھارت کی غلط فہمی کو ٹھیک کر دیا جائے گا، بھارت کی آبی جارحیت کے سنگین نتائج ہوں گے، پاکستان نے صرف دفاع کا حق استعمال کیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کو نقصان پہنچانا ناقابل قبول ہے، ہمارا دشمن بزدل اور کمزور ہے، بھارت پاکستان کے پانی کے ذخائر کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔
اقتصادی اثرات
اس کشیدگی کا دونوں ممالک کی معیشت پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ عالمی سرمایہ کاروں میں بے چینی بڑھ رہی ہے، اور بھارتی روپے اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے، جبکہ پاکستان کی معیشت، جو پہلے ہی مہنگائی اور قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، مزید دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔ اگر جنگ کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو دونوں ممالک کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حکومتوں کے لیے ممکنہ اقدامات
سفارتی روابط کی بحالی: دونوں ممالک کو فوری طور پر سفارتی روابط بحال کرنے چاہئیں تاکہ مسائل کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔
اعتماد سازی کے اقدامات: اعتماد کی بحالی کے لیے دونوں ممالک کو مشترکہ اقدامات کرنے چاہئیں، جیسے کہ تجارتی روابط کی بحالی اور ثقافتی تبادلے۔
دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی: دونوں ممالک کو دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانی چاہیے تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جا سکے۔
عالمی برادری کا کردار
اقوام متحدہ، امریکہ، چین، روس اور دیگر عالمی طاقتوں نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرے اور کشیدگی کو کم کرنے میں مدد فراہم کرے۔
ممکنہ نتائج اور خطرات
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے بڑھنے سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر یہ کشیدگی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان ہو گا بلکہ علاقائی اور عالمی معیشت بھی متاثر ہوگی۔ دونوں ممالک کے جوہری طاقت ہونے کے باعث یہ صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔ بلاشبہ، پاکستان آرمی دنیا کی ایک منظم اور پیشہ ور فوج سمجھی جاتی ہے، جو ہر خطرے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم، پائیدار امن کا قیام صرف طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ سفارتی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔


