سماجی جبر ریاستی جبر سے زیادہ خطرناک ہے


 

”سماجی جبر ریاستی جبر سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتا ہے“ کالم کا یہ عنوان جان اسٹورٹ مل کی کتاب On Liberty سے ماخوذ ایک فکر انگیز جملے پر مبنی ہے۔ یہ کالم جان اسٹورٹ مل کے اس انتباہ سے آغاز لیتا ہے کہ اصل استبداد صرف حکومت نہیں بلکہ وہ سماج ہوتا ہے جو سوچنے کا حق چھین لیتا ہے۔

یعنی جب کوئی جبر ریاست، قانون یا پولیس کے ذریعے نہیں بلکہ رسم رواج، مذہب، ثقافت یا ”اکثریتی رائے“ کے نام پر کیا جائے تو وہ زیادہ گہرا اور خطرناک ہوتا ہے کیونکہ وہ مزاحمت کی گنجائش تک ختم کر دیتا ہے۔ یہ جملہ ہمیں خبردار کرتا ہے کہ سماجی دباؤ ایک خاموش جیل اور قید ہے جس میں انسان اپنی مرضی سے سوچنے جینے اور بولنے سے ڈرنے لگتا ہے۔

جمہوریت بھی استبداد اور مطلق العنانی میں بدل سکتی ہے اگر اکثریت اپنے نظریات سماجی سطح پر اقلیت پر تھوپنے لگے۔

حقیقی آزادی صرف قانون کے ذریعے تحفظ کا نام نہیں بلکہ سماجی قبولیت اور فکری آزادی کا نام بھی ہے۔

انیسویں صدی کا برطانیہ صنعتی انقلاب، نو آبادیاتی توسیع اور جمہوریت کی ابتدائی لہر سے گزر رہا تھا۔ ایسے دور میں جب آزادی کا مطلب صرف ریاستی و سیاسی جبر سے نجات سمجھا جاتا تھا معروف فلسفی اور سیاسی مفکر جون اسٹورٹ مل نے 1859 ء میں ”On Liberty“ کے عنوان سے ایک ایسی کتاب لکھی جس نے فرد کی آزادی کے مفہوم کو ایک نئی فکری سمت عطا کی۔ یہ کتاب محض ایک فلسفیانہ مقالہ نہیں تھا بلکہ فرد اور سماج کے تعلق کی ایک گہری تفہیم بھی تھی جو آج کے پاکستان جیسے گھٹن زدہ سماج کے لیے بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہ امر واضح رہے کہ جے۔ ایس مل کو پوسٹ کالونیل مفکر نہیں کہا جا سکتا کیونکہ وہ نو آبادیاتی دور کے برطانوی فلسفی تھے اور ایسٹ انڈیا کمپنی سے وابستہ رہے تھے۔ ان کے نزدیک غیر یورپی اقوام پر قبضہ جائز تھا جسے وہ ”تہذیبی مشن“ سمجھتے تھے۔ تاہم ان کی فکر جیسے ”Harm Principle“ ، آزادیٔ اظہار اور انفرادیت بعد میں پوسٹ کالونیل تنقید کے لیے اہم نکات بنے۔ وہ خود اگرچہ نو آبادیاتی نظام کے ناقد نہیں تھے مگر ان کے نظریات کو تنقیدی انداز میں پڑھ کر نو آبادیاتی جبر اور لبرل آزادی کے تضادات کو سمجھا جا سکتا ہے۔

مل کا بنیادی سوال یہ ہے کہ ریاست یا سماج کسی فرد کی آزادی کو محدود کرنے کا حق کس بنیاد پر رکھتا ہے؟ مل اس کا واضح اور سادہ جواب ”Harm Principle“ ”ہارم پرنسپل“ کی شکل میں دیتے ہیں۔ یعنی کسی فرد کی آزادی کو صرف اسی صورت میں روکا جا سکتا ہے جب اس کا عمل دوسروں کو نقصان پہنچا رہا ہو۔ یہ اصول فرد کو اپنی ذات، خیالات، طرزِ زندگی حتیٰ کہ غلطی کرنے کے حق تک کی آزادی دیتا ہے بشرطیکہ وہ دوسروں کے حقوق پامال نہ کرے۔ مل نے اپنی ”Harm Principle“ کو فرد کی آزادی کی حدود کے تعین کے لیے ایک بنیادی اصول کے طور پر پیش کیا۔ یہ اصول آج بھی جدید سیاسی و سماجی فکر میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

مل لکھتا ہے کہ

”کسی مہذب سماج کے کسی بھی فرد پر اس کی مرضی کے خلاف طاقت صرف اسی وقت استعمال کی جا سکتی ہے جب اس کے عمل سے دوسروں کو نقصان پہنچ رہا ہو“

اس تحریر میں جائزہ لینے کی کوشش کی جائے گی کہ ہارم پرنسپل ہوتا کیا ہے اور اس کی کیا خصوصیات ہیں۔

یہ اصول فرد کی خودمختاری کی بات کرتا ہے۔ یعنی ہر شخص کو اپنی ذات، جسم اور ذہن پر مکمل اختیار حاصل ہے۔ جب تک کسی فرد کا عمل دوسروں کو نقصان نہیں پہنچا رہا ریاست یا سماج مداخلت کا حق نہیں رکھتا۔

یہ اصول ذاتی اور دوسروں سے متعلقہ اعمال کی وضاحت کرتا ہے۔

ذاتی اعمال (Self۔ Regarding) یعنی وہ افعال جو صرف فرد کو متاثر کرتے ہیں ان پر سماجی یا ریاستی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔

دوسروں کو متاثر کرنے والے اعمال (Other۔ Regarding)

ایسے افعال جو دوسروں کو نقصان پہنچائیں۔ ان پر مداخلت جائز ہو سکتی ہے۔ یہ اصول غلطی کرنے کی آزادی دیتا ہے۔

مل کا موقف ہے کہ اگر کوئی فرد اپنی مرضی سے غلط فیصلہ کرتا ہے تو جب تک وہ کسی دوسرے کو نقصان نہیں پہنچا رہا اسے ایسا کرنے کی آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ یہی خیالات کی آزادی طرزِ زندگی اور اظہار پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ مل اخلاقی اور سماجی ترقی کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ مل کے مطابق فرد کی آزادی ہی دراصل سماجی ترقی، تخلیقی صلاحیت اور اخلاقی شعور کی بنیاد ہے۔ جبر اور یکسانیت معاشرے کو جمود اور پسماندگی کی طرف دھکیلتے ہیں۔

ایسے سماج میں جہاں مذہب کی مخصوص یک طرفہ تشریح، روایت اور ”سماجی اخلاقیات“ کے نام پر افراد کی آزادی محدود کی جاتی ہے ہارم پرنسپل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ صرف ”اختلاف“ یا ”روایت سے ہٹ کر سوچنا“ کسی کو نقصان نہیں دیتا۔ آزادی کا تحفظ صرف حکومت کے خلاف نہیں بلکہ سماجی دباؤ، مورل پولیسنگ اور اکثریتی جبر کے خلاف بھی ضروری ہے۔ فرد کو سچ بولنے سوال اٹھانے اور مختلف ہونے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔

مل کے نزدیک انفرادیت نہ صرف انسانی وقار کا جوہر ہے بلکہ سماجی و تہذیبی ترقی کی بنیاد بھی۔ وہ لکھتا ہے کہ اگر سب افراد ایک ہی سانچے میں ڈھال دیے جائیں تو سماج جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ یعنی ایک ایسا معاشرہ جو اپنے افراد کو صرف اطاعت گزار بنانے پر اکتفا کرے کبھی عظیم کارنامے سرانجام نہیں دے سکتا۔

مل نے اپنی کتاب میں ”سماجی جبر“ (Social Tyranny) کے تصور کو بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے۔ اس کے مطابق سماجی جبر ریاستی جبر سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ مل کے مطابق سماجی جبر (Social Tyranny) کی سب سے خطرناک صورت وہ ہے جو قانون کے بجائے نظام اخلاقیات، اخلاقی اقدار، ثقافت، مذہبی جذبات، رسم و رواج اور اکثریت کی رائے کے نام پر نافذ ہوتی ہے۔ یہ جبر بظاہر چھپا ہوا، غیر محسوس، غیر رسمی، اور ”اخلاقی“ ہوتا ہے لیکن درحقیقت فرد کی آزادی انفرادیت اور تخلیقی اظہار کا گلا گھونٹتا ہے۔

مثال کے طور پر پاکستان جیسے سماج میں اگر کوئی عورت روایتی لباس سے ہٹ کر کپڑے پہنے تو اسے ”بے حیائی“ یا ”مغرب زدہ“ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یعنی کوئی قانون تو اس پر قدغن نہیں لگاتا لیکن سماج اور سماجی دباؤ اسے ہراساں کر کے خاموش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ جبر قانونی نہیں مگر حقیقی ہے۔

یا اگر کوئی فرد کسی مذہبی رسم یا عقیدے پر سوال اٹھاتا ہے یا اس سے مختلف رائے رکھتا ہے تو اکثر اوقات اسے ”گستاخ“ ، ”مرتد“ ، یا ”لادین“ کہہ کر سماجی بائیکاٹ یا تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایسے معاملات میں ریاست تو خاموش رہتی ہے لیکن سماج انصاف کے نام پر سفاکی کرتا ہے۔

ایک فنکار یا شاعر اگر ایسے موضوعات پر لکھے جو رائج اقدار یا غالب بیانیہ سے مختلف ہوں (مثلاً صنف، مذہب، یا سیاست) تو اسے نہ صرف تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ بعض اوقات روزگار، عزت و شہرت اور جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ یہاں ”اخلاقی دباؤ“ تخلیقی اظہار کو کچل دیتا ہے۔ اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ نوجوان اگر کوئی غیر روایتی پیشہ اختیار کرنا چاہے مثلاً میوزک، تھیٹر، آرٹ، ڈرامہ انڈسٹری وغیرہ تو خاندان اور سماج کی توقعات اسے ”ناکام“ ، ”بے راہ رو“ ، یا ”بغاوت کرنے والا“ کہہ کر مسترد کر دیتی ہیں۔ یوں فرد اپنی خواہشات قربان کر کے ایک ”قابل قبول“ سانچے میں ڈھلنے پر مجبور ہوتا ہے۔ چونکہ یہ جبر ”قانونی پابندی“ کی شکل میں نہیں آتا اس لیے اکثر غیر محسوس رہتا ہے لیکن اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں۔ سماجی جبر فرد کو اپنے ضمیر، عقل، آزادانہ اظہار رائے اور تخلیقی قوت سے محروم کر دیتا ہے اور ایک ایسا ماحول پیدا کرتا ہے جہاں اختلاف ”گناہ“ اور انفرادیت ”جرم“ بن جاتی ہے۔

مل کی فکر ہمیں خبردار کرتی ہے کہ جمہوریت صرف ووٹ کا نظام نہیں بلکہ فرد کو اکثریت کے طرزِ فکر سے تحفظ دینے کا نام بھی ہے۔ اگر سماج صرف اطاعت پسند، خاموش اور ”قبول شدہ“ افراد پیدا کر رہا ہے تو وہ کسی خالص آمریت سے کم نہیں۔

سماجی جبر انفرادیت کا گلا گھونٹ دیتا ہے افراد کو مخصوص سانچوں میں ڈھالتا ہے اور مختلف طرزِ زندگی، اظہار یا عقائد کو مسترد کرتا ہے۔ اکثر لوگ اپنے خیالات اس لیے بدلتے ہیں یا چھپاتے ہیں کہ ”لوگ کیا کہیں گے“ ۔ یہ ایک غیررسمی قانون بن جاتا ہے جو انسان کی اندرونی آزادی سلب کر لیتا ہے۔

مل آزادیٔ اظہار کا دفاع انتہائی پرجوش انداز میں کرتا ہے۔ اس کے مطابق کسی بھی رائے کو دبانا ایک اخلاقی جرم ہے کیونکہ وہ رائے سچ بھی ہو سکتی ہے اور وہ رائے غلط ہو کر بھی سچ کو واضح کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے

اگر اس رائے میں جزوی سچ ہو تو تب بھی مکالمے کے ذریعے مکمل سچ تک پہنچنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

پاکستان میں اس کی جھلکیاں ہر روز دیکھی جا سکتی ہیں۔ اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ رکھنے والے افراد ریاستی جبر اور سختیوں کے باوجود بعض اوقات عوام کی نظروں میں ہیرو کے طور پر ابھرتے ہیں لیکن جو لوگ سماجی عقائد یا ثقافتی بندشوں پر سوال اٹھاتے ہیں وہ مشعال خان کی طرح ہجوم کے ہاتھوں مار دیے جاتے ہیں۔ مل کی فکر ہمیں بتاتی ہے کہ یہ دراصل وہ جبر ہے جو ایک جمہوری سماج کے پردے میں پنپتا ہے۔

پاکستان جیسے ریاست و سماج میں دوہرے جبر سے گزرنے والے افراد کے لیے ”On Liberty“ صرف ایک کلاسیکی متن نہیں بلکہ ایک فکری ہتھیار بھی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ اصل آزادی صرف حکومتی سنسرشپ کے خاتمے سے نہیں ملتی بلکہ یہ آزادی تب ممکن ہوتی ہے جب رائے عامہ، رسم و رواج اور مذہبی و ثقافتی آمریت کے خلاف بھی فرد کو تحفظ دیا جائے۔

یہ کتاب آج بھی ایک اہم سوال اٹھاتی ہے ”کیا ہم ایسے سماج میں رہتے ہیں جہاں ایک فرد کو سچ بولنے کی، مختلف ہونے کی، اور آزاد جینے کی اجازت ہے؟“

جب تک اس سوال کا جواب نفی میں ہے تب تک مل کی ”On Liberty“ ہمارے لیے ایک زندہ تحریر ہے۔ ایک مسلسل یاد دہانی کہ آزادی صرف جیتے جاگتے لوگوں کا حق نہیں، بلکہ سوچنے، سوال کرنے اور اختلاف کرنے والوں کا بھی ہے۔

Facebook Comments HS